Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

غریب اور محبت – سخاوت حسین

by مارچ 19, 2017 افسانہ
غریب اور محبت – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

سنو تم نے محبت کی ہے کبھی۔ شرماؤ مت کبھی تو کی ہوگی۔ کوئی لڑکی پسند آئی ہوگی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کبھی کسی نے تمھاری زندگی میں چاہت کا رنگ نہ بھرا ہو۔
صاحب، تمھارے لئے محبت کی "م” معجزہ ہمارےلئے "م” مزدوری ، تمھارے لئے محبت کی ح "حساب دل "ہمارے لئے حرکت مسلسل، ، تمھارے لئے محبت کی "ب” بے خودی ہمارے لئے بے روزگاری، تمھارے لئے محبت کی "ت” تلاطم ہمارے لئے تلخی۔ کیسی محبت ، محبت بھی تب اچھی لگتی ہے جب پیٹ پر سکون کی اوس گرے۔
سنو محبت تو ہر حال میں خوبصورت ہے۔ محبت پھول کی مہکتی ڈالی کا پیغام ہے۔ محبت وفا کا سرخ پھول ہے۔ محبت دل کی کتاب ہے۔ محبت حسن کا انتساب ہے ۔ محبت شوخ سحاب ہے ۔ محبت یادوں کا حساب ہے۔ محبت عقل کی رکاب ہے۔
ہاہا، وہ ہنسا۔صاحب یہ جو ادب ہوتا ہے نا بڑا ہی بے ادب ہوتا ہے۔ یہ مطمئن لوگوں کے چونچلے ہیں۔ جب تمھارا پیٹ بھوک سے اندر ہونا شروع ہوگا نا تو یہ سارا ادب خود بخود باہر آجائے گا۔
صاحب ،محبت ضرورت کی پیڑ پر سجی دکھ کی کتا ب ہے۔ میری ماں میری نظروں کے سامنے مری ۔ جانتے ہو کیوں، کیوں کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ محبت میری بے بسی کی کتا ب ہے صاحب۔ اور تم کہتے ہو نا۔ کیا ہے محبت تو سنو۔ میری بہن بن بیاہی گھر کے آنگن میں روز اپنے آنے والے دولہا کا انتظار کرتی ہے۔ ہر دستک کو خوابوں کے شہزادے کی دستک سمجھتی ہے۔ اس کی عمر انتظار میں ڈھل گئی ہے۔ محبت کرنے والے جدید مہذب لوگو، یہ میرا تم سے خطاب ہے۔ کیا تمھارے دلوں کی محبت میرے گھر کی دہلیز پر دم توڑ گئی۔ جب تم میرے گھر کی دہلیز پر جہیز کی لسٹ لے کر آئے تو میں سوچنے لگا ۔ جس گھر میں آٹا انسان سے قیمتی ہو۔ وہاں جہیز کی چیزیں تو نایاب نوادرات سے قیمتی ہوں گی۔ صاحب تمھارے سب سوالوں کا یہی جواب ہے۔
اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ پھٹی قمیض جس میں جگہ جگہ گندگی کے داغ لگے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کئی ہفتوں سے نہیں نہایا۔ جانتے ہو صاحب میری ایک ماں تھی۔ ہفتوں کھانستی تھی۔ سب کہتے تھے اسے دائمی کھانسی ہے۔ دائمی کھانسی ہونہہ، غربت بھی دائمی ہماری بیماریاں بھی دائمی۔ کچھ کہتے تھے ماں کو کالا یرقان ہے۔ ٹی بی ہے۔ اور پتہ نہیں کتنے نام تھے اس کی بیماری کے۔ ایک دن ہنس کر کہنے لگی۔ بیٹا شکر کر ، تیری ماں کو بیماری کی وجہ سے اتنے نام مل گئے ہیں۔ لیکن صاحب جب وہ شدید بیمار ہوئی تو میری خواہش تھی کہ مر جائے۔ یہ میری نہیں ہر ضرورت مند کی نہ چاہتے ہوئے بھی یہی خواہش ہوتی ہے۔ یہ جو تمھارا سسٹم ہے نا اس میں انسان مر تو سکتا ہے لیکن جی نہیں سکتا۔ میں مزدور شخص کس طرح پالتا اسے۔ کس طرح علاج کرتا۔ یہ جو تم بڑی بڑی باتیں کرتے ہو نا۔ محبت یہ ہے محبت وہ ہے۔ تو صاحب اس ملک میں کتنے امیر لوگ ہیں۔ جانتے ہو کتنے امیر لوگ جن کے گھروں میں دس دس گاڑیا ں ہیں۔ ایسے امیر بھی ہیں جو ذرا سا بیمار ہو تو باہر ملک چلے جاتے ہیں۔ ان کا خدا الگ اور ہمارا الگ کیوں ہےان کا نظام الگ اور ہمارا الگ کیوں ہے۔ کیوں یہ تضادات ہیں۔ ہم کیوں زمیں پر رینگنے والے کیڑے اوروہ روشنی کی دنیا کے ٹمٹماتے چراغ۔ جاتنے ہو صاحب اس دور میں سب سے نادر چیز کیا ہے۔ وہ ہے امارت اور پیسہ۔ یہ ہے تمھارے سسٹم کا تحفہ۔ڈیموکریسی۔ ہونہہ۔ بس غریب کو کریٹ کرنے والا ڈیمو سسٹم۔ جس کی ہر شاخ پر ظلم کی داستان ہی لکھی ہے۔
سنو، مسائل ہر ایک کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن دوست ہم سب انسان ہی ہیں۔ سسٹم ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ خدا نے کب کہا ہے۔ یہ کیپٹلزم یہ ڈیمو کریسی ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ضرورتوں کے لئے بنائے ہیں نا۔ خدا نے کب کہا ہے کہ انسانوں کو اتنے گروہوں میں تقسیم کردو۔تم اتنے تلخ مت بنو۔ محبت اتنی بری بھی نہیں ۔
صاحب میں مزدور آدمی ہوں۔ مجھے تو اتنا پتہ ہے۔ سب سے بڑا محلے کا ایم این اے ہے۔ ایم پی اے ہے۔ وہ کروڑ پتی ہے۔ غریب کہاں بڑا ہوتا ہے ۔ غریب کے ہاں دکھ بڑے ہوتے ہیں اور سکھ کسی تھیلسمیا ہوئے بچے کی طرح کبھی بڑھتے ہی نہیں۔ صاحب غریب شخص کی چوکھٹ پر ضرورت محبت سے پہلے جوان ہو جاتی ہے۔ آپ غریب سے پوچھتے ہو وہ محبت میں اتنا کاہل کیوں ہے۔ تو سنو محبت بعد میں ضرورت پہلے۔ خدا نے بھی دل چھوٹا سا اور پیٹ بڑا سا بنا یا ہے۔ چھوٹے سے دل کو سمجھایا جا سکتا ہے لیکن بڑے سے پیٹ کو کیسے سمجھائیں۔ محبت کے بغیر جیا تو جا سکتا ہے لیکن روٹی کے بغیر نہیں۔ سچ پوچھو تو غریب کی دہلیز پر محبت جب دستک دیتی ہے تو ضرورت دستک کو موڑ دیتی ہے۔ ہم دلوں کو توڑ کر ضرورت کی چیزیں جوڑتے ۔
میری بہن کو کئی لوگ دیکھنے آئے۔ لیکن جب بھی آتے ان کی آنکھوں میں دولت کی حرص دیکھی میں نے۔ ان کا بھی کیا قصوروہ بھی ہماری طرح غریب ہی ہیں نا اور سچ پوچھو تو غربت گدھ سے زیادہ خطرناک ہے۔ گدھ مردہ انسان کو نہیں چھوڑتی جبکہ غربت زندہ کو۔ ہم ایک دوسرے کو ہی نچوڑ نچوڑ کر کھا جا تے ہیں۔
ہمارے محلے کا ایک غریب بچہ تھا۔ جانتے ہو۔اس کی ماں کے پاس پیراسیٹامول شربت کے پیسے بھی نہیں تھے۔ صاحب محبت مضبوط کرتی ہے۔ تو یہ محبت امیروں کو غریبوں سے کیوں نہیں ہوتی۔ روز ان کی گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے حسرت سے تکتے مزدور نما بچے۔ روز عزت کی نیلامی کرتی وہ معصوم بچیاں۔ روز ضرورت کی خاطر کسی دہشت گردی میں استعما ل ہونے والے وہ معصوم پھول۔ صاحب یہ محبت کے مستحق نہیں کیا۔ ہاہا اور تم کہتے ہو محبت خوبصورت ہے۔کیسی خوبصورتی صاحب۔جب غریب کے گھر سے جنازہ نکلتا ہے تو دوسرا غریب خوش ہوتا ہے کہ آج کچھ اچھا کھانے کو ملے گا۔ غریب والدین کا جنازہ گروی رکھ کر چاول اور گوشت خریدتا ہے تاکہ رسم ادا ہو سکے۔
میں بس ان جھیل سی آنکھوں میں چھپے دکھ کو دیکھ رہا تھا۔ جس کے بے رونق ہونٹ ، جس کے کھردرے میلے ہاتھ، ناخن بڑھے ہوئے، بے ترتیب بال ۔سچ کہتے ہیں۔ سب سے بڑا دکھ ہی غریب کا دکھ ہے۔
وہ کہہ رہا تھا۔ صاحب یہ جو دل ہے نا بڑا ہی کمبخت ہے۔ غریب کے ہاں ضرورت کے لئے ہر وقت دھڑکتا ہے اور امیر کے ہاں ہارٹ اٹیک کے وقت بے ترتیب ہو جاتا ہے۔ غریب کو ضرورتیں ترتیب سے بے ترتیب کردیتی ہیں۔ اس کے گھر کا آنگن جہاں خواہشات کے بہت بڑے گڑھے دفن ہوتے ہیں۔ جہاں ایک دن وہ بھی بے ترتیب سانسوں کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے۔ یہی ہے غریب کا دکھ اور محبت۔ تمھاری دنیا کی محبت جو بہت خوبصورت ہے۔

Views All Time
Views All Time
756
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بیوگی کا دکھ۔۔۔
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: