Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آئیے امہ! مل کر بیٹھتے ہیں

by اکتوبر 19, 2016 بلاگ
آئیے امہ! مل کر بیٹھتے ہیں
Print Friendly, PDF & Email

sakhawat hussainاس وقت جتنی دشمن، مسلم امہ ایک دوسرے کی ہے اتنی نفرت شاید ہلاکو خان کے دل میں بھی مسلمانوں کے لئے نہیں رہی ہوگی۔ یمن میں کسی جنازے پر بمباری ہو جائے ،سینکڑوں مارے جائیں تو اس ظلم کے خلاف بھی بولنے والا فرقہ واریت کا شکار نظر آتا ہے۔اگر کوئی شام کے مسئلہ پر بولے، فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کا واویلا کرے تو اس پر بھی مخصوص لیبل لگ جاتا ہے۔ اب مغرب کو مسلمانوں کو الگ کرنے اور ان میں پھوٹ ڈالنے کی قطعاََ کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔یعنی اس وقت مسلماں ، مسلماں کے مرنے پر بھی دکھ کا اظہا ر نہیں کر سکتا۔ اگر آ پ ایک فرقے کو مانتے ہیں تو آپ صرف اسے کے پیروکاروں کے مرنے پر رنجیدہ ہوں گے۔ آپ کو کتے کے مرنے کا افسوس ہوگا لیکن دوسرے فرقے کے مرنے والے کو آپ کتے سے بھی بدتر تصور کریں گے۔ آپ کی بلا سے وہ مرتا ہے تو مرجائے ایک شیطان کم ہوا دنیا سے۔آج مسلمان ہی مسلمان کا سب سے بڑادشمن ہے۔پھر وہ محمد بن قاسم کو آوازیں دیتا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے قصے سناتاہے جبکہ اسے موقع ملے تو دوسرے مسلماں سے سانس لینے کا حق ہی چھین لے۔
شاید ایک پرانا شعر اس طرح پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
"مقید کر دیا یہ کہ کر تھنک ٹینک کو مغرب نے
مسلماں کو ڈسنے کو مسلماں ہی کافی ہے”

کہنے کو تو دنیا میں دوارب کے قریب نام نہاد مسلمان موجود ہیں مگر ان میں سے آدھے سے زیادہ ایکدوسرے کے ایسے دشمن ہیں کہ اگر ایک ملک میں درجنوں افراد ظلم کا شکار بن بھی جائیں تو اس پر مذمت تک نہیں کی جائے گی اور سینکڑوں افراد کے خون پر بھی اظہار شکر کرتے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔مگر سوال ہے یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟کب تک مسلمان آپس میں لڑ کر ایکدوسرے کو ختم کرتےرہیں گے۔کسی زمانے میں سنتے تھے مسلماں دین کے لئے سب کچھ کر سکتا ہے مگر موجودہ دور کا مسلماں دیں کے ساتھ سب کچھ کر سکتا ہے۔
روس اور امریکہ ، چین اور بھارت، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا او دیگر تمام ممالک جن کے آپس میں شدید قسم کے اختلافات ہیں وہ تمام اختلافات بھلا کرمشترکہ بڑے مفاد کے لئے ایک پیج پر آسکتے ہیں مگر مسلم امہ کو شاید یہ توفیق نصیب نہ ہواور اگر حالات ایسے رہے تو لگتا ہے مسلم امہ ایک پیج پر کبھی یکجا نہیں ہو سکے گی۔
دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لئے انکے خلاف قرآنی آیات اور حدیثیں ڈھونڈنے والے نے کبھی ایکدوسرے کو حق پر ثابت کرنے کے لئے بھی کسی حدیث یا قرآن کا سہارا لیا ہے۔میں نے جب بھی فرقے میں ملبوس انسان کو دیکھا ، نفرت سے لیس ہی دیکھا ہے۔اس کی پوری کوشش اپنے فرقے کو جاننے سے زیادہ مخالف فرقے کو جاننا ہے تاکہ وہاں سے ایسے ثبوت جمع کرسکے جس سے دوسرا فرقہ بے بس دکھائی دے اور یہی اسکی جیت ہے اسکے نزدیک یہی حق کی جیت ہے۔بھلے اس سے انسانیت ہار جائے محبتیں شکست زدہ ہوجائیں ۔آپ حالیہ واقعات ہی لے لیں ہزارہ کی چار خواتین کو بس سے نکال کر مارا جاتا ہے اور اس پر اتنا شور نہیں اٹھتا جتنا سیرل ایشو پر ملک میں طوفا ن اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔یعنی لاشوں سے زیادہ سیرل اہم ہے اس ملک کے مسلم صحافی برادری کی نظر میں۔
اس وقت دو ارب مسلماں دنیا کو دہشت گرد ہی لگتے ہیں ۔دنیا کی سب سے بڑی تیل کی معشیت پر قابض یہ مسلماں معدنیات سے مالا مال مگر ان کے ذہن تاریک تر ہیں ۔ایسا لگتا ہے انکے ذہنوں میں محبت کا نور کبھی اتر اہی نہیں۔داعش کا قیام اور شام ،یمن، اور مختلف ممالک میں مسلمانوں کی آپس کی لڑائیاں ۔آپس میں ہی دست گریباں مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے کا وجود بھی اب ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ انہی نام نہاد مسلمانوں سے ہی ہے۔آپ اس وقت دیکھ لیں ،پوری دنیا میں جنگیں مسلمانوں کے درمیان ہو رہی ہیں۔ ساتھ ساتھ مسلمانوں پر دہشت گر د کا لیبل بھی تھوپا جارہا ہے۔ یورپ ، امریکہ اور افریقہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے۔ کیا واقعی مسلماں دنیا میں تنہا ہو چکا ہے یا اسے تنہا کیا جاچکا ہے۔آ پ خوب لڑ لیجئے۔ اسلحہ تو انکا بکتا ہے ناایک دوسرے کو مارئیے، پریشان مت ہوں جو بچ جائیں گے انکے لئے ڈینگی، سوائن ، زیکا اور نہ جانے کون کونسے وائرس تیار بیٹھے ہیں۔
پیارے ملک میں تمام مسلمان دیوبندی، شیعہ، وہابی، بریلوی اور سنی میں تقسیم ہیں ۔ کسی بھی دشمن کو یہاں کسی بھی قسم کی سازش کی قطعا ضرورت نہیں۔ ہم کافی ہیں ایک دوسرے کو مارنے کے لئے بس اورتھوڑی سی عدم برداشت چاہئیے۔پاکستانی مسلمان پہلے نفرت سے مرتا ہے جوبچ جائے بم دھماکوں میں مرجاتا ہے پھر بھی کوئی زندہ رہ جائے تو اسے فرقے مار دیتے ہیں۔ بقول اقبال شایدیہی حالت رہی توایک دن دنیا پوچھے گی۔ ’’تھے کہیں دنیا میں مسلم بھی موجود‘‘
کیا ہم اسی طرح نشان عبرت بنے رہیں گے۔ ہم اسی باپ کے بچوں کی طرح ہوگئے ہیں جو ہر بات پر ایک دوسرے سے لڑتے تھے۔ ہم بھی لڑتے ہیں اور جس دن ہمارے پاس لڑنے کو وجہ ختم ہوگی تب تک ایسا نہ ہو ہم ختم ہو چکے ہوں۔ تعلیم، صحت، ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی میں پوری دنیا سے مسلم امہ پیچھے ہی رہی ہے ہم نے پورا زور ہتھیاروں پر لگایا ہے اسی لئے ہم نے بارود تو حاصل کر لیا ہے مگر علم حاصل نہیں کر سکے۔ نہ ہم دوسرا بغداد بنا سکے نہ کوئی علمی شہر آباد کر سکے ہم آج بھی انہی باتوں پر بحث کر رہے ہیں جن پر یورپ برسوں پہلے بحث کرتا تھا۔
کونسے مسلم کہاں کے مسلم ؟کہاں ہیں اللہ کی رسی کو تھامنے والے ؟اور فرقہ بندی سے بچنے والے۔کہاں ہیں وہ لوگ جو اتحاد کی باتیں کرتے ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جو امت کی بات کرتے ہیں؟ کیا کوئی ہے جو اس بکھری امت کو مزید بکھرنے سے بچا سکے؟اسکے دل میں نفرتوں کی بجائے علم بھر دے۔ ایکدوسرے کی محبت بھر دے۔ یہ امت فرقوں کے تعصب سے نکل آئے جب بھی کوئی ان کو لڑانے کی کوشش کرے یہ کہیں ہم خدا کی رسی کو تھامے ہوئے لوگ ہیں ہم پر نہیں چل سکتے یہ ہتھیار۔یہ شیعہ ، سنی، دیوبندی اور بریلوی سے پہلے مسلماں ہوں۔ اب آپ خود سوچئے برسوں سے اسی نفرت کی وجہ سے آپ ایکدوسرے کو ماررہے ہیں اور حاصل کیا ہوا۔ کیا آپ ختم ہوئے؟ نہیں نا۔ کیا نفرتیں ختم ہوئیں؟ نہیں۔پھر کب تک اس نفرت کو نسل در نسل منتقل کرتے رہیں گے کب تک کچھ لوگوں کی دکان چمکاتے رہیں گے۔
اقبال نے خوب کہا تھا.
"فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں”

Views All Time
Views All Time
317
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا | ام رباب
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: