Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مزدور ڈے کا مذاق – سخاوت حسین

by مئی 2, 2017 کالم
مزدور ڈے کا مذاق – سخاوت حسین
Print Friendly, PDF & Email

تم مزدور کی بات کر کس سے رہے ہو اس سرمایہ دار سے جس نے مزدور کو اس کی آرزوؤں سمیت دار پر چڑھایا ہے.
تم مزدور کی بات کر کس سے رہے ہو اس سیاستدان سے جس نے مزدور سے بھوک کے نام پر ووٹ لے کر اسے بھوکا رکھا.
تم مزدور کی بات کس سے کر رہے ہو اس ٹھیکدار سے جس کی بلڈنگ کی تعمیر میں کئی مزدوروں کی محنت کے ساتھ خون بھی شامل ہے.
تم.مزدور کی بات کس سے کر رہے ہو اس بیوروکریٹ سے جس نے مزدور پالیسی بنا کر مزدور کو بھی ایک انشورنش جیسی پالیسی بنا دیا.
تم مزدور کی بات کس سے کر رہے ہو اس ہسپتال، پولیس، صحافت اور اقتدار پر بیٹھے لوگوں سے جس کا عملہ گریڈ 1، جو بیٹ میں، فوج کا سپاہی، پولیس کا سپاہی, اخبار فروش، ویٹر، بے روزگار پڑھا لکھا، وہ شخص جو دفتر کو دس لاکھ کا فائدہ دے اور اسے دس ہزار بطور تنخواہ کے نام پر ملے.
کبھی سرحد پر بیٹھے سپاہی کو دیکھو وہ ہے مزدور. کبھی دفتر میں چائے پیش کرتے دفتر بوائے کو دیکھو وہ ہے مزدور کبھی سیٹھ کے گھر میں پودوں کو زندگی عطا کرنے والے مالی کو دیکھو وہ ہے مزدور.
کبھی 244 گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے اس ہاؤس آفییسر کو دیکھو جسے اس کی تنخواہ بھی نہیں ملتی وہ ہے مزدور.
کبھی ایم اے/ایم ایس سی کر کے چلچلاتی دھوپ میں ملازمت کے لیے ہر سڑک کی خاک چھاننے والے انسان کو دیکھو وہ ہے مزدور.کبھی ہوٹل میں بلیک اینڈ وائٹ شلوار قمیض پہنے بیرے کو دیکھو وہ ہے مزدور .ہر وہ شخص مزدور ہے جس کو اس کی صلاحیت کا 5 فی صد بھی بطور اجرت ادا نہیں کیا جاتا.
کبھی صبح سے شام تک، بہار سے خزاں تک، چائے سے طعام تک بچوں کی خدمت سے شوہر کو دئے جانے والے مقام تک اور چوبیس گھنٹے بلاچوں چرا گھر کے کام کرنے والی عورت جو شکوہ بھی نہیں کرتی وہ ہے مزدور.
تم مزدور کا دن کیوں منا رہے ہو. کن سے کہہ رہے ہو کہ مزدورکو حق دیں.
کبھی سانپ نے بھی چڑیا کی حفاظت کی ہے.کبھی عقاب نے بھی کبوتر پر رحم کیا ہے.کبھی چیتے نے بھی ہرن کو دوست سمجھا ہے.کبھی بھیڑئے نے بھی بکریوں سے دوستی نبھائی ہے.
کبھی تم نے جنگل کے بھیڑیے کو بکری ڈے مناتے دیکھا ہے.سانپ کو چڑیا ڈے,،عقاب کو کبوتر ڈے اور چیتے کو ہرن ڈے.
تو مزدور ڈے کیا ہے.کبھی سرمایہ دار نے بھی مزدور کی حفاظت کی ہے.کبھی سیاستدان نے بھی اس کی آرزوؤں کو محسوس کیا ہے .مزدور کا نام سپاہی، بیٹ مین، گریڈ 1 ، گھریلو عورت، بے روزگار جوان اور فاقہ کش ہے.
تم کس سے امید لگا بیٹھے ہو.یہ دن تمہارا تمسخر اڑانے کے لئے ہے.تمھیں طعنوں کی فصیل پر دار چڑھانے کا دن ہے.بائیکاٹ کرو ایسے دن کا.جو تمھارے نام پر پیسے اور اقتدار والوں کا گھر آرام کرنے کا دن ہو.فائیو اسٹار ہوٹلز میں مزدور ویٹرز اور عملے کے ہاتھوں بہتریں کھانا کھانے کا دن ہو.غریب اخبار فروشوں سے لے کر اخبار کے غریب رپورٹرز اور صحافیوں کے ہاتھوں پڑھے جانے والےاخبار کے مذاق کا دن ہے یہ.یہ مزدور ڈے ہے تو لگاؤ نعرہ.جئے مزدور ہمارا..جئے مزدور ہمارا..قوم کی آنکھوں کا تارا.ہم کو جان سے پیارا.ہم ادا کریں گے مزدور کا حق سارا.مزدور نہیں پھرے گاآج کے بعد دربدر اور مارا مارا.لگاو نعرہ.

Views All Time
Views All Time
203
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فقیر کے کشکول میں کچھ چھوٹی سی باتیں - مستنصر حسین تارڑ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: