Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب – ثناء بتول

by اکتوبر 21, 2016 بلاگ
تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب – ثناء بتول
Print Friendly, PDF & Email

sana batoolآج نیٹ پہ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایف سی اہلکار نے ایک خاتون رپورٹر کو تھپڑ جڑ دیا۔ بات انتہائی غیر مہذب ہے۔ ایک تو رپورٹر اور پھر خاتون ۔جو بات سب کی نظر میں آئی وہ یہی ہے۔لیکن ایک منٹ ٹھہریئے پورے واقعہ کا جائزہ لیتے ہیں ۔خاتون نادرا آفس کے باہر موجود ہیں اور لوگوں کی مشکلات کے حوالے سے بات کر رہی ہیں۔ اسی دوران ان کا فوکس ایک اہلکار پہ ہوتا ہے جو وہاں ڈیوٹی پہ مامور ہے یقیننا اتنا پڑھا لکھا اور مہذب نہیں ہے کہ سمجھ سکے کہ رپورٹنگ ہو رہی ہے اس کے خلاف کارووائی نہیں۔ وہ کیمرہ مین کو ریکارڈنگ سے روکتا ہے خاتون چلاتی ہیں اور ایسا کرنے سے منع کرتی ہیں وہ ایک طرف چلا جاتا ہے خاتون کیمرہ مین سے کہتی ہیں ان صاحب کو دکھائیں اور غالبا شرٹ پکڑ کے کھینچتے ہوئے اس کا چہرہ کیمرے کی جانب کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔بس اسی لمحے اہلکار کی برداشت جو کہ پہلے ہی روانہ ہو چکی تھی بالکل جواب دے جاتی ہے اور خاتون کے چہرے پہ بری طرح سے تھپڑ پڑتا ہے۔اس کے بعد ریکارڈنگ ختم اور ایک بحث شروع ہو جاتی ہے ۔ایک قابل مذمت عمل کی، عورت کی عزت کی،اس پہ ہاتھ اٹھانے کی بد تہذیبی کی۔
یہاں ایک بات قابل توجہ ہے یہ واقعہ کسی عام خاتون کے ساتھ عام حالات میں پیش نہیں آیا بلکہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک رپورٹر کے ساتھ پیش آیا ہے ۔بات کام کی اور فرائض کی ہو رہی ہے تو ایک صحافی، رپورٹنگ کچھ اصول وضوابط کے تحت کرتا ہے ۔اس میں پہلی بات یہ ہے کہ جب آپ کسی واقع کی رپورٹنگ کر رہے ہیں اس کے بارے میں گہری آگاہی ہونا چاہیے ۔اسے اس جگہ کے ماحول کے مطابق ڈھلنا چاہیے کیونکہ جب تک وہ خود اس ماحول میں کمفرٹیبل نہیں ھو گا لوگ بھی پرسکون محسوس نہیں کریں گے اور بات کرنے پہ رضا مند نہیں ہوں گے۔تو ایک اچھے صحافی میں اپنی بات کو واضح، مختصر اور جامع انداز میں پہنچانے کا ہنر ہونا چاہیے ۔اسے ایمانداری سے دوسروں کی بات کو سننا اور پہنچانا چاہیے۔ مختصر یہ کہ اس کے کمیونیکشن کی مہارت اچھی ہونی چاہیے۔لیکن جائے وقوعہ پہ خاتون چیختی ہیں لڑاکا انداز میں ہاتھ لہرا لہرا کے کہتی ہیں ۔تمہارے اپنے گھر میں مائیں بہنیں نہیں ہیں ۔گارڈ نظر انداز کرنے کی کوشش میں آگے بڑھتا ہے لیکن خاتون پیچھا چھوڑنے پہ رضا مند نہیں ہوتیں۔
دوسری بات صحافی پر کچھ قانونی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کہ وہ لوگوں سے کسی موضو ع پہ بات کرتے ہوئے انہیں اسے مکمل طور پہ آگاہ کرے ،اعتماد میں لے تب ہی وہ حقیقت جان سکتا ہے۔لوگوں کو بنا بتائے ریکارڈنگ کرنا ایک طرح کا جرم ہے۔پھر وہ کسی انسان کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اس کی بات سنے یا جواب دے۔ اس منظر میں اس اصول کے بالکل الٹ ہوا ۔جس شخص سے انٹرویو کیا جا رہا تھا وہ نہ تو مجرم تھا نہ ہی ملزم کہ اس سے زبردستی کچھ پوچھا جائے۔
تیسری بات اخلاقی طور پہ صحافی کو نہ تو جانبدار ہونا چاہیے نہ ہی اس بات پہ زور دینا چاہیے کہ اس کی کہی گئی بات ہی درست ہے اس کا کام رپورٹنگ کرنا ہے رائے دینا نہیں۔لیکن جس جوش و جذبے سے وہ خاتون چیخ رہی تھیں یہی ظاہر ہو رہا تھا ان کا کہا حرف آخر ہے ۔گارڈ کو فوری طور پہ پینالیز کرنا چاہیے۔
ایسا نہیں کہ جو ہوا ٹھیک ہوا ۔بالکل غلط ہوا لیکن معاملے کے ایک پہلو کو دیکھ کے رائے دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا کہ وہ خاتون اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو دائرہ کار میں رہ کے پورا کر رہی تھیں ؟کیا وہ اس بات سے آگاہ تھیں کہ یہ انداز گفتگو ہر گز مہذب نہیں ہے؟ایک صحافی کے طور پہ ان کا انداز بہت ہی جارحانہ اور اشتعال انگیز تھا۔عدم برداشت ہمارے معاشرے کا خاصا بن چکی ہے۔بات صرف اتنی سی ہے کہ خاتون عدم برداشت کے اظہار میں تھوڑی شائستہ تھیں کہ مار دھاڑ نہیں کر رہی تھیں۔ جبکہ گارڈ کی عدم برداشت بہت درشتی لیے ہوئے تھی ۔لیکن دونوں کہیں نہ کہیں ایک ہی پیج پہ تھے ۔ٹی وی پہ یہ منظر دیکھا بھالا ہے جب اینکرز اپنی بات منوانے کے لیے اسے غیر ضروری طور پہ دہراتے ہیں۔اور یہ منظر بھی ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ رپورٹنگ کے دوران کیمرہ کے سامنے آنے والے لوگوں کو رپورٹرز نے تھپڑ جڑے ہیں ۔اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟اگر معاشرے کی کریم کہلائے جانے والے ،معاشرے کی درست عکاسی کرنے کے پاسبان ایسی روایت کا مظاہرہ کریں گے تو باقی سب کا کیا حال ہو گا؟

Views All Time
Views All Time
1054
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جیئے سندھ جیئے، سندھ وارا جیئن
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: