Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پھٹیچر کون؟ – سخاوت حسین

by مارچ 10, 2017 بلاگ
پھٹیچر کون؟ – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

کچھ دن سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ وہ بھی ایک لفظ "پھٹیچر” کو لے کر۔ میں سوچ رہا تھا عمران خان نے اگرچہ کچھ اچھے الفاظ نہیں کہے ۔ کسی کو بھی برے لفظوں سے بلا نا صحیح نہیں ۔ لیکن پوری قوم کو سوشل میڈیا اور الیکڑانک میڈیا پر تین دن ایک لفظ پر لگا دینا کوئی ہمارے میڈیا سے سیکھے۔
کچھ سال پہلے جب میں میچ دیکھا کرتا تھا تو نانی کہتی تھیں ۔”پتر انہیں تو میچ کھیلنے کے پیسے ملتے ہیں کیا تمھیں دیکھنے کے ملتے ہیں”۔ بہت سے سالوں کی خجل خواری کے بعد ان کی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا۔آج ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا چودہ کروڑ آبادی کو صاف پانی میسر نہیں ۔ہم کیمیکل اور واشنگ پاؤڈر کا دودھ پی رہے ہیں ۔ہم گدھے، کتے اور مردہ مرغیوں کا گوشت کھانے والے گدھ بن چکے ہیں ۔ پی ایس ایل پر کروڑوں روپیہ لگا، عام عوام کو کیا ملا میرا یہی سوال ہے۔
پی ایس ایل کا ایک ایک کھلاڑی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے مال بنا گیا۔ انہوں نے کئی دنوں میں کروڑوں کما لئے۔ لیکن عام عوام نے بارہ ہزار، آٹھ ہزار اور پانچ ہزار کی ٹکٹیں بلیک میں خرید کرملک کی معشیت کو بہت فائدہ پہنچایا اس کے لئے عام عوام ،عام عوام کی شکر گزار ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھیں عام عوام آج تک ایکٹو نظر نہیں آئی۔ لاہور میں دہشت گردی ہوئی ایکٹو نظر نہیں آئی۔ پشاور، اور پورے ملک میں عوام کو چن چن کر مارا گیا۔ لیکن عام عوام ایکٹو نظر نہیں آئی۔ کچھ ہی دنوں میں سبزی سے لے کر گوشت کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں لیکن عام عوام خاموش۔ عمران خان پر تنقید ہی کرنی تھی تو جب کے پی کے میں ایک جوان پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تب کرتے۔
اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ نان ایشوز پر اصلی اشوز سے زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ پوری سردی گھروں میں گیس نہ آئے لیکن عام آدمی اب اس چیز کا عادی ہو گیا ہے۔ روز دھماکوں میں لوگ مریں لیکن عام آدمی کو فرق نہیں پڑتا۔ مہنگائی کمر توڑ دے۔ عام آدمی ٹرین کے نیچے آکر جان دے دے گا لیکن کچھ نہیں بولے گا۔ کئی مہینوں سے تنخواہ نا ملنے کی وجہ سے جس کے گھر میں فاقے چل رہے ہوں لیکن اس ہمسائے کے ساتھ عام آدمی کھڑا نہیں ہوگا۔
کبھی کبھی میں اس قوم کی شعوری کیفیت کو سمجھ ہی نہیں پاتا۔ کیا یہ کسی انقلاب سے گزرنے کے اہل ہیں۔ اس قوم کو دیکھ کر وہی واقعہ یاد آرہا ہے۔ کہ ایک بادشاہ نے لوگوں کی حالت دیکھنے کے لئے ان پر ہرقسم کا ظلم روا رکھا۔ ٹیکس لگا دئے لیکن عوام خاموش رہی۔ آخر تنگ آکر کہ اب تو عوام کچھ بولے گی ۔ اس نے شہر کے باہر ایک شخص کو بٹھا دیا۔ کہ شہر کے صدر دروازے سے داخل اور خارج ہونے والے ہر شخص کو جوتیاں ماری جائیں۔ بادشاہ کو امید تھی کہ اب عوام کچھ بولے گی۔ اگلے دن کچھ بزرگ دربار میں پہنچے ۔ بادشاہ خوشی سے نہال ہوا کہ اب عوام کو احساس ہو گیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ استفسار پر بتایا۔ حضور کا اقبا ل بلند ہو۔ بے شک آپ کی جوتیوں ہمارے حق مٰیں بہتر ہی ہوں گی۔ لیکن آپ اس کام کے لئے دوشخص رکھ لئجئے تاکہ ہمارا وقت بچ سکے۔
ہماری عوام کو دیکھتا ہوں تو اسی بادشاہ کی رعایا اور ہماری عوام میں انیس بیس کا فرق بھی محسوس نہیں ہوتا۔ جب عوام میں اجتماعی بے حسی آجائے اور وہ فرائض ادا کرنے والے گدھے کی طرح ہو اور اس پر طرہ یہ کہ شور بھی نہ کرے تو اسے زندوں میں شمار کرنا نری بے وقوفی ہوگی۔
شعور کی کمتر سطح بھی یہی ہے کہ آپ کو کم از کم اتنا احساس ہو کہ آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور آپ کو حقوق کیا حاصل ہیں۔اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں انڈسٹریلائزیشن کی ضرورت ہے۔ یہاں تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے عفریت کو لانگ ٹرم پالیسیز کے ذریعے کنڑول کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب عوام ان مسئلوں کے بجائے "پھٹیچر” جیسے مسئلوں میں الجھ جائے۔ جب عوام کرکٹ کے ایک میچ پر گھر کا راشن بھی ادھار رکھنےکوتیا ر ہو۔ اور توہین کرکٹ کو سب سے بڑی توہین سمجھا جاتا ہو۔ وہاں عوام کے ساتھ ہمدردی ہی کی جاسکتی ہے۔
ہماری اسی طبیعت کی وجہ سے جس کا دل چاہتا ہے وہ ہمیں اسی سمت لے چلتا ہے۔ اور عوام بھی اطاعت گزار بھیڑ بکریوں کے ریوڑکی طرح مسلسل آگے بڑھتی ہے۔ لیکن عوام کو سوچنا ہوگا ایسا کب تک چلے گا۔ کب تک وہ ٹیکس پر ٹیکس ادا کریں گے اور بدلے میں علاج تک کی سہولت کو ترسیں گے۔ ہر قسم کا ٹیکس دیں گے لیکن انہیں نہ تو کاروبار کی سہولت ہوگی نہ نوکریاں دستیاب ہوں گی۔ عوام کو اپنی منزل کا انتخاب خود کرنا ہوگا۔ اور سوچنا ہوگا کہ کیا تمام ریئل اشوز نان ریئل اشوز جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتے ۔ کیا اسی طرح ملاوٹ زدہ چیزیں کھا کر ایک دن مر جا نا ہے۔
میری نانی کا سوال میں اب آپ سے کرتا ہوں ۔
کھلاڑی تو میچ کھیل کر اربوں کماتے ہیں آپ دیکھ کر کیا کماتے ہیں۔ گھر کے راشن کی فکر سے بھی نا اشنا ہو کر ۔ غربت کی چکی میں پس پس کر آپ کو کیا ملتا ہے کروڑوں کی کمائی کرنے والے ان ہیروز کے پیچھے پھر کر۔اب آپ کو خود سوچنا ہوگا اصل میں نظام پاکستان میں ریلو کٹا اور پھٹیچر کون ہے ۔ عوام یا سیاستدان۔

Views All Time
Views All Time
432
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پیرا ڈائز لیکس کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: