Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ڈربہ چینل اور برائلر سونامی – ڈاکٹر صلا ح الدین حیدر

ڈربہ چینل اور برائلر سونامی – ڈاکٹر صلا ح الدین حیدر
Print Friendly, PDF & Email

salah-ud-din-haiderاس وقت کاروانِ برائلر ویگن کے پنجروں سے نکل کر ڈربے میں اُتر چکا تھا۔ مرغ زادہ ٹرکی کی کلغی سے خون اور علامہ مرغِ پُراسرار کی چونچ اور پروں کی رنگت سے جلال چھلک رہا تھا اور جانباز اصیل پٹھوں نے ان کے گرد گھیرا بنا رکھا تھا۔ نعرہ ہائے ککڑوں کوں کی فلک شگاف کڑکڑاہٹوں میں ایک برائلر سونامی بڑھ رہا تھا۔ علامہ مرغ پراسرار نے فرمایا ’’برائلرانِ ڈربہ! مبارک ہو کہ آپ چوزگان کا شرافت اور پاکیزگی کی وجہ سے بنے گا چرغہ۔ آپ رزق حلال کے منصب پر فائز ہونے کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ اس مقام کے باعث زاغ و زغن، درّاجو کہ گمراہ ہیں اور غیر پاکیزہ زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور چاہتے ہیں کہ شیرازہِ برائلر منتشر ہو تو وہ موج اڑائیں۔ لیکن آپ یقین رکھیں کہ دنیا کی کوئی طاقت روحِ برائلر کو مغلوب نہیں کر سکتی، گزشتہ شب مجلسِ چوزہ میں آنے والے راہیِ مُلکِ ڈرم ہوئے، اور اب نئے مرغانِ پاکیزہ کا کارواں بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ سوزو گداز کی لے کے ساتھ آبدیدہ ہو کر فرمایا، ’’مجھے دعوتِ ککڑوں کوں سے پیار ہے۔ ‘‘
اے برائلر! تم یہ جاننے کی کوشش مت کرو کہ حقیقتِ ڈربہ کیا ہے کیونکہ یہ حقیقت تو تمہاری کلغی ہی میں مستو رہے۔ اسے پہچانو، اور یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کرو کہ کاروانِ برائلرکہاں سے آیا ہے۔ انکوبیٹر کو کس نے بنایا اور روسٹر کو کس نے سجایا ہے؟ بس یہ بات یاد رکھو کہ ایک پراسرار ہاتھ تمہاری شہ رگ کے قریب ہے اور یاد کرو کہ علامہ مرغِ اصیل کی بانگِ ڈربہ میں کیا طاقت تھی۔ کہ غرّاتے ہوئے باگڑ بلوں پر لرزہ طاری ہو گیا، اور ایک بلونگڑے پر تو ایسا وجد طاری ہوا کہ ڈربے کے باہر تڑپنے لگا اور کہنے لگا ’’علامہ جی! مجھے ڈربے میں بلا لیجئے‘‘۔ اور بے شک یہ علامہ مرغِ اصیل کے تخیل کی پرواز کا کرشمہ ہے کہ ہر لمحہ ڈربے سے آ رہی ہے دمادم صدائے ککڑوں کوں۔ اے برائلرانِ ڈربہ! کاروانِ مرغانِ پاکیزہ کی منزل قریب آ پہنچی ہے۔ ڈربے کی سلامتی انہی آنے والوں کے دم قدم سے ہے۔ اور آپ کو مبارک ہو کہ جذبہ شوق، شقاوت میں تڑپتے پھڑکنے کی آرزو بھی رنگ لانے والی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر مختصر خطاب کا مدعا یہ ہے کہ اس حقیقت پر روشنی ڈالی جائے کہ مرغان پاکیزہ کی زندگی کا حقیقی مدعا کیا ہے۔ ویسے تو کتاب ’’ڈرم کا منظر مع ذبح ہونے کے بعد کیا ہو گا‘‘ میں مَیں نے حیاتِ برائلر کے مختلف مراحل کی تفہیم کر دی ہے۔ تاہم اس حقیقت کو یاد رکھو کہ شبستانِ مرغانِ پاکیزہ ایک عارضی قیام گاہ ہے اور اس کو دائمی حیات سمجھ لینا منطقی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ اے برائیلر! تمہاری پاکیزگی ہی کی وجہ سے نظام کاتی، ٹوکا، ترازو کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اور یہ مرغانِ پاکیزہ ہی کا اعزاز ہے کہ انہیں انصاف کے تقاضوں کے ساتھ ترازو میں تول کر ذبح کیا جاتا ہے۔ (اس مرحلے پر ایک اصیل پٹھا جذبات کی رو میں بہہ کر کہہ اٹھا میں برائلر ہوں، بے شک میں برائلر ہوں) اے برائلر ! تم اپنی کلغی میں چھپی آگ کو پہچانو، اور شعائرِ ڈربہ پر عمل کرتے ہوئے پراسرار ہاتھ کا اثبات کرو، تم یاد کرو کہ پروفیسر فیلکن نے علامہ مرغِ اصیل کے فلسفہِ کلغی کی تشریح کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ کلغی ناقابلِ تسخیر ہے۔ اور علامہ مرغِ اصیل جذب مستی سے اس نکتے کو پا گئے تھے۔ سو ائے برائلر! پہاڑوں پر اونچی پرواز کرنے والے عقابوں اور چیلوں کے قریب مت آؤ، کیونکہ یہ مُردوں کی ہڈیوں کی تلاش میں خوار خجل ہو رہے ہوتے ہیں، اور مرغِ سلیمان کی لمبی چونچ اور سنہری کلغی سے بھی مرعوب نہ ہوں کیونکہ اس پرندے نے بھی گمراہی کا راستہ اختیار کیا اور قانون ڈربہ سے نافرمانی کی۔
اے برائلر! جب تمہاری کلغی قانونِ ڈربہ کا اثبات کرتی ہے تو تم پراسرار ہاتھ کے نائب بن جاتے ہو اور تحریک غلبہ برائلر کے ترجمان بن جاتے ہو۔ اور فنا پر غالب آ جاتے ہو۔ مقام مذبح سے گزرنے جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر ٹھنڈا ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ لیکن روح برائلر زمان و مکاں کی حدود سے تجاوز کر جاتی ہے، مکاں ڈربہ ، پنجرا، پولٹری شاب کچھ بھی نہیں، حیات بعد از ڈرم ہی اصل زندگانی ہے۔
نعرہ ہائے ککڑوں کوں، کچھ اور اونچی آوازیں کڑکڑاؤ، کلغی میں استقامت ہو تو ککڑوں کوں موسیقیت سے لبریز ہوتی ہے یہ مقامِ مذبح سے گزرنے کی آواز ہے جو کلغی کو پراسرار بناتی ہے۔ لیکن افسوس کہ تمہارے پوٹے اب لذتِ شوق شقاوت سے سرشار نہیں، تمہاری گردنوں میں چُھری سے وصل کی آرزو نہیں، اے برائلر! تم درختوں پر بیٹھنے والے زاغ، زغن کی زندگی سے دور ہونے کی وجہ سے ہی پاکیزگی کا شرف رکھتے ہو، اور وہ جو درختوں پر آشیانے بناتے ہیں حرام کھانے کی جستجو میں ان کی چونچوں پر سیاہی برس رہی ہوتی ہے۔ بوم طوطی، سرخاب، لم ڈھینگ، چمگادڑ کو کیا خبر کہ ضبط کلغی کے مراحل کیا ہیں۔ اس مرحلے پر تحریکِ جنبش کلغی کے قائم مقام امیر البرائلراں ڈربے میں تشریف لے آئے، تو چونچوں پر بوسوں کا تبادلہ ہوا۔ اور علامہ مرغ پراسرار نے ان کی دستار کلغی کو ٹھونگوں کے اعزاز سے نوازا، ڈربہ اصیل کڑکڑاہٹوں سے گونج اٹھا۔

Views All Time
Views All Time
514
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ڈھینگلے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: