امید قوی اور انتظار طویل | سمی بلوچ

Print Friendly, PDF & Email

نوٹ : ڈاکٹر دین محمد بلوچ جوکہ بلوچ دانشور اور ایکٹوسٹ ہیں آٹھ سال سے جبری لاپتا ہیں۔ان کی بیٹوں نے اس عید کے موقعہ پہ کراچی پریس کلب کے باہر ان کی بازیابی کے لئے احتجاجی کیمپ لگایا۔سمی بلوچ ڈاکٹر دین محمد کی بڑی بیٹی ہیں۔جو اب انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ہیں۔انھوں نے یہ مضمون اپنے والد کے بارے میں لکھا جو کہ نجانے کیوں پاکستانی مین سٹریم میڈیا پہ جگہ پانے میں ناکام رہا۔ہم اسے یہاں سمی بلوچ کے شکریہ کے ساتھ شایع کررہے ہیں۔

میرے بابا، ہمارے بابا، پیارے بابا، مہلب کے بابا، منصور کے بابا، ہم سب کے بابا۔ لیکن آج ہم سب ان کی دستِ شفقت سے محروم، ان کی مہر و محبت سے محروم، ان کی باہوں کے لمس سے محروم، ان کی دست گیری سے محروم، ان کے سایے سے محروم، بے رحم وقت کے رحم وکرم پرصرف ایک آس پر زندہ ہیں کہ ’’ہمارے بابا، پیارے بابا آئیں گے، ضرورایک دن آئیں گے۔‘‘ لیکن نجانے کب ہماری زندگیوں میں وہ لمحہ آئے گا جب دروازہ کھولو تو سامنے اپنے بابا کو پاؤں، اس حسرت میں صرف ہمارے گھر کے دروازے نہیں بلکہ دل کے دروازے، آنکھوں کے دروازے، خیالات کے دروازے کھلے ہیں، سب منتظر ہیں۔ اپنے اس عظیم ہستی کے دیدارکیلئے، جو نہ جانے کن حالات میں ہم سے ملنے کیلئے بے تاب ہیں، وہ کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ کہاں ہیں، سب جانتے ہیں۔ بس وقت و حالات نے سب کی زبان پر مہر لگادی ہے۔ وہ بتانے سے قاصرہیں وگرنہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے بابا کہاں ہیں؟ ہم جانتے ہیں لیکن وہ ہمارے دسترس میں نہیں ہیں۔ اگر بابا نہیں آسکتے کاش قدرت ایسا وسیلہ پیدا کرتا کہ ہم ایک بار تو اپنے ابو کا دیدار کرتے۔ شاید ان بے برقرار آنکھوں کو ذراسا قرارتو آجاتا۔ دل کے ارمانوں کی طوفان ذرا ساتھم جاتا۔
ہم بہن بھائیوں نے بہت خوبصورت وقت گزارا ہے۔ مشکے بہت خوب صورت ہے اور ہمارے ابو نے مشکے کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے تھے کیونکہ وہ ہم سے بہت پیار کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے سب کچھ، کیونکہ ہم نے بچپن میں مشکے کے کھجور کے خوبصورت باغات، جنگلوں اور بہتے ہوئے ندیوں میں اپنی سہیلیوں اور دوستوں کے ساتھ بہت خوبصورت زندگی گزاری ہے۔ باباکو تعلیم کا بہت شوق تھا غربت کے باوجود انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دوران اسکول و کالج بے پناہ غربت کے باوجود اپنی تعلیم ادھوری نہیں چھوڑی جیسا کہ اکثر بلوچ غربت اور بے روزگاری جیسے مشکل حالات سے مجبور ہوکر اپنی تعلیم چھوڑدیتے ہیں مگر ہمارے بابانے اپنی پڑھائی کو اچھی طرح مکمل کیا۔
ہمارے بابا اپنے دوستوں کو بہت چاہتے تھے۔ ان کے دوستوں کی تعدادکے بارے میں زیادہ نہیں جانتی لیکن اسکول کے بعد کالج اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنے کے دوران ڈاکٹر اللہ نذر اور شہید ڈاکٹر منان جان ہمارے بابا کے بہت اچھے دوست تھے۔ ڈاکٹر اللہ نذر اور ڈاکٹر منان جان میرے بابا سے ایک سال سینئر تھے، مگر اسکول سے لیکر میڈیکل کی ڈگری کے حصول تک وہ محفل، مجلس اور سیاست میں ایک ساتھ تھے۔ گو وہ بی ایس او کی جد وجہد ہو یا بی این ایم کا زمانہ ہو۔ کچھ باتیں مجھے پھر اُن کے دوستوں و سیاسی ساتھیوں کی تحریر و مجالس سے معلوم ہوئیں۔
ہمارے بابا اپنے پڑھائی کے ساتھ ساتھ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں بھی شامل تھے۔ بی ایس او جیسی بلوچ نوجوانوں کے پرکشش تنظیم کے پلیٹ فارم پر انہوں نے بہت کام کیا۔ سیاسی سرگرمیاں، جلسے، ریلیاں، سرکلز اور سیاسی تربیت جیسے کام ان کی زندگی کا اہم حصہ بن گئے تھے۔ ہر وقت بابا کے دوست ہمارے گھر آتے جاتے تھے۔ بابا کے دوست ہم سے بہت پیار کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بی ایس او آزاد کے زمانے میں جیل و زندانوں سے رہائی کے بعد ڈاکٹر اللہ نذر اور واحد قمبر جیسی عظیم شخصیات ابو سے ملنے کے لئے آئے۔ بابا کے اپنے دوستوں کے ساتھ پیار اور شفقت بھری محفلیں آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ بہت چھوٹی ہونے کے باوجود وہ ہمیں پاس بٹھاتے، بابا کے دوست ہمارے لئے بابا جیسے تھے۔ جب بابا میڈیکل آفیسر بنے تو انہوں نے ڈاکٹر بننے کو لوگوں کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ڈاکٹری ان کے لئے ایک پیشہ نہیں بلکہ فرض تھا، عبادت تھی۔
بلوچستان میں غربت کا کیا حال ہے؟ پسماندہ علاقوں میں لوگ کس طرح سے زندگی بسرکرتے ہیں؟ سب کو معلوم ہے۔ بابا سے لوگوں کی تکلیف نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔وہ لوگوں کی علاج کے لئے وقت بے وقت گھر سے نکل جاتے۔ ذاتی سواری پر دور دور تک علاج کے لئے جاتے تھے۔ جن لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتاتھا بابا نہ صرف ان کا مفت علاج کرتے تھے بلکہ دوائیوں کا پیسہ بھی اپنی جیب سے بھرتے۔ انہیں اپنے گھر جگہ دیتے اور خود ان کی خدمت کرتے رہتے۔
مجھے بابا کی جس خاصیت نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے وہ ان کی بہادری ہے۔ بابا بہت ہی بہادر اور دلیر شخص ہیں، ان کا دل محبت سے بھرا ہے۔ وہ بہت ہی پیار کرنے والے خوش مزاج اور زندہ دل انسان ہیں۔ بابا کی وجہ سے ہمارا گھرانہ مکمل سیاسی گھرانہ بن چکا تھا۔ ہر وقت بابا کا کوئی نہ کوئی سیاسی دوست ہمارے گھر میں موجود ہوتا تھا اور سیاسی کام بحث مباحثے ہوتے تھے۔ کبھی کبھار بہت گرماگرم بحث ہوتی تھی لیکن اکثر اوقات بابا خود سیاسی کاموں کے لئے گھر سے باہر رہتے تھے۔ لیکن وہ جب بھی گھر آتے تو سارے گھر کا ماحول بدل جاتا تھا، گویا گھر میں عید کاسماں بندھ جاتا۔ ہمارا گھر خوشیوں کا آنگن ہوتا۔ بابا کی ہنسی مذاق سے گھر گھونج اٹھتا تھا۔
جب ابو کے دوست گھرمیں موجود ہوتے تو سیاسی بحث مباحثے کے بعد وہ آپس میں ایک دوسرے کو چھیڑتے تھے۔ خاص کرڈاکٹرمنان جان کے ساتھ ان کی دوستی بہت عجیب تھی۔اکھٹے ہوتے تو زیادہ تر گرما گرم بحث کرتے تھے لیکن بعدمیں خوب مذاق کرتے۔ ایک دوسرے کوستاتے تھے اور ان کے ہنسی مذاق و دلچسپ باتوں سے ہم لوگ بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ لمحات یاد کرکے ہم مزید بے چین ہو جاتے ہیں۔
اب یہ سب کچھ بس میرے لئے یاد بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ اب نہ گھر باقی رہا نہ گھرانہ، سب ابو کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے بکھر گئے ہیں۔ ہمارا گھرانہ دوبارہ کب آباد ہوگا، کوئی ہمیں بتائے گا؟
ہمارے بابا کا خاص شوق تو مطالعہ تھا وہ نہ صرف پڑھتے تھے بلکہ ہمارے لئے آسان کتابیں بھی لاتے تھے۔ ویسے ہمیں کبھی ڈانتے نہیں مگر پڑھائی کے مسئلے پر ہم پر سختی کرتے تھے۔ انہیں شعر و شاعری اور موسیقی سننا بہت پسند تھا۔ مگر زیادہ تر شہیدوں کے گن گاتے تھے، شفیع، اسد، عمر۔ کبھی کبھی میں نے یہ گنگناتے سنا، ’’ ننا تینا اریر زندان ٹی‘‘۔ اسطرح کے کئی بلوچی اور براہوئی زبان میں گیت کی نغمہ سرائی کرتے تھے۔
مشکے میں اچھی پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے جب سال 2005ء کو پڑھائی کے لئے ہمیں خضدار لے گئے تو ہم نے اپنی ابتدائی تعلیم وہیں سے شروع کی۔ اس وقت میری بہن مہلب جان، بھائی منصور جان بہت چھوٹے تھے۔ ابو ہمیں اسکول کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر میں پڑھاتے اور سیاسی تربیت دیتے تھے۔ وہ اکثر ہمیں اپنے پاس بٹھاتے تھے، جب ہم تھوڑے بڑے ہوگئے تو ہمیں دنیا کے تمام آزادی پسند اور جدوجہد کرنے والے رہنماء مثلاً میکسم گورکی، لینن اور لیلیٰ خالد جیسے رہنماؤں کے بارے میں آگاہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر اچھا انسان بننا چاہتے ہو، لیلیٰ خالد جیسا نام کمانا چاہتے تو خوف کو ہمیشہ کیلئے اپنے ذہن سے نکال دو۔ یہ انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ اس وقت شاید ہم ابوکی باتوں کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے بلکہ میں اپنے بابا کو بعض اوقات دوستوں کے ساتھ سیاسی گفتگو کرتے ہوئے دیکھتی تھی تو میں حیران رہ جاتی تھی کہ کیوں و ہ اس حوالے سے بات کرتے ہیں؟ یوں ہم اُن کی گفتگو میں حصہ بن جاتے تھے۔
جب ہم خضدار میں تھے تو تنظیمی سرگرمیوں کی باعث بڑی تعداد میں ابو کے سنگت ہمارے گھر آتے۔ بابا اکثر ہمیں ملواتے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شہید واجہ غلام محمد اور شہید ڈاکٹر منان جان ہم سے بہت پیار کرتے تھے۔ میری چھوٹی بہن مہلب جان کی نظمیں اور دوسری باتوں کو بہت شوق سے سنتے تھے اور وہ جب بھی گھر آتے تو ضرور مہلب سے کچھ نہ کچھ سننے کی فرمائش کرتے۔
پھر حالات بدل گئے۔ 2006ء کو جب نواب اکبر خان بگٹی شہید ہوئے، اسکے بعد بالاچ مری شہید ہوئے تب ہڑتالیں، جلسے جلوس اور احتجاج بھی روز روز بڑھ گئیں۔ حالات بھی دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے تھے۔ اس کے بعد لوگوں کو لاپتہ کرکے مسخ شدہ لاش پھینکنے کا سلسلہ بھی شرو ع ہوا۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم بھی اسی طوفان کی لپیٹ میں آنے والے ہیں اور ہمارا گھر بھی اجڑے گا۔ ہم بھی دربدر ہوں گے۔ کبھی سڑکوں پر، کبھی پریس کلبوں کے سامنے، کبھی لانگ مارچ کررہے ہوں گے۔
سن 2009ء میں شہید غلام محمد، لالا منیر اور شیر محمد کو لا پتہ کرنے کے بعد انکی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی گئیں تب بلوچستان بھر میں یہ حالات آگ کی طرح پھیل گئے جس کا بجھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ ایسے حالات کے سلسلوں کو دیکھ کر ہم بھی خوف زدہ ہو گئے کہ کہیں باقی سیاسی رہنماؤں کی طرح ہمارے بابا کو کوئی نقصان نہ دے۔ ہم جب بھی بابا کو روکنے کی کوشش کرتے تو بابا صرف یہی کہتے تھے کہ میں اِس غلامی کو کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟ میں کیسے گھر میں خاموش بیٹھ سکتا ہوں جبکہ میری ماں کی عزت نفس پاکستان کے ہاتھوں پامال ہورہی ہے۔ جب ہم پوچھتے اگر آپ کو کچھ ہوا تو ہمیں کون سنبھالے گا تو وہ جواب دیتا تھا کہ ’’جن کے باپ لاپتہ یا شہید ہوئے ہیں ان کے بچوں کون سنبھالے گا؟‘‘
اب ہم اتنے چھوٹے نہیں تھے ہمیں اپنی بابا کی شخصیت کا معلوم ہوچکا تھا کہ وہ کیسے انسان ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ ان کا عمل ہمیں بتا چکا تھا کہ انہیں بلوچستان کی ہر ایک چیز سے محبت ہے۔ کیونکہ وہ بلوچستان کی خوبصورتی، اس کے زمین و آسمان، سورج، سرسبز وادیوں اور پہاڑوں کے اندر گدانوں میں سادہ زندگی گزارنے والے لوگوں کے بارے میں تعریف کی کوئی کسر نہیں چھو ڑتے۔وہ اکثرکہتے کہ میں بلوچستان کی ہوا میں خوشبو محسوس کرتا ہوں۔
جون 2009ء کو میری بیماری کی سبب بابا نے ہمیں کوئٹہ بلایا۔ اس وقت کئی عرصے بعد ہم نے بابا کو دیکھا۔ بابا سے مل کے ہم بہت خوش ہوئے مجھے اچھے ڈاکٹروں کو دکھایا تین چار دن بعد اسے اورناچ ان کے ہسپتال سے بار بار فون کال آرہے تھے کہ آپ ضروری کام کے لئے آجائیں۔ وہ اورناچ جانے کی تیاری کر رہے تھے، جب ہم نے ان سے نہ جانے کی ضد کی کہ کچھ دن رُکیں اتنے دنوں بعد ملے ہیں تو انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ جلدی آئیں گے، آپ لوگ تسلی رکھیں۔ اس بار آپ لوگ جو کہیں گے جو مانگیں گے میں آپ لوگوں کو لے کردوں گا۔ پھر شاید زندگی میں کوئی موقع نہ ملے اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنے کا۔۔۔
اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ بابا ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ ہوچکا تھا کہ ان کے ساتھ بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ جب وہ جانے کیلئے ہمیں رخصت کر رہے تھے۔ میرے دل میں عجیب سی گھبراہٹ ہورہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ یہ شام جو ڈھل رہی ہے اسکے بعد کوئی نیا سورج طلوع نہیں ہوگا اور مجھے اس طرح محسوس ہو رہا تھا کہ میں اپنے بابا کو آخری بار رخصت کر رہی ہوں۔ جب میں انکے ہاتھ چوم رہی تھی تو میرے آنسو خود بخود ٹپکنے لگے۔ بابا مجھے دیکھ کر زور سے ہنسنے لگے اور کہا کہ ’’میں جلدی آؤں گا میرے لئے بالکل پریشان نہیں ہونا۔‘‘ بابا کے جانے کے بعد میں کوشش کے باوجودمیں اپنے دل کی گھبراہٹ کم نہیں کر سکی۔ میں نے تسلی کے لئے بابا کو فون بھی کیا انہوں نے کہا کہ وہ خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔
اگر کوئی میری ان باتوں کا جائزہ لے تو وہ ایک بار ضرور سوچے گا کہ ہم بہت کمزور انسان ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ کوئی انسان پیدائشی طور مضبوط نہیں ہوتا بلکہ اسے وقت اور حالات مضبوط بننے پر مجبور کرتے ہیں۔
مؤرخہ 28 جون 2009ء کو علی الصبح اجالا ہونے سے قبل اورناچ سے فون آیا کہ رات کو پاکستانی خفیہ ادارے ڈاکٹر دین محمد کو لے گئے ہیں۔ اس خبر نے ہماری زندگیوں کو ایسی تاریکیوں میں دھکیل دیا جن میں آج تک ہم بھٹک رہے ہیں۔ اُس دن سے لے کرآج تک ہم اپنے بابا کی راہ تک رہے ہیں لیکن آج تک کسی بھی انسان نے بابا کی کوئی اطلاع ہمیں نہیں دی۔ ہم ایک ایسے انتظار میں زندگی گزار رہے ہیں جس کا کوئی انجام ہمیں نظر نہیں آتا۔
ہمارے گھر کی تمام خوشیاں ہمارے بابا سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہی ہمارے کفیل ہیں، وہی ہمارے سرپرست۔ بابا کے جانے سے زندگی دوزخ بن گئی ہے۔ ہماری پڑھائی بہت متاثر ہو ئی۔ چھوٹی بہن مہلب اپنے اسکول کا ہوم ورک کرنے کے بجائے ہروقت مصلح (جاہ نماز) پر بیٹھ کر ابو کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگتی ہے۔ جس منصور کو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا تھا، اس کے کندھوں پر پورے گھر کی ذمہ داری آگئی۔ میری ضعیف دادی اماں بی بی پری عاجزی اور بڑھاپے میں اتنی کمزور ہو چکی تھیں جو اپنے ہڈیوں کا وزن نہیں اٹھا سکتی تھی لیکن ابو کے لاپتہ ہونے کی پریشانی کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ ان کے لیے اٹھانا نا ممکن تھا۔ امی جان کا حال اس سے زیادہ برا ہے۔ وہ ہر وقت خیالوں میں گم سُم رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم سب کی ذاتی زندگی اور احساسات مرچکے ہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ زندگی ہم سب کے لئے ایک بوجھ بن چکی ہے نہ جی سکتے ہیں اور نہ مرسکتے ہیں۔ ہر دن ہمارے لئے موت برابر ہے۔ بس ایک ہی آس ہے کہ ہمارے بابا دوبارہ آئیں گے۔ پھر ہمارا گھر خوشیوں سے چہک اٹھے گا۔ میں نے آج تک بابا کی لائی ہوئی ساری چیزیں سنبھال کررکھی ہیں؛ بابا کی لائی ہوئی وہ بالیاں، انگھوٹھی اور بھی بہت ساری چیزیں آج بھی میری پاس ہیں۔ لیکن کاش میں ان لمحوں کو بھی اس طرح سجائے رکھ سکتی جومیں نے ان کے ساتھ بتائے تھے۔ مگر مجھ سے بھول ہوئی کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ ہم زندگی بھر ساتھ رہیں گے، اور خوشیاں ہی خوشیاں مناتے رہیں گے۔ غموں کا سایہ بھی ہم پر نہیں آئے گا، یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ زندگی خود ایک غم بن جائے گی اور ہم غموں کو سہنے کے لئے زندہ رہیں گے۔
مجھے نہیں معلوم کہ میرے بابا ان آٹھ سالوں میں کہاں اور کس حال میں ہیں؟ انکے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کیا ہورہا ہے؟ لیکن یہ ضرور جانتی ہوں یا میرا یقین کہتا ہے کہ وہ آج بھی پاکستان کی زندانوں کی سیاہ کوٹھیوں میں سانس لے رہے ہیں۔ اس کے آنے کی امیدیں اُس وقت تک زندہ رہیں گی جب تک ہم زندہ ہیں۔ ہمیں ایک بات پر فخر ہے کہ ہم ایک بہادر انسان کی اولاد ہیں اور میں اپنے ابو کی بہادری اور قربانیوں کو دیکھتی ہوں تو آج بھی میرا سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
442
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جبری لاپتا شبیر بلوچ کے نام دوست کا خط | دوستین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: