دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (دوسرا حصہ) – سخاوت حسین

Print Friendly, PDF & Email

sakhawat hussainکیا دہشت گرد خو د تیا ر ہوتا ہے۔نہیں اسے تیا ر کیا جاتا ہے۔ایک عظیم جدوجہد کے نام پر، عظیم نظریئے کی حفاظت کے لئے اور اس مقصد کے لئے سب سے پہلے اس کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔اس کے ذہن کو تسخیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جس کے لئے ویڈیوز ، لٹریچر اور آڈیوویژولز کا سہارا لیا جاتا ہے۔اشتعال انگیز تقریریں سنائی جاتی ہیں۔اشتعال انگیز ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں۔جن کا مقصد دراصل اس کے سوئے ہوئے جذبات کو ابھارنا ہی ہوتا ہے۔اس کے اندر ایک بے کلی پیدا کرنا اور اسکے بے ترتیب جذبات کو ایک غلط سمت دینا۔دہشت گرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے کیوں کر رہا ہے کیونکہ دماغ کا وہ حصہ جو لاجیکل وجوہات ڈھونڈتا ہے وہاں جذبات کی تہہ چڑھا دی جاتی ہے۔
یہ بات غلط ہے کہ دہشت گرد کو تعلیم نہیں دی جاتی۔دراصل دن رات اس پر محنت کی جاتی ہے۔تمام جدید مارکیٹنگ کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے اسے ایک کوالٹی پروڈکٹ میں تیار کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔اس کی جسمانی تربیت کرنے کے لئے ایک الگ گروپ ہوتا ہے اور اس کی ذہن سازی کے لئے ایک الگ گروپ، اسے ہر گروپ میں رکھا جاتا ہے اور ہر گروپ اس پر اتنی محنت کرتا ہے جتنا سکول میں ایک بچے پر محنت کی جاتی ہے۔اس کے اندر نفرت پیدا کی جاتی ہے اور اسے نفرت کا ابلتا لاوا بنانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تا کہ جب وہ لڑنے کے لئے جائے تو اپنی نفرت سے لڑے نا کہ صرف اسلحے سے۔
اسے ایک خاص ماحول مہیا کیا جاتا ہے۔ایسا ماحول جہاں اس کا ذہن نرم مٹی کی طرح ہوجائے جہاں ہر قسم کی فصل اگنے کو تیا ر ہوتی ہے۔اسے تیا ر کرنے کے لئے مختلف طریقو ں اور تدبیروں کا سہارا لیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ جس تدبیر کا سہارا لیا جاتا ہے وہ مذہب کااپنے مقصد کے لئے استعمال ہے۔مذہبی اصطلاحات توڑ موڑ کر پیش کی جاتی ہیں اور ایک گروپ لاجیکل وجوہات کی ایک لسٹ بنا تا ہے ۔جیسے اس کے ساتھ اس ملک میں کیا ظلم ہو رہا ہے؟ کیا وہ جن کے خلاف کارروائی کرنے جا رہا ہے وہ جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیوں جائز ہے اگرچہ یہ مسلمان ہی ہیں؟ اس طرح کے پہلے سے تیار شدہ سوالات کی ایک لسٹ بنائی جاتی ہے اور ان کا جواب بھی ویڈیوز، تقریروں اور لٹریچر اور تصویروں کی صورت میں دکھا یا جاتا ہے۔اسے بتا یا جاتا ہے۔کس طرح دوسروں کے کہنے پر اپنوں نے ہی اس پر ظلم روارکھا ہوا ہے اور کس طرح ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔
اس جنگ میں عورتوں کا کردار خاصا اہم ہے۔جنگ کا نقطہ ایک ہی ہے اور سب سے بڑا ہتھیا ر بھی ایک ہی ہے وہ ہے اس کے جذبات کا بروقت استعمال، کسی بھی سطح پر اور کسی بھی مذہب میں عورتوں پر ہونے والے ظلم کو مر د پر کئے گئے دوگنے ظلم سے بھی زیادہ برا خیال کیا جاتاہے۔جب کسی نوجوان یا جوان لڑکے/لڑکی کو ایسی تصویریں دکھائی جائیں جس میں عورتوں کےسروں میں گولیاں ماری جارہی ہوں یا بچوں کے لاشے مختلف سمت بکھرے پڑے ہوں تو ایک عام انسان بھی انتہائی غصے کا ہی اظہار کرے گا اور جب وہ جذبات سے بپھر جاتا ہے تب اس سے حلف لیا جاتا ہے کہ وہ اس ظلم کا بدلہ ضرور لے گا۔وہ ضرور ان ماؤں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا۔تب ایک جوان جذبات کے بدلے اپنا تن ، من دھن سب ایک مخصوص شخص یا گروپ کے حوالے کر دیتا ہے۔
دہشت گردی کو ایک نظریہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ دہشت گر د کو بنانے کے لئے ایک نظریاتی کوشش ہی کی جاتی ہے۔تمام جدید تعلیمی اصولوں کو سامنے رکھ کر ہی دہشت گرد پر کام ہوتا ہے۔جیسے اسے آیڈیو، ویڈیو فلمیں، لیکچرز، تجرباتی اور مشاہداتی طریقہ تعلیم اور ایسی تعلیم جس میں متعلم اور معلم دونوں مصروف رہتے ہیں سوالات جوابات ہوتے ہیں اور ایک خاص ہدف کے حصول کا ماحول مہیا کرنا، جدید تعلیم انہی اصولوں کی بات کرتا ہے۔اسی لئے لوگ جب پوچھتے ہیں ایک دہشت گرد دہشت گرد کیوں بنتا ہے اسکا جواب یہی ہے۔وہ نہیں بنتا بلکہ اسے بنا یا جاتا ہے اور اسے ایسا بنانے کے لئے اس اعلی پائے کے سکولوں سے بھی زیادہ محنت ہوتی ہے جہاں بچوں کو مفید شہری بنانے کے لئے ہر طریقہ اور استدلال کو آزمایا جاتاہے۔ 
دہشت گرد تو سامنے آنے والا ایک نتیجہ ہے مختلف انسانوں کی محنت کا نتیجہ ، اگر اس کے ذہن میں دوسرے انسانوں کے خلاف نفرت ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کے خالی ذہن میں اس نفرت کو شامل کرنے کے لئے کافی کوششیں ہوئی ہیں۔کافی تگ ودو کی گئی ہے۔اسے گھر سے دور ایک خاص ماحول میں رکھا گیا ہے۔اس کے شب وروز کے لئےکچھ خاص پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔اس کے معمولات طے کئے گئے ہیں ۔کب اس نے اٹھنا ہے ، کب سونا ہے، کب جاگنا ہے، کیا دیکھنا ہے ، کیا نہیں دیکھنا، کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ان سب پر باقاعدہ کام کیا گیا ہے۔اور وہ دہشت گرد یا خود کش ایک دن نہیں بلکہ ہوسکتاہے کہ کسی کو موت کے اس کھیل تک پہنچنے میں دو،تین،چار سال یا اس سے زائد کا عرصہ لگا ہو۔
صبح صبح اٹھ کر ایک خبر پڑھی دہشت گردوں نے فلاں مسجد پر حملہ کردیا۔اتنے لوگ مارے گئے۔اکثر یہی سمجھا جاتا ہے یہ حملہ دہشت گرد کرتا ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے۔وہ تو بس پھٹتا ہے۔وہ تو ایک آلہ کا ر ہے۔جو اس مشن میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔وہ بقول اس کے عظیم مشن اور نظریئے کی حفاظت کے لئے جان دے رہا ہے۔لیکن اس مشن پر جب اسے بھیجا جاتا ہے اس سے پہلے مخالف فرقے یا دشمن کی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں، نفرت انگیز لٹریچر دکھایا جاتا ہے، مخالف یا دشمن کی ویڈیوز دکھا کر اس سے پوچھا جاتا ہے کیا وہ یہ گستاخیاں برداشت کر سکتا ہے؟ اور کیا اس کی غیرت ایمانی کا تقاضہ نہیں کہ وہ ان سب کا جواب دے۔وجہ وہی ہوتی ہے اس کے جذبات کے ساتھ کھیلنا اور ان کو کیش کرنا۔وہ غصے سے بپھرکر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔اور کہتا ہے ہاں وہ تیا ر ہے وہ تیا ر ہے ہر حملہ کے لئے وہ تیا رہے عظیم مشن کے لئے اور اس طرح ایک اچھا خاصا انسان دہشت گردی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
286
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قندیلیں مرتی رہیں گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: