Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

عشق کے شہر کا کچھ روز مکیں میں بھی ہوں

Print Friendly, PDF & Email

عشق کے شہر کا کچھ روز مکیں میں بھی ہوں
آج کل جس جگہ فطرس ؑ ہے وہیں میں بھی ہوں
اک زیارت کے سبب سدرہ نشیں میں بھی ہوں
ہے جو شہ رگ کے قریں اُس کے قریں میں بھی ہوں
صبح عاشور کے چڑھتے ہوئے سورج نے کہا
فتحِ مکہ کی قسم صبحِ یقیں میں بھی ہوں

دیکھ کر جون ؑ کو یوسف ؑ بھی یہ کہتے ہوں گے
آپ سا حُسن کہاں لاکھ حسیں میں بھی ہوں

دیکھ کر سوئے فلک کرب و بلا نے دی صدا
ایک تُو ہی تو نہیں عرشِ بریں میں بھی ُہوں
ہر عزاخانے کی پیہم یہ صدا ہے اکبر
کربلا والوں کے حصے کی زمیں میں بھی ہوں

شاعر: باوا حسنین اکبر

Views All Time
Views All Time
209
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: