Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سالگرہ مبارک قلم کار – سخاوت حسین

سالگرہ مبارک قلم کار – سخاوت حسین

اگست 2016 کا مہینہ تھا۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ راتیں دن کی نسبت قدرے بہتر لگ رہی تھیں۔ کچھ دن سے دماغ میں تخلیقی خیالات کا طوفان اٹھتا ہوا نظرآرہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے دماغ کہہ رہا ہو۔ جب تک ان خیا لات کو صفحوں کی زینت نہیں بنایا جائے گا وجود اضطرابی کیفیت سے باہر نہیں آسکے گا۔ تبھی میٹرو کے حوالے سے تحریر کا ایک خاکہ سا ذہن میں بنا اور قلم اٹھایا تو جیسے صدیوں کا مسافر جو صحرا میں بھٹک رہا تھا اس کو دفعتا سرخ روشنی دکھائی دی ہو۔ جیسے موت کے دہانے کھڑے مریض کو کسی نے زندگی کی نوید سنا دی ہو۔ مجھے بھی ایسا لگا۔قلم نے ذہن کے ارادوں کو پڑھ لیا ہو۔ قلم چلتا گیا اور میں قلم کے ساتھ صفحوں پر اپنے خیالات بکھیرتا گیا۔ پہلی تحریر مکمل ہوئی ۔ تبھی خیال آیا اسے لیپ ٹاپ میں بھی لکھا جائے۔ لیپ ٹاب میں تحریر لکھی ۔ ایک دو دن تحریر یوں ہی پڑی رہی۔ پھر خیال آیا اسے کہیں چھپنا چاہئیے۔ گوگل کیا لیکن کچھ خاص مدد نہیں ملی ۔
رات کا وقت تھا۔ پورا جگ سونا سونا لگ رہا تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ اندھیری رات میں سناٹے نے زندگی کو اور خوفزدہ بنا دیا تھا۔ کبھی کبھار ہمسائے کے کتے کے بھونکنے کی آواز آجاتی تھی تو لگتا تھا دنیا میں کوئی ذی روح میرے علاوہ بھی موجود ہے۔گھر میں اکیلا اوپر سے اندھیری رات ۔ کسی خوفناک مووی کا سین ہی لگ رہا تھا۔ لیپ ٹاپ کھولا تبھی "قلمکار” لکھ کر سرچ کیا کہ شاید قلمکاروں کی کوئی تنظیم ہو جو آرٹیکلز چھاپتی ہو۔ تبھی گوگل سے قلمکار سے آشنائی ہوئی۔ جیسے جیسے آرٹیکلز پڑھتا گیا ۔ فرط خوشی سے جذبات بے قابو ہوگئے۔ اندھیری رات جیسے روشن سی ہوگئی۔ ارے یہاں تو میرے جیسے ہی لوگ آرٹیکلز لکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے میں بھی یہاں لکھ سکتا ہوں۔ ویب سائیٹ پر ہی وی میل ایڈریس دیا ہوا تھا۔ لہذا پہلی تحریر ای میل کرنے کے بعد ٹک ٹک گھڑیوں کی سوئیوں پر روز نظر دورانے لگا۔ تبھی قلمکار کا فیس بک کا پیج لائک کیا اور ایک دن تحر یر کی بارے جاننے کے لئے فیس بک سے میسیج کر دیا۔ مزید دو دن بعد تحریر کا لنک وصول ہوگیا۔ مانو جیسے اندھے کو آنکھیں مل گئی ہوں۔ بہرے کی سماعت لوٹ آئی ہو۔ گونگے نے بولنا شروع کردیا ہو۔ ایک دن تو اپنی تحریر کو ہی پڑھنے میں گزارا۔ پھر دوستوں کو مرعوب کرنے کے لئے تحریر کا لنک نہ صرف شئیر کیا بلکہ ان کو باقاعدہ میسیج بھی کیا۔
دوست بھی جیسے ششدر رہ گئے تھے۔ "یا ر تو تو بڑا چھپا رستم نکلا۔ ہمارے سامنے تو ایسے شو کرتا تھا جیسے اردو بھی لکھنی نہیں آتی۔ یار اب تو صحافی بن گیا ہے تو ہمیں نظر انداز تو نہیں کرے گا نہ۔ یا ردیکھ ہمارے علاقے کے کتنے مسائل ہیں ان کے بارے میں بھی لکھنا۔ یار ٹریٹ تو بنتی ہے۔ بھئی تم صحافیوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا۔ ویسے اب تو کیا چینلز پر اینکر بن کر آئے گا” اس جیسے اور اس سے ملتے جلتے کتنے سوالات اور دوستوں کی آرا روز گوش گزار ہوتیں۔
میں نے زندگی میں پہلی آن لائن تحریر قلمکار کو بھیجی ۔ میں نے لکھنے کا سفر قلمکار سے کیا۔ آج میں سہہ ماہی میگزینز میں بھی لکھ رہا ہوں۔ ڈائجسٹ میں بھی تحاریر لگ رہی ہیں اور مختلف ادبی جرائد میں بھی افسانے اور کہانیاں چھپ رہی ہیں۔ لیکن میرا پہلا سفر قلمکار سے شروع ہوا۔ میں نے تخلیقی سفر کی پہلی بس قلمکار کی ہی پکڑی۔ مجھے لکھنے پر اکسانے والے مجرم بھی قلمکار کے احبا ب ہیں۔ میں آج جوتھوڑا بہت لکھ لیتا ہوں تو قلمکار کا ہی ہاتھ ہے اس میں۔ قلمکار نہ ہوتا تو شاید میرا ادبی سفر کبھی شروع ہو ہی نہیں سکتا۔
مجھے یاد ہے جب میں نے افسانہ قلمکار پر لگا یا تھا تو عامر بھائی نے اسے اپنی وال پر پوسٹ کرکے کتنی تعریفیں کی تھیں۔ اگرچہ ان دنوں میں فیس بک سے تھوڑا دور تھا۔ لیکن کچھ مہینے بعد عامر بھائی کی رائے پڑھی تو لگا واقعی میں بھی اچھے افسانے لکھ سکتا ہوں۔ میں نے قلمکار پر ہی اپنے ذہنی استعداد اور فکر کے حساب سے تجزئے کئے۔ میں نے یہیں سے سیاسی بصیر ت حاصل کی۔ خواہ فقمیر راحموں ہو یا عامر حسینی ۔ یا باقی جتنے احباب جو قلمکار پر لکھتے ہیں۔ کبھی خط کی صورت کبھی تجزئے کی صورت ، کبھی تبصرے کی صورت، کبھی طنزیہ تحریر کی صورت۔
میں نے یہ بھی دیکھا کہ قلمکار کو شہرت کی چنداں پرواہ نہیں یہاں ملنگ لوگ ہی بیٹھے ہیں۔ جو بس ایک بیٹھک سی سجاتے ہیں اور باتیں کرکے چلے جاتے ہیں نہ ہی قلمکار نے کبھی پیجز کو سپانسر کرنے کی کوشش کی نہ ہی ویب سائیٹ کوالیکسا کے معیار تک لے جانے کے لئے کوئی تگ و دو کی۔ قلمکار نے صرف قلمکاروں کی ہی روش اپنائی۔ یہاں دائیں بازو کی تحاریر بھی شائع ہوئیں جبکہ بائیں بازو نے بھی برابر کا موقع حاصل کیا۔
یہاں آپ کو سنجیدہ لوگ ملیں گے۔ جن کو شہرت کی کوئی طلب نہیں۔ جن کو اپنے آپ کو منوا نا نہیں۔ جن کو ٹائٹل مین نہیں بننا۔ جن کو شہرت کی بیماری نہیں۔ مقبولیت کی لت نہیں لگی۔ جو درویش ٹائپ کے ہیں۔ یہاں جو بھی لکھتے ہیں وہ من سے لکھتے ہیں آپ یہاں لکھتے ہیں اس کے علاوہ سو جگہوں پر بھی لکھیں قلمکار کی ٹیم کبھی پوچھے گی بھی نہیں کہ جناب ہماری ویب ساییٹ کے علاوہ کہیں اور کیوں لکھ رہے ہو۔
قلمکار کی سالگرہ آرہی ہے۔ ماشااللہ اللہ اسے اور ترقی دے اور یہاں لکھنے والوں کو ایک فیملی کی طرح آپس میں جوڑے رکھے۔ آپس میں محبیتں بڑھیں اور ہم سب کو سچ لکھنے کی توفیق عطا کرے جو کہ قلمکار کی ریت ہے۔ یہاں آپ کو پارہ چنار سانحے پر غم مناتے لوگ ملیں گے تو مشعل خان کےلئے بھی آواز بلند کرنے والے نظر آئیں گے۔یہی قلمکار کی خوبصورتی ہے اور یہی خوبصورتی قائم رہنی چاہئیے۔ اسی طرح محبتوں کے ساتھ ہمارا یہ سفر مزید جاری رہے۔ سالگرہ مبارک ہو قلمکار خوب ترقی کرو۔ پھلو پھولو۔ سالگرہ مبارک

Views All Time
Views All Time
347
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: