Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کچھ نیا کر | سرفراز حسینی

by اکتوبر 30, 2017 کالم
کچھ نیا کر | سرفراز حسینی
Print Friendly, PDF & Email

جدت پسندی یا INNOVATION کسی شخص، ادارے کا وہ تخلیقی ہنر ہے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا باعث بنتا ہے، انسانی ذات سے لے کر ملکوں کی مادی ترقی میں اسی جدت پسندی کا ہاتھ ہے، کسی بھی عام چیز کو مختلف اور زیادہ جاذب طریقہ سے انجام دینا جدت کہلاتا ہے، ہمارے رہن سہن، لباس، خوراک، سفری سہولیات، کمیونیکیشن کے ذرائع میں انقلابی پیش رفت، ماحولیاتی خوبصورتی، جمالیاتی حسن، تہذیبی ارتقاء وغیرہ سب اسی جدت پسندی کا ہی مرہون منت ہے اور بلا شک و شبہ جس شخص میں بھی یہ صلاحیت اور ذوق پایا جاتا ہے وہ معاشرے کے عام افراد سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
اپنی فطری کیفیت میں جدت پسندی کی یہ خوبی نہایت مثبت اور معاشرے میں تیز رفتار ترقی کا باعث ہے لیکن جیسے جیسے معاشرہ مادہ پرستی اور مالی منفعت کا شکار ہوتا گیا یہ جدت پسندی منفی کاروباری رقابت میں تبدیل ہو گئی۔ جدت کی بجائے نقل پہ تکیہ شروع ہوا۔ کمپنیز نے بجائے بہتر کوالٹی پراڈکٹس پیدا کرنے کے اپنی مصنوعات کو صرف تشہیر کی بنیاد پہ دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی اور اس میں جھوٹ اور غلط بیانی کو بجائے اخلاقی جرم سمجھنے کے کاروباری ٹول کے طور پہ لیا گیا اور اس طریقہ سے INNOVATION کی بجائے مارکیٹس میں منفی کاروباری رقابت Negative Business Competition کی سوچ پروان چڑھنا شروع ہوئی جس کا محور دوسروں کی مصنوعات کی تکذیب کر کے اور اپنی شے کی خصوصیات کو مبالغہ اور جھوٹ کی حد تک بڑھا چڑھا کے پیش کرنا قرار پایا، اس کی ایک مثال ٹوتھ برش بیچنے والی کمپنیوں کا نیا نعرہ ” حلال ریشے” والا ٹوتھ برش ہے، ایک ہی میٹیریل سے بنے اپنے برش کو حلال اور دوسرے کو حرام قرار دینا اسی منفی رویہ کا مظہر ہے، آہستہ آہستہ یہ جدت پسندی اور تشہیری دروغ گوئی آپس میں اتنی خلط ملط ہوگئی کہ ایک عام شخص کے لۓ پہچاننا مشکل ہو گیا کہ تحقیق کی بنیاد پہ بنائی گئی اصل پراڈکٹ کون سی ہے اور جھوٹ کی بنا پہ بیچی جانے والی شے کون سی۔ رفتہ رفتہ مصنوعات کی مارکیٹ میں یہ فارمولا تقریباً رائج ہو گیا کہ جب تک اپنی پروڈکٹ کو سچ جھوٹ کی بنا پہ دوسروں سے ممتاز ثابت کر کے پیش نہیں کیا جاتا، اس کی بھاری بھرکم فروخت کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی اور یوں ” کچھ نیا کر” کا قانون اور فارمولا وجود میں آیا۔
جب دینی معاملات میں بھی پیشہ وری اور مادی مفاد پرستی عود کر آئی تو یہاں بھی یہی فارمولا ” کچھ نیا کر” دھڑلے سے استعمال ہونے لگا۔ عقیدت سے پڑھی جانے والی حمد وثناء اور نعت کو میوزک سے جدت دی گئی۔ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں خلوص و مودت کی بنا پہ پیش کئے گئے قصائد کو دقیانوسی خیال کرتے ہوئے فلمی گانوں کی طرز پہ گایا جانے لگا اور رفتہ رفتہ یہ منفی جدت پسندی اس حد تک بڑھنا شروع ہونئ کی خدا کی جانب سے اتارے گئے اور انبیاء علیہم الاسلام، ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہ السلام کی طرف سے پہنچائے گئے دین کامل میں بھی اپنی مرضی کی نئی نئی تحاریف کو جنم دے کے بیان کرنا شروع کر دیا گیا جس کا مطمع نظر صرف دوسروں سے جدا بیان کرنا، نظر آنا اور اپنی معاش کے لئے مارکیٹنگ کرنا تھا۔
پہلے پہل منبر پہ صرف مستند عالم دین کو ہی کچھ بیان کرنے کی اجازت ہوتی تھی لیکن آہستہ آہستہ کچھ نیا کرنے اور سننے کے چکر میں ہر طرح کے فنکار، اداکار، نیم ملا، گویئے، اور نام نہاد ذاکرین منبر اور اسٹیج کی رونق بنتے گئے جہاں اپنی جگہ بنانے، لوگوں کی توجہ اور داد حاصل کرنے کے لئے بجائے علم، تحقیق، صحیح تاریخ، قرآن، حدیث، سیرت انبیاء و معصومین پیش کرنے کے نئے سے نئے واقعات، نظریات، عقائد و افکار کو پیش کرنا شروع کیا گیا اور سامعین کی کم علمی اور جذباتی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی آسانی سے دین میں تحریف، منفی عقائد و نظریات اور رسم و رواج کو مذہب کے نام پہ معاشرے میں رائج کردیا گیا اور آج کیفیت یہ ہو گئی ہے کہ حق جو باطل سے، سچ کو جھوٹ سے اور تخیل کو حقیقت سے جدا کرنا مشکل ترین کام نظر آتا ہے۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور عام مسلمانوں کی دین حقیقی سے دوری کی بڑی وجہ بھی یہی خود پیدا کردہ "جدت” ہے جس میں شارٹ کٹ ٹوٹکوں کی مارکیٹنگ کی وجہ سے عوام کو تعلیمات اسلام اور عبودیت سے دور کرکے نعروں اور توہم پرستی کی حد تک کی خوش عقیدتی میں مبتلا کر کے کھلے عام جنت کی چابیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔
بدقسمتی سے "کچھ نیا کر” کی وبا کا شکار ہمارے نظریاتی اور فکری حلقے بھی ہوئے ہیں۔ معاشرے میں موجود مختلف طبقات اپنے افکار اور ننظریات کی تبلیغ اور انہیں عملی شکل دینے کیلئے افراد کی تربیت و کردار سازی کے پروگرام تشکیل دیتے ہیں، اگر نظریات دینی، انسانیت کی فلاح و بہبود اور مکتبی ہوں تو ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے کوئی بھی طریقہ کار جو عام فہم ہو، معاشرے میں رائج ہو، کسی فسق و فجور کی وجہ نہ بنتا ہو، اس مکتب کے جید بزرگان اس کے موافق ہوں اور وہ طریقہ پہلےسے کچھ نتائج بھی دے چکا ہو کو اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن بفرض محال اگر کوئی شخصیت، ادارہ، سسٹم یہ سمجھتا ہے کہ ان کے پاس قومی مسائل کے حل، عوام کی فکری و نظریاتی تربیت، معاشرہ سازی، انسانی حقوق کے تحفظ کا بہتر فارمولا اور طریقہ موجود ہے تو اس مسئلہ کا اخلاقی اور شائستہ حل یہی ہے کہ آپ پہلے سے جاری طریقہ کے مقابل اپنا لائحہ عمل پیش کریں، اس کی افادیت کے بارے میں دلائل دیں، پائلٹ پراجیکٹ کے طور پہ چھوٹے پیمانے پہ اپنے نظریات و افکار کو عملی شکل دیں اور اس کی کامیابی کی شکل میں اسے ایک مثال کی مانند معاشرے میں پیش کریں اور پھر اس کی قبولیت اور اس میں شمولیت کے لیے عوامی سطح پر دعوت عام دیں۔ عمومی انسانی جبلت میں یہ بات راسخ ہے کہ وہ کامیاب تجربات کو جلد قبول کرتا ہے اور اس طریقہ سے کوئی بھی جدید نظریہ معاشرے میں اپنی جڑیں جلد اور مضبوطی سے قائم کر لیتا ہے، اس کے باوجود اگر کوئی اپنی دلیل کی وجہ سے پرانی روش پہ ہی قائم رہے تو پھر بھی اسے مطعون نہی ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ اہداف، نصب العین اور اغراض و مقاصد اگر ایک ہوں اورفرق صرف روش کا ہو تو احسن ترین عمل آپس میں بہتر ورکنگ ریلیشن، تقسیم کار، ڈائیلاگ اور دلیل و برہان سے بات کی منتقلی ہے، عام فہم میں اسے مثبت رقابت Positive Competition کہا جاتا ہے جو بالآخر افکار و نظریات کی بالیدگی ، رشد اور نشوو نما کا باعث بنتا ہے جس سے معاشروں کی فکری ترقی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں اپنی فکر، نظری اور بات کو بیان کرنے سے پہلے دوسروں کو باطل، کافر اور گمراہ قرار دیا جایے وہاں شدت پسندی، تکفیریت اور معاشرتی ہیجان پیدا ہوتا ہے، آپ ایک ایسا گروہ حتیٰ کہ مضبوط گروہ پیدا کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے ہیں جو شخصیت اور اس کے بتائے ہوئے نظریہ پہ نہ صرف آنکھیں بند کرکے عمل کرتا ہے، اپنی جان مال سب کچھ اس پہ قربان کرنے کو ہمہ وقت آمادہ رہتا ہے لیکن اس کی ساری زندگی پھر اسی دائرے میں گزرتی ہے اور پھر اسے اس دائرے سے باہر ہر شخص گمراہ، بےدین، فاسد اور ناقابل اصلاح نظر آتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسے نظریات جہاں بھی اٹھے وہاں معاشرتی طور پہ تعمیر کم اور تخریب زیادہ ہوئی۔
وطن عزیز بھی بدقسمتی سے ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے جہاں عمومی طور پر سیاسی و مذہبی ہر محاذ پہ "کچھ نیا” ہی کیا جارہا ہے اور اس نئے کے چکر میں قوم گروہ در گروہ متشدد ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے جن کے نزدیک صرف وہ حق پہ ہیں باقی سب باطل۔ ضرورت کسی ایسے مصلح کی ہے جو بس ایک "نیا کام ” کرے، اس مظلوم ملت کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کا، مشترکات کو افروغ دینے کا، اختلافات پہ دلیل و برہان کو رائج کرنے کا، تحمل و برداشت کا، مل جل کے کام کرنے کا، تقسیم کار کا، نظریاتی تکفیر کی بجائے امت محمدی کیلیے اتحاد و وحدت کے پیغام کو عام کرنے کا۔

Views All Time
Views All Time
308
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہمارے جوتے - ظفر اقبال
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: