Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بھگوڑی – ثناء بتول

by اکتوبر 28, 2016 افسانہ
بھگوڑی – ثناء بتول
Print Friendly, PDF & Email

sana batool"یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ۔میں نے تم سے کہا تھا نہ نظر رکھو اس پہ،تمھاری ڈھیل نے یہ وقت دکھایا ہے۔وہ گھر سے نہیں بھاگی ہمیں ذلیل و رسوا کر گئی۔بے غیرت اس سے اچھا تو زہر دے جا تی ہمیں ۔بڑھاپے میں یہ دن دیکھنا باقی تھے۔”
اسلم کی آواز سے گھرکے در و دیوار لرز رہے تھے اور خالدہ بیگم مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی کہیں چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھیں ۔اس کا دل ایک بیوی ہونے سے پہلے اپنی اولاد کے لیے دھڑکتا تھا ۔ایک یہ بے چینی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔کس منہ سے وہ سب کا سامنا کرے گی اور دوسری طرف دل سے ہر لمحہ ایک ہی صدا بلند ہو رہی تھی کہ کرن جہاں بھی ہو خیریت سے ہو۔اسے یاد آ رہا تھا کہ کس طرح سے وہ چند دن سے کرن میں آنے والی تبدیلیوں پہ غور کر رہی تھی اس کا ضرورت سے زیادہ تیار ہو کے آفس جانا۔دیر سے گھر لوٹنا اور پھر گھنٹوں فوں پہ مشغول ہونا۔کئی بار سے ٹوک چکی تھی لیکن ایک معذور اور بیمار عورت جو اپنی بیٹی کے رحم و کرم پہ تھی اسے کتنی بار ایسا کہتی جبکہ کے جواب میں وہ بہت غصیلہ انداز اختیار کرتی۔
جانے سے پہلے اس کا لکھا گیا خط سامنے پڑا تھا ۔
پیاری ماں!
میں گھر سے جا رہی ہوں ۔مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا۔مجھے گھر میں کبھی وہ توجہ اور پیار نہیں ملا جس کی میں حقدار تھی۔ابا کا غصہ تو آپ کو پتا ہی ہے مجھے نہیں یاد کہ کبھی انہوں نے ہم سے پیار سے بات کی ہو یا ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھا ہو۔انہیں گالیاں دینے سے فرصت ملتی تو پیار کی بات کرتے ۔
آپ بھی ہمیشہ اپنی الجھنوں میں رہیں ۔ہر مشکل کا حل نیند کی گولی کھا کے سونے میں نہیں ہوتا۔آپ کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ میری ضرورتوں کو سمجھتیں ،مجھ سے پوچھتیں کہ پریشان کیوں ہوں؟آپ تو کبھی میری دوست بنی ہی نہیں ۔ نہ اچھی ماں بنیں ۔میں نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔مجھے بھول جائیے گا۔
کرن
خالدہ سوچ میں گم تھی ۔اس کی نظروں کےسامنے سب منظر گھوم رہے تھے ۔جب اس کی شادی ہوئی تو سسرال کافی بڑا تھا ۔سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ۔کھانا بنانا ،کپڑے دھونا،کچن صاف کرنا سب اس کی ہی تو ذمہ داری تھے اس کے بعد شوہر کی خدمت، اس کا خیال تو تھی ہی اس کی ذمہ داری۔پھر خدا نے اوپر تلے پانچ بیٹیوں سے نواز دیا ہر مرتبہ امید ہوتی کہ اولاد نرینہ ہو گی لیکن ہر مرتبہ نا امیدی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ساس کا رویہ ایک دم بدل جاتا۔اسلم کئی روز بات نہ کرتا اور وہ عجیب اذیت میں مبتلا ہو جاتی اسے آنے والی ننھی جان سے بے زاری ہونے لگتی جو اس کے ارمانوں کا خون کر دیتی۔وقت تلخیوں میں گزرتا چلا گیا۔سب بیٹیاں باپ کے سائے سے بھی ڈرتیں لیکن کرن سب سے نرالی تھی۔باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیتی اس کی موجودگی میں ہر وہ کام کرتی جس سے اسے چڑ ہوتی۔ماں کی گالیاں سنتی ،ہنستی رہتی۔اس کے اندر کے باغی کا علم اسلم کو شروع سے ہی تھا ۔ وہ اس سے باقی بیٹیوں کی نسبت زیادہ سختی کا رویہ اختیار کرتا۔لیکن وہ کرن ہی کیا جو ڈر جائے۔ ماں نے خاموش فاصلہ قائم رکھا کبھی کسی بیٹی کو اتنی لفٹ نہیں کروائی کہ بے جا فرمائش کرے۔لیکن دل تو اس کا ماں کا تھا ۔محبت سے لبریز ۔وہ دل سے چاہتی کہ ان کے لاڈ اٹھائے لیکن نہ تو وسائل اجازت دیتے نہ ہی حالات۔چار بیٹیوں کی شادی کے بعد کرن ہی اس کا سہارا تھی لیکن وہی ان کے منہ پہ کالک پوت گئی تھی۔
اسے ایک دم خیال آیا کہ کیا ہو چکا ہے دل غم سے بوجھل ہو گیا لگا کہ بس اب بند ہو جائے گا۔آخر برداشت کا یارا نہ رہا تو پھوٹ پھوٹ کے رو دی آج بولنے کی باری اس کی تھی ۔آج پہلی بار اسے اسلم سے خوف نہ آیا وہ چلا اٹھی
”کہاں تھے تم اس وقت جب بچیوں کو محبت چاہیے تھی۔توجہ کی ضرورت تھی؟ جب وہ حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتیں تھی کہ تم ان کر سر پہ شفقت سے ہاتھ پھیرو؟تمہیں کیوں کرن کی آنکھوں کی خواہش نظر نہیں آئی کہ اسے توجہ اور پیار ملے۔میں ماں ہوں اگر وہ واپس نہ آئی تو ساری زندگی میری آنکھیں دروازے کو دیکھتے گزر جائیں گی ۔میں کبھی نہیں سو پاوں گی۔اسے ڈھونڈ کے لاؤ۔”
اسلم خاموشی سے سنتا رہا اور پھر تلاش کا عمل شروع ہوا ۔تین دن کی تلاش کے بعد کرن گھر میں تھی ۔خاموشی سے چارپائی پہ لیٹی نہ بول رہی تھی نہ ہی کوئی حرکت کر رہی تھی ۔خالدہ اس دیکھ کہ خاموشی سے آنسو بہا رہی تھ۔جوان جنازہ تھا لیکن لڑکی کا۔کچھ خواتین نے اسے مبارکباد بھی دی کہ عزت سے بیٹی کا بوجھ کم ہو گیا۔کئی نے حوصلہ کرنے کو کہا ۔کسی نے نہیں پوچھا کہ اس کا کلیجہ کتنا چھلنی ہوا ؟وہ کیسے قاتلوں کے درمیان سانس لے گی ؟وہ کب تک اس کرب میں جئے گی۔۔۔۔۔۔۔ اسلم پر سکون تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی تھی ایک گندے وجود کا بوجھ دھرتی سے کم ہو گیا تھا اور اس کی عزت بھی بچ گئی تھی۔

Views All Time
Views All Time
1269
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انجانا احساس
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: