ایک دفعہ کا ذکر ہے – سجاد جہانیہ

Print Friendly, PDF & Email
sajjad-jahania-picدنیا بھر کی خبر لانے والے’ ہاتھ میں تھمے اس آلے کی سکرین پر آئے روز کوئی ایسامنظر سوشل میڈیاکی وساطت سے ابھرآتا ہے کہ دیکھ کر جی متلانے اور سر بھاری ہونے لگتا ہے۔ بے بسی بھرے نفرت آمیز غصے کی ابکائیاں طبیعت مکدر کردیتی ہیں۔چند روز قبل سیالکوٹ کے اس ”غیر ت مند” کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جا بہ جا نظر آئی جو ایک خواجہ سرا کو الٹا لٹا کر اس کی گردن پر پاؤں رکھے ہوئے ہے اور ہاتھ میں پکڑی چمڑے کی بیلٹ اس پر برساتا ہے۔ مغلظات اورگالیاں بکتا ہے اور بار بار مضروب کی پیٹھ برہنہ کر کے اس پر بیلٹ مارتا ہے ۔لعنت کا حق دار یہ شخص ججا بٹ ہے ۔اس کو اتنا بھی گوارانہیں کہ آلۂ ضرب اور اس خواجہ سرا کی جلد کے بیچ شلوار کا معمولی کپڑا بھی حائل ہو۔ مبادا اس سے ضرب کی شدت میں کچھ کمی واقع ہوجائے۔ چرمی بیلٹ کے وار سہہ کر دہائی دیتے خواجہ سرا کا قصور یہ ہے کہ ججا بٹ کی اجازت کے بغیر اس سے”فنکشن”کرنے کا جرم صادر ہوگیا۔ ایک گینگ کے سربراہ کی”غیرت”بھلا یہ کیوں کر گواراکرسکتی ہے ۔
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو خشک لکڑیوں کے انبار میں لگی آگ کی مانند پھیلی اور بالآخر پولیس کو نوٹس لینا پڑگیا۔ججا گینگ کے نورکن گرفتار کئے گئے۔شریرالنفس ججا بھی پکڑا گیا۔ اپنے شہرکے ایم این اے خواجہ آصف جیسے لہجے میں اس نے کہا کہ وہ خواجہ سرا میرا دوست تھا۔ میں اسے برے کاموں سے منع کرتا تھا مگر وہ باز نہیں آرہا تھا’ اس لئے میں ذرا اس کی طبیعت صاف کر رہا تھا۔ اتنی سی بات ہے بس۔ کیا بات ہے’ ایک جرائم پیشہ گینگ کا سربراہ’ خواجہ سرا کو ”برے”کاموں سے منع کرتا تھا۔ سیالکوٹ ان کا حوالہ ہے’ چناں چہ پھر خواجہ آصف یاد آئے۔ ججا بٹ کو پکڑنے والے تھانے دار اقبال سندھو کو چاہئے کہ ججے کو تھانے کے کسی ٹھنڈے فرش والے کمرے میں الٹا لٹا ئے ۔ اس کی گردن پر بھاری پولیس بوٹ والا پیر رکھ کر قابو کرے اور پھر ججے بٹ کی جینز ذرا نیچے کھسکا کے پہلا چھتر مارے تو سارے تھانے کے سپاہی باجماعت کہیں ”او ججے خبیث! کوئی شرم ہوتی ہے” پھر دوسرا چھتر پڑے تو جماعت بولے”کوئی حیاہوتی ہے”۔ اس کورس کے ساتھ چھترول تب تک جاری رہنی چاہئے جب تک ججے بٹ کی ”تشریف ” کے سارے بال نہ اُڑ جائیں۔
اس واقعہ کا سب سے غیر خوش کن پہلو یہ ہے کہ ایک خواجہ سرا پر روا رکھے گئے بہیمانہ ظلم پر اس بے حس و حمیت سماج کا کوئی طبقہ نہیں بولا۔ میں نے انٹرنیٹ پر تلاش کیا’ روزانہ اخبار بھی پڑھتا ہوں۔ سوائے ڈیرہ غازی خان میں شی میل ایسوسی ایشن کے ایک مظاہرہ کے کوئی احتجاج رپورٹ نہیں ہوا۔ یہاں مزدوروں’ عورتوں’ کلرکوں’ خاکروبوں ‘ بچوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظمیں موجود ہیں ۔ میڈیا پر قلم اور زبان چلانے والے بھی ان سب کے حقوق کی تلفی پر گلے پھاڑتے ہیں لیکن ایک خواجہ سرا پر ظلم ہوتا دیکھ کر کوئی نہیں بولا۔ کسی دل پر احساس کی دستک نہیں ہوئی۔ اس سماج نے خواجہ سراؤں کو صرف تین کاموں کے لئے رکھا ہوا ہے۔سرِ بازار نشانۂ تضحیک و استہزا بناکراپنی کمینی طبیعت راضی کرنے کو ‘ نچا کر/گوا کربھیک دینے کویا پھر جنس کی بھوک مٹانے کو ۔ آپ ہی بتائیے’ ان تینوں میں سے کون سا ایسا کسب ہے جس کی بناء پر ان کی عزت کی جائے اور ججے بٹ کی بیلٹ کی ضربوں سے لال ہو کر سیاہ پڑتی پیٹھ دیکھ کر احتجاج کیا جائے..؟؟
یہ غصہ بڑا سیانا ہوتا ہے صاحب! ہمیشہ کم زور پر اور بے کس و بے وسیلہ پر آیا کرتا ہے۔اس کی لہریں بھی پانی کی طرح نشیب ہی کا رُخ کیا کرتی ہیں۔بنک کے بنک کھا کر ڈکارنہ لینے والوں کو نہ تو بدہضمی ہوتی ہے اور نہ کوئی ان کو روک کر پوچھتا ہے کہ حضور! ایسے باکمال ہاضمے کا رازکہاں سے پایا؟ لیکن گٹر کا ڈھکن اٹھاتے یا مسجد سے جوتی غائب کرتے کوئی برہنہ پا غریب پکڑا جائے تو محلے کا ہر کہہ و مہہ خود کو منصف کی نشست پر براجمان کرلیتا ہے اور ”چور” کی چمڑی ادھیڑنے تو تیار ہواکرتا ہے۔ آج سویرے ایک پوسٹ دیکھی’ اس سماج کی کیا خوب عکاسی کرتی ہے۔
”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شاہ رخ جتوئی ہوا کرتا تھا۔ دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مصطفی کانجو ہوا کرتا تھا۔ تیسری دفعہ کی بات ہے کہ ایک ڈاکٹر عاصم ہوا کرتا تھا۔ چوتھی دفعہ کا ذکر ہے کہ ایان علی ہواکرتی تھی۔ پانچویں دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ڈی ایچ اے سٹی ہوا کرتا تھا۔ ایک ملک ریاض اور ارسلان افتخار بھی تھا۔ پھر ان کا کوئی بھی کچھ نہ اُکھاڑ سکا ۔آخری دفعہ کا ذکرہے کہ مسجد سے ٹونٹی چرا کر ایک وقت کی روٹی کھانے والے کو لوگوں نے مار مار کر لہولہان کردیا” ججے بٹ کا غصہ بھی غریب خواجہ سراؤں پر نکلا ۔ ہمیشہ سے مفعول کی مسند پر بیٹھے غیر مسلح ‘ بے بس اور غصے کے جذبات سے یک سر عاری خواجہ سرا ۔ اب اقبال سندھو نے پکڑا ہے تویہی بٹ صاحب خود خواجہ سرابنے بیٹھے ہیں۔
یہ سطریں لکھتا ہوں تو وقوعے کو پانچواں روز ہے۔ سوشل میڈیا سے اب اس ظلم کا تذکرہ ختم ہوچکا ہے۔ نہ کوئی پوسٹ دیکھنے میںآتی ہے اور نہ ہی یہ ویڈیو۔ واقعات و حادثات کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کل کی بات لوگ بھول جاتے ہیں۔ میڈیا پر فالواپ کا رواج بھی ختم ہوتاجارہا ہے اور سوشل میڈیا والے تو یوں بھی ان اصطلاحات سے ناآشنا۔ ججا بٹ گینگ چلاتا ہے’ کوئی سڑک چھاپ موالی نہیں ہے۔ گینگ’ سیاہ بوشرٹوں اور خاکی پتلونوں سے صاحب سلامت کے بغیر کہاں چلاکرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہی معاملہ اٹھایا تھا’ وہاں اب ٹھنڈا ہوچکا ہے’ دو چار دن میں کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ کسی سرخ کپڑوں والے خواجہ سرا کو الٹا لٹا کے تضحیک و تشدد کا نشانہ بنایاگیاتھا۔ ججا بٹ کون ہے اور اس کی اجازت کے بغیر فنکشن کرنے والا خواجہ سرا کون تھا’ اس سے کون سروکار رکھے’ مگر آنے والے مؤرخ کا قلم ہمارے ماتھے پر لگے بے شمار ٹیکوں میں ایک نمبر شمار کا اضافہ ضرورکرے گا۔
Views All Time
Views All Time
392
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سرگودھا:خواجہ سراؤ ں کو زبردستی ہنر مندی کی تربیت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: