Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رہنما کی تلاش – سخاوت حسین

by اپریل 12, 2017 بلاگ
رہنما کی تلاش – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

اس دنیا میں ہر شخص کو لیڈر کی تلاش ہوتی ہے۔ ہم سب کسی رہنما کے تعاقب میں آدھی زندگیاں ضائع کرتے ہیں اور باقی آدھی زندگی وہ رہنما ہماری ضائع کرتا ہے۔ میں جب پیدا ہوا مجھے سب کی باتوں سے لگا مجھے کسی رہنما کی ضرورت ہے۔ کسی راہبر کی۔ میں نے آنکھ کھولیں تو سب سے شفیق رہنما کو مسکراتے اپنی نظروں کے سامنے پایا۔ سب اسے میری ماں کہہ رہے تھے۔ وہ گھنٹوں ٹک ٹک نظریں جمائے پیار سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس کے پورے وجود میں مجھے سوائے محبت کے کوئی جذبہ نہیں ملا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ میں نے زندگی دیکھی۔ پھر ایک اور شخص نے محبت کے گھونٹ میرے حلق میں اتارے لوگوں نے اسے میرا باپ کہا۔ اس کی شقیق نگاہیں میرے ننھے سے وجود پر ساکت تھیں۔ کیا یہی تھے میرے رہنما۔ شاید مجھے میرے رہنما مل گئے تھے۔ لیکن ایک دن میری ماں نے کہا بیٹا اصلی رہنما درسگاہ میں ملتا ہے۔ وہ زندگی کا درس پڑھاتا ہے۔ وہ زندگی کے معانی سمجھاتا ہے۔جب میں اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا اس کا نام استاد ہے۔
اس نے لفظوں اور بڑے سے بورڈ پر مجھے آویزاں کر دیا۔ میں اس کا نصاب بن گیا۔ وہ میرا حساب بن گیا۔ اس نے شہد کی گھٹی بنائی۔ اس میں علم کا تڑکہ لگایا اور میرے حلق سے نیچے اتار دیا۔ اس نے مجھے سکھایا۔ دنیا میں انسان سب کچھ سہہ سکتا ہے لیکن ظلم نہیں سہہ سکتا۔ میں اس کی ذات سے جب اترا تو میرے اندر اس کی ذات کے سارے اثرات تھے۔
میری ماں نے بتایا۔ بیٹا تمھیں ابھی بھی رہنما نہیں ملا۔ جب تم کوئی کام دھندہ کرو گے نا وہاں رہنما ملے گا۔ میں نے ایک گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت شروع کردی۔ شاید وہاں موجود غصیلا شخص میرا رہنما تھا۔ اس نے مجھے سکھایا دولت انسان کا اصل رہنما ہے۔ میں نے اس کا درس لیا اور اپنے حلق سے نیچے اتار لیا۔اس نے مجھے بتایا مجھے کس طرح ذاتی جائیدادیں بنانی ہیں۔ کس طرح اپنی زندگی بہتر بنانی ہے۔ مجھے صرف اپنا سوچنا ہے۔ یہ میرا رہنما کس طرح ہوسکتا تھا ۔
میں نےایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب شروع کردی۔ مجھے بتا یا گیا یہاں کا باس میرا رہنما ہے۔ مجھے اس سے رہنمائی لینی ہے۔ اس نے مجھے بتایا ۔ میں نے ہمیشہ کسٹمر کو رہنما سمجھنا ہے۔ میں نے جھوٹ بولنا ہے جسے اس نے مارکیٹنگ کہا۔ میں نے ہر صورت میں چیزیں بیچنی ہیں۔ مجھے صرف منافعے سے غرض ہونی چاہئیے۔ انسانیت اور فلاح جیسی باتیں صرف بے معانی باتیں ہیں۔ میں وہاں سے بھی تنگ آگیا۔
میں اسے چھوڑ کر عبادت خانے میں گھس گیا۔ کسی نے مجھے کہا میرا رہنما وہ پگڑی والا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو وہاں پیش کیا اور اس کی شاگردی اختیار کی۔ مجھے بتایا گیا۔ یہاں صرف فرقے کا نظام ہے۔ یہاں فرقوں کا اکھاڑہ لگتا ہے۔ مجھے بھی فرقوں کی ریسلنگ لڑنی ہے۔ مجھے اکھاڑ پچھاڑ کرنی ہے۔ مخالف فرقوں کو پچھاڑنا ہے۔ کیا یہ شخص تھا میرا رہنما
چلتے چلتے میں ایک جلسہ گاہ پہچنا وہاں ایک شخص تقریر کر رہا تھا۔ وہ بڑی خوبصورت باتیں کر رہا تھا۔ شاید یہ تھا میرا رہنما۔ میں اس کے قدموں میں بیٹھ گیا اور اس کی شاگردی اختیار کرلی۔ جلد ہی مجھے پتہ چلا اس کے بعد مجھے اس کے بیٹوں کی شاگردی کرنی ہوگی اور یہ نسل در نسل سلسلہ چلے گا۔ یہ شخص ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور میں اس کے تعاقب میں زمیں پر۔ وہ بہتریں گھر میں رہ رہاتھا اور میرے پاس چھت بھی نہیں تھی۔ میں وہاں سے بھی تنگ آگیا۔
کسی نے مجھے بتایا کچھ دانشورجو علم اور عقل کی باتیں کرتے ہیں وہ ہیں اصل رہنما۔ میں دانشوروں کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے بہت سی خوبصورت باتیں کہیں۔ لیکن ان کا طرز بھی سیاستدانوں والا ہی تھا۔ ان کا کام دنیا کے انسانوں کو آپس میں لڑانا تھا۔ محبتوں کے پیغام کے لبادے میں نفرتیں پھیلانا تھا۔ انسان کو انسان سے لڑانا تھا۔ کیا یہ تھے میرے رہنما ۔
میں تنگ آگیا تھا۔ ماں تو کہتی تھی اس دنیا میں جو بھی تمہارا رہنما ہوگا مخلص ہوگا ۔ وہ ہمیشہ خطروں کو مجھ سے پہلے اپنے سینے پر لے گا۔ وہ خود تو بھوکا سوئے گا لیکن مجھے بھوکا سونے نہیں دے گا۔ وہ بہت سادہ سا شخص ہو گا۔ اس کے لفظوں میں مٹھاس ہوگی۔ اس کا عمل بہترین ہو گا وہ انسانیت کا طرفدار ہو گا وہ انسانیت کی بات کرے گا۔ وہ صرف محبتیں پھیلائے گا۔ وہ اخلاص کی مٹی سے گوندھا گیا ہو گا۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے درد ہوگا۔ وہ سچائی کی بات کرے گا۔ وہ جنگ سے نفرت کرے گا۔ وہ ہتھیاروں سے نفرت کرے گا۔ وہ انسانوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھے گا۔ وہ انسانوں کے درمیاں انسانوں کے لئے رہے گا۔
یہی سوچ کر وہ پھر کہیں ملے گا میں پھر تلاش پر نکل کھڑا ہوا ہوں۔

Views All Time
Views All Time
255
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   لیہ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: