شرمندگی – سجاد جہانیہ

Print Friendly, PDF & Email

sajjad-jahania-picتاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے کبھی کبھی مجھے بڑی شرم آتی ہے۔میں ایک مسلم گھرانے کا فرد ہوں اور دینِ حق کی تعلیمات سے بھی کسی قدرآشنائی کا سزاوار۔میں سوچتا ہوں کہ زمین کو چیر پھاڑ کے ڈالنے والی اور پہاڑوں کو دھنک کر دکھ دینے والی قیامت کے برپا ہونے کے بعد جب ہم بہ حیثیت امتِ مسلمہ کائنات کے مالک کی حاضری کو اپنی اپنی آرام گاہوں سے اٹھائے جائیں گے تو کون سا منہ لے کر اُس دربارِ عظیم میں پیش ہوں گے۔اعمال کی گٹھڑی کو ہم نے جو اپنے کرتوتوں کے سیاہ نامے رقم کر کر کے بھر رکھا ہے‘اس کو کمر پر لاد ے ہم کیوں کر کائنات کے عظیم ترین انسانؐ کا سامنا کر پائیں گے۔اُس عظیم شخصیت ؐ کا خاکہ جس کی استراحتِ شب اور دن کا چین اُمت کی فکر نے حرام کر رکھا ہے۔یہ سوچ کر علامہ اقبال کی فارسی رباعی دعا کی صورت لبوں پر بکھر جاتی ہے۔
تو غنی ازہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گرحسابم را تو بینی ناگزیر
درنگاہِ مصطفیؐ پنہاں بگیر
کے اے مالکِ ہر جہاں!تو ہر دو جہانوں کا غنی اور فیاض ہے۔اگر تیری نظرمیں میرا حساب ایسا ہی لازم و ناگزیر ہے تو روزِ محشر میرا یہ عذر قبول فرام کہ وقتِ حساب جناب رسول اللہؐ موجود نہ ہوں۔شرم ساری کی بناء پر میں ان کا سامنا نہ کرپاؤں گا۔
مگر تاریخ کہتی ہے کہ یہ شرم ساری بھی کسی کسی کو ہی میسر و بہم ہوتی ہے‘ہر کسی کو نصیب نہیں۔میں جب یہ پڑھتا ہوں کہ مسلمان حکم رانوں کی فہرست میں شامل ’’عظیم‘‘فاتح تیمور لنگ کا پسندیدہ نظارہ تلوار سے گردن قلم ہونے کے بعد تنِ بسمل سے ابلتے ہوئے خون کے فوارے دیکھنا تھا تو مجھے اپنے مسلمان ہونے پر حیا آتی ہے۔کبھی شب کی تنہائیوں میں محمد قاسم فرشتہ کی تاریخ مجھ سے کلام کرتی ہے یہ تو جان کر بھی ڈوب مرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہندوستان پر سترہ حملے کرنے والا بالآخر سترہویں حملے میں سومنات کے مرکزی بت کے احاطہ کرنے والی چالیس من وزنی سونے کی زنجیر حاصل کر لینے والا غزنی کا کم رُو سلطان محمود جب بیماری کے ہاتھوں گور کے قریب جالگا تو اس نے ’’اسلام کا بول بالا‘‘ کرنے کے لئے کی گئی عمر بھر کی یورشوں کے دوران جس قدر مال و اسباب لوٹا‘اس کی ایک میدان میں نمائش لگوائی۔جب گھوڑ ے ہاتھی ‘سونا ‘جواہر آراستہ کئے جاچکے تو سلطان پالکی پر نیم دراز ایک ایک شئے کے پاس رکتا اور آنسو بہاتا کہ ’’ہائے!میں یہ سب چھوڑ جاؤں گا‘عمر بھر کی ریاضت!‘‘اس طرح کے سینکڑوں مناظر تاریخ کی ہارڈ ڈسک پر موجود ہیں۔انہیں دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ ان مناظر کے مرکزی کردار اُس کے نام کا کلمہ پڑھنے والے تھے کہ رحمت جس کی صفت اور مال دنیا سے بے نیازی جس کی شان تھی۔
ان دنوں نام ور صحافی‘مقرر‘ادیب اور شاعر شورش کا شمیری کی کتاب’’پسِ دیوارِ زنداں‘‘زیرِ مطالعہ ہے اور اُس کتاب کے صفحات چمن میں سطروں کی روش ہائے بصارت کی سیر خرامی بڑا ہی اذیت ناک عمل ہے۔کئی مناظر ایسے ہیں کہ دہلا کر رکھ دیتے ہیں ۔کچھ نے تو مجھے دنوں تک شرم ساری اور ندامت کے حصار میں رکھا اور یہی آپ سے آج یہ باتیں شیئر کرنے کا باعث ہیں۔یہ1930ء کا سال اور برِصغیر میں برطانوی راج کے خلاف تحریک خاصی تیز ہوچکی ہے۔شورش کاشمیری کا یہ لڑکپن ہے۔گاندھی کی نمکین سیتہ گرہ تحریک تازہ تازہ شروع ہوئی ہے جس پرکانگریس کے خلاف قانون بنادیا گیاہے اور بڑے بڑے لیڈر اپنی تنظیموں کے ساتھ جیل میں دھکیلے جاچکے ہیں۔ایسے میں شورش کاشمیری اور اُ ن کے ایک نوعمر اور خوبرو دوست اوم پرکاش نے’’بال بھارت سبھا‘‘ کے نام سے بچوں کی ایک تنظیم بنا کر لاہور کے موری دروازے کے باہر احتجاجی کیمپ لگار کھا ہے اور یہاں آزادی کے متوالے بچوں کی بڑی رونق ہے۔کیا مسلمان‘کیا ہندو سب نے ایسا ساتھ دیا ہے کہ چودہ پندرہ سالہ لڑکوں کا یہ کیمپ عطیات سے بھر گیا ہے ۔ایسے میں سٹی مجسٹریٹ نتھورام مسلما ن اور ہندو سپاہیوں کے ساتھ شب کے تیسرے پہر کیمپ پر ہلہ بولتا ہے ۔خوب رو لڑکوں کی بے حرمتی ہوتی ہے اور اوم پرکاش گرفتار ہوجاتا ہے ۔تین روز بعد اوم پرکاش ابتر حالت میں شورش کے گھر آتا ہے ۔اس کے گالوں پر دانت کاٹے کے بہت سے نشان اور ہونٹوں پر بھی بیسیوں زخم ہیں۔وہ شورش کو باہر لے جاتا ہے‘آگے کی کہانی شورش کے اپنے قلم سے مگر ذرا سی ایڈیٹنگ کے ساتھ کہ کتاب اور اخبار میں فرق ہوتا ہے۔
’’ہم دونوں ایس ایس پی ایس کے ہال کے عقبی باغیچہ میں چلے گئے اور وہاں درختوں کے ایک تخلیہ میں ہوگئے۔اوم نے میرے زانو پر اپنا سر رکھ دیا۔دل اُس کا نڈھال ہورہا تھا۔کہنے لگا معلوم نہ تھا کہ پولیس اتنی ذلیل ہوتی ہے؟اپنی لرزہ خیرز سرگزشت شروع کی تو اس کی غزالی آنکھوں سے آنسوؤں کی پھوار بہہ گئی۔سولہ برس کا ایک خوبصورت کھلونا جس کا شیشہ چکنا چور ہوگیا تھا۔کرشن کی بانسری کے سُروں سے اُ س کا پیکر بنا تھا لیکن آج یہ سُر ٹوٹ گئے تھے‘….پھر اس نے کہا تم میرے بھائی ہو میں تم سے چھپانا نہیں چاہتا یہ دیکھو….زخم ہی زخم ہیں۔پہلا شکاری کوتوال تھاپھر ایک درجن اوباش‘ یہ کہہ کر اُس کی آنکھوں میں بدلیاں سمٹ آئیں اور وہ ضبط سے باہر ہوگیا۔اس نے کہا ’’بھائی!میرا جی اُچاٹ ہوگیا ہے‘اب میں جینانہیں چاہتا۔اس سے موت بھلی؟یہ لو میرا قلم میری آخری نشانی ہے۔اس واقعہ کا کسی اور سے ذکر نہیں کیا صرف تمہیں یہ کہانی سنا رہا ہوں۔
اوم کی ان باتوں نے مجھے تھرّا دیا‘میں کانپ اٹھا۔خود بھی بے اختیار ہو کر رونے لگا۔اس سناٹے اور تخیلے میں ہم دو اناڑی رو روہے تھے۔پندرہ سولہ برس کی عمر ہی کیا ہوتی ہے ۔کتنی ہی دیر تک ہم روتے رہے۔آخر میں اس گھر چھوڑ آیا لیکن وہ ایک مرجھایا ہوا پھول تھا جس کی پنکھڑیوں کے ریشے سوکھ چکے تھے۔
اس واقعہ کا ڈراپ سین یہ ہے کہ مہینے بھر کے بعد زخموں کی تاب نہ لا کر اوم پرکاش ‘پر لوک سدھار گیا ۔اوم پرکاش نہیں بلکہ اسے بچۂ کافر کہہ کر پکارئیے۔میرے ہم مذہبوں نے اُس کی ذات کے اسی پہلو کی بناء پر تو سزا کا مستو جب قرار دیا اور تشدد سے اُس کی جان لے کر کفارہ وصول کیا‘اس ذاتِ عظیم ؐ کے نام کا کلمہ پڑھنے والوں نے جس پر طائف کے بچہ ہائے کافر نے اس قدر سنگ زنی کی آپؐ کی نعلینِ مبارک کے تلوے تک خونِ اطہر سے تَر ہوگئے۔فرشتہ حاضر ہوکر عرضِ کناں ہوا۔کہ کیوں نہ دونوں پہاڑوں کے بیچ ان گستاخوں کو پیس ڈالوں ۔اس پر زبانِ مبارک سے کافر کے بچوں کے لئے کلمہ خیر نکلا۔یارسول اللہؐ! ہم آپ سے شرمندہ ہیں اور اس فکر میں غلطاں کہ روزِ حشر کیوں کر آپ ؐ کا سامنا کر پائیں گے۔

Views All Time
Views All Time
786
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہاسٹل کی نیند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: