Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (حصہ اول) – سخاوت حسین

by نومبر 5, 2016 بلاگ
دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (حصہ اول) – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

sakhawat hussainحال ہی میں کوئٹہ میں بہت بڑے پیمانے پر کیڈٹ پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔اس سے پہلے بھی اگر آپ حملوں کا جائزہ لیں تو ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ اس وقت دہشت گردی ایک نظریئے کا روپ دھا ر چکی ہے۔انسان ازل سے خوف کی قیمت چکاتا آیا ہے اور خوف کو دور کرنے کے لئے ہر قسم کے جتن کرتا ہے۔دہشت گرد دراصل اسی خوف کی قیمت وصول کرنے کے لئے دہشت گردی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔آپ کو یا د ہوگا۔جاپان نے جب امریکہ پر خود کش حملے شروع کئے تو امریکہ کے پاس اسے روکنے کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں تھا اور امریکہ کا جاپان پر اٹیم بم گرانا بھی دراصل اس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔کیونکہ جاپانی امریکی میرینز پر مسلسل خود کش حملے کر رہے تھے جس کے کے پیچھے ایک ہی نظریہ تھا "نظریہ حب الوطنی”
اگر آپ دہشت گردوں کی تاریخ کا بھی جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ دہشت گرد بھی ایک خاص نظریئے سے لیس ہے۔اس کے دماغ میں ایک مخصوص تاریخ، واقعات، تشریحات اور وجوہات کو ایک نظریئے کی شکل میں بھر دیا گیا ہے۔ جسکا نتیجہ ہمیں انسانوں کی جان لینے کی صورت میں نظر آتا ہے۔اسے بتایا گیا ہے کہ کیسے اس کی جان سے زیادہ اہم اس کا مشن ہے اور اسکا مشن ہی دراصل اس کی جان ہےاور اس نے اسی مشن کو حاصل کرنے کے لئے بے دریغ قربانیاں دینی ہیں۔
اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گرد صر ف اسلحے سے لیس ہو کر حملہ کرتا ہے بلکہ وہ ایک نظریئے سے لیس ہوکر حملہ کرتا ہے۔ایک نظریہ جو اس کے ذہن میں راسخ ہو چکا ہے۔اور اس کے یقین کا حصہ بن چکا ہے۔یہ بات بھی کسی حد تک صحیح ہے کہ وہ کسی خاص ٹرانس میں ہے۔لیکن یہ ٹرانس وقتی نہیں۔اسے اس ٹرانس میں لانے کے لئے اس پر بہت محنت کی گئی ہے۔ اس کے ذہن کا مطالعہ کیا گیا ہے۔اور اس پر مکمل تحقیق کی گئی ہے کہ کیسے اس کے جذبات کو ابھارا جا سکتا ہے۔کیسے اس کے جذبات کو ضرورت پڑنے پر نفرت میں بدلا جا سکتا ہے۔اور اس نفرت کو کب اور کس کے خلاف بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اسے ایک خام سے کندن بنانے تک اس کے ذہن ، وجود اور روح تک پر مکمل ایک نظریئے کی چادر چڑھائی جاتی ہے جس سے وہ سب بھو ل جاتا ہے اور اسے یا د رہتا ہے تو اس مشن کی تکمیل اور اسکا مشن ہی نظریے کی کامیابی ہے۔
ایک خودکش حملہ آور اپنی جان کی بازی صرف اس لئے نہیں ہارتا کہ چند لوگوں کو بم دھماکے میں اڑا کر وہ کوئی خاص مقام حاصل کر لے۔اسے ایک خاص ہدف کے لئے تیا ر کیا جاتا ہے۔اسے ایک سرخ انقلاب کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔سرخ انقلاب جو بہت سی لاشوں سے ہو کر آئے گا جس میں اس کی اپنی لاش بھی شامل ہے۔اسے یقین دلایا جاتاہے کہ اس کی قربانی اس سرخ انقلاب کو آج نہیں تو کل کامیابی سے ہمکنار کر دے گی۔اور اس انقلاب کا نتیجہ بہت ہی خوبصورت ہوگااور ایک نئی دنیا وہاں منتظر ہوگی۔کیا وہ نہیں چاہتا کہ وہ اس عظیم مشن کا حصہ بنے ، کیا وہ نہیں چاہتا کہ اس انقلاب کے نتیجے میں ہر جگہ ایک جھنڈا نظر آئے اس دن سب اختلافات ختم ہو جائیں گے اور سب ان کے آگے جھک جائیں گے۔
اسے بتایا جاتا ہے اسے منتخب کیا گیا ہے ایک خاص مقصد کے لئے ، اس کے ذہن میں کلبلاتا سوال ہوتا ہے مگر اس کا جواب پہلے سے تیا ر ہوتا ہے۔کیوں وہ منتخب ہوا؟ اس لئے تاکہ وہ اس عظیم نظریئے کو بچا نے میں اپنا کردا رادا کرے، خوش قسمت تو وہ ہے جسے ایک عظیم مشن ملا ہے ورنہ لوگ تو گاجر مولیوں کی طرح ختم ہو جاتے ہیں وہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اسے انعام کیا ملے گا؟ تب اسے بتا یا جاتا ہے کہ خوبصورت حوریں جن کا بدل دنیا میں بالکل بھی نہیں، جو دودھ سے زیادہ سفید ، اور اطاعت میں کسی غلام سے بھی بہتر، وہ حوریں تمنا کر رہی ہیں کہ یہ جوان کب ان کے پاس آئے گا۔ کیا یہ انعام کم نہیں۔ایک خوبصورت جنت ، جہاں دودھ کی نہریں ہیں۔حوریں منتظر ہیں ۔اور یہ سب تب ملے گا جب وہ اس خاص نظریئے کو انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔بھلے اس میں وہ شہید ہو جائے۔لیکن اس کو انعام ضرور ملے گا۔

Views All Time
Views All Time
352
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پیغام رسالت کو سمجھنا اور سیرت طیبہ کو اپنانا ہی محبت ہے۔۔۔
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: