Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آٹھواں پیریڈ – سجاد جہانیہ

by نومبر 10, 2016 کالم
آٹھواں پیریڈ – سجاد جہانیہ
Print Friendly, PDF & Email

sajjad-jahania-picنیرنگئ روزگار کی سیر آج کے انسان کو یوں گھیرے ہوئے ہے کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔میری عمر کے لوگ اس تماشے کے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔جب تک قوائے بدن دل و دماغ کے احکامات کو بجالانے کی طاقت رکھتے ہیں‘تب تک ہم جوانی کی ایک خاص عمر میں ٹھہرے رہتے ہیں۔دو مواقع پر احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے پل تلے سے زمانے کا بہت سا پانی گزرگیا ہے۔ایک تب‘جب اپنے ہی بچے اپنے شانوں سے اونچے ہونے لگیں اور دوسرے اُس وقت جب خود سے بڑے رفتہ رفتہ رخصت ہونے لگیں۔جمعہ کے روز جب یٰسین کا فون آیا تو مدت بعد میں نے خود کو بڑا اور کسی قدر بوڑھا محسوس کیا۔یٰسین نے بتایا کہ قیصر صاحب وفات پاگئے ہیں۔تب بوجھل ہوتے دل میں یہ احساس جاگزین ہوا کہ سکول کا زمانہ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔کہیں دور‘غبارِ زماں کی دبیز دیواروں سے پرے۔تب ہی مجھ پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔
گورنمنٹ مسلم ہائی سکول ملتان میں گزرا طالب علمی کا زمانہ کل کی بات لگتی ہے مگر سکول چھوڑے بتیس برس ہوگئے ۔ذرا دیر کو سوچ ماضی کے سفر پر پابہ رکاب ہوئی تو یاد آیا کہ کتنے لوگ زمین کا گھونگھٹ اوڑھ گئے۔اتنے سارے لوگ کہ ان کے نام لکھنے بیٹھوں تو اس مضمون کے لئے مختص جگہ ناموں ہی سے بھر جائے‘پھر بھی کچھ نام ضرور لکھنا چاہوں گا۔سردیوں میں سوٹ اور گرمیوں میں سفاری سوٹ میں ملبوس رہنے والے ہمارے خوش لباس‘خوش گفتار ہیڈماسٹر جناب آغا وسیم احمد‘سنجیدہ طبع سیکنڈ ہیڈ ماسٹر شوکت علی صاحب‘شیخ لیاقت صاحب‘پی ٹی آئی اشرف صاحب اور تنویر سندھو‘فارسی والے مفتی نور محمد صاحب او رعبداللہ صاحب۔چھوٹا بڑ امحمد بخش اور چھوٹا بڑا بابا دینا(دونوں ہی مالی تھے)۔بڑے بابے دینے کو دیکھ کر لڑکے نعرہ لگاتے’’بابا دینا‘‘تو آگے سے کہا کرتا’’چل مدینہ‘‘پتہ نہیں مدینہ جا بھی سکا کہ نہیں‘دنیا سے چلاگیا۔چائے والا اور سموسے والا جیرا‘بھنے ہوئے چنے فروخت کرنے والے وہ بابا اور اماں۔سٹیشنری والا صفدر بھی معلوم نہیں حیات ہے کہ نہیں۔بہت سے لوگ ہیں۔
قیصر صاحب پستہ قامت مگر گٹھے ہوئے مضبوط جسم کے مالک تھے۔چہرے پر چھدرے بالوں والی داڑھی تھی اور ویسپا سکوٹر پر سکول آیاکرتے تھے۔اپنے ساتھی اساتذہ کے حلقے میں توگپ شپ کرتے مگر کبھی کسی طالب علم سے ان کو ہنس کر بات کرتے نہیں دیکھا گیا۔سنجیدہ مزاج ‘ماتھے پر بل اور طبیعت میں ہمہ وقت کرختگی ۔طلباء کی اس بری طرح پٹائی کرتے کہ ان کے کمرۂ جماعت سے اٹھنے والی آہ وبکا مسلم سکول کے طویل برامدوں کی محرابیں یہاں سے وہاں تک سناکرتیں۔شکر ہے کہ نویں اور دسویں میں ہمیں انہوں نے صرف بائیالوجی پڑھائی اور ہماری جماعت ان کے ہاتھوں ریاضی پڑھنے سے محفوظ و مامون رہی۔اللہ زندگی دے‘ ہمیں فزکس کمیسٹری اور ریاضی چوہدری منظور صاحب نے پڑھائی۔نہم جوہر کو قیصر صاحب ریاضی پڑھایا کرتے تھے ۔جیومیٹری کے مسئلے (Theorem)طلباء کے لئے ہمیشہ ہی مسئلہ رہے۔اپنی جماعت سے کہاکرتے کہ کل فلاں مسئلہ نمبرتیار کرکے آنا ہے ۔اب جو ریاضی کی جماعت شروع ہوئی تو ڈیسکوں کے پیچھے بیٹھے کسی بھی طالب علم کی طرف اشارہ ہوجاتا کہ میاں!یہ چاک پکڑو اور بلیک بورڈ پر آکر مسئلہ لکھنا شروع کردو۔خود ہاتھ میں بید تھام کر تختۂ سیاہ کے حاشیے کے پاس کھڑے ہوجاتے۔اب طالب علم نے کانپتے لرزتے ‘رٹا رٹایا مسئلہ لکھنا شروع کردیا۔جہاں کوئی غلطی ہوئی آیا ’’تشریف ‘‘پر ایک بید۔اب بلبلاتا ہوا طالب علم ایک ہاتھ سے مسئلہ لکھتا ہے اور دوسرے سے اپنی تشریف سہلاتا ہے۔ایسے عالم میں کہ ممتحن بید بہ دست ملک الموت کی طرح سر پر کھڑا ہے ‘ اچھی بھلی یاد کی ہوئی چیز بھی ذہن کے کواڑ کھول کر راہِ فرار اختیار کرلیا کرتی ہے۔چناں چہ جو طالب علم تختۂ سیاہ پر طلب کیا جاتا وہ کم ہی پیٹھ پر سوزش و سوجن لئے بغیرواپس اپنے ڈیسک پر جاتا ۔
قیصر صاحب کی شہرت ایک غصہ وَر شخصیت کی تھی ۔ہمارے زمانۂ طالب علمی میں ان کے اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ چند ایک جھگڑے بھی خاصی مقبول ہوئے۔محلہ امیر آباد میں گورنرصاحب کے گھر کے سامنے جو پتلی سی گلی ہے ‘اس میں ٹکر پر مسجد ہے‘وہاں سے پہلا بائیں اوردوسرا دائیں موڑ مڑ کے قیصر صاحب کا گھر تھا جہاں ہم حساب کی ٹیوشن پڑھنے جایاکرتے تھے ۔مردان خانے کی اس صحنچی میں زمین پر ایک دری بچھی رہتی جس پر ہم سب طلباء آلتی پالتی مارے بستے کھولے بیٹھے ہوتے۔یہاں دری کے علاوہ گندم کی بوریاں‘نیلے رنگ کا ویسپاسکوٹر اور اکلوتی کرسی نظرآتی جس پر خود قیصر صاحب دھوتی باندھے اور بنیان پہنے تشریف فرماہوتے۔ٹیوشن کے لئے آنے والے طلباء تو خیرمارپیٹ سے بچے رہتے مگر ان ڈیڑھ دو گھنٹوں کے دوران جب جب قیصر صاحب اٹھ کر گھر کے اندر جاتے تووہاں سے ان کی دھاڑ‘لات مکے طمانچے کی جھنکار اور ان کے کسی بچے کی چیخ و پکار ضرور سنائی دیتی۔ہمارے ذمے وہ کام لگادیتے کہ فلاں مشق کرو ۔جب کبھی کوئی سوال نہ آتا تو کاپی میں لکھ کر قیصر صاحب کی کرسی کے پاس جاکر کاپی ان کی طرف بڑھا دیتے ۔قیصر صاحب گھٹنوں پر کاپی رکھ کے سوال حل کرنا شروع کردیتے۔آپ کو سمجھ آیا ہے یا نہیں‘یہ ان کا مسئلہ نہیں تھا کیوں کہ سوال حل کرنے کے دوران وہ سمجھانے کو ایک لفظ بھی زبان سے نہ بولتے تھے۔ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ سمجھ آئے نہ آئے کوئی طالب علم ان سے سوال کرنے کی جسارت اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔
حق مغفرت کرے ‘قیصرصاحب ڈرتے ورتے کسی سے نہیں تھے۔میٹرک کے امتحانات قریب آئے تو ہفتے میں چند دن انہوں نے زیرو پیریڈ لینا شروع کردیا جو سخت جاڑے میں سویرے سات بجے شروع ہوتا ۔اس میں سمجھاتے پڑھاتے اور کبھی ٹیسٹ بھی لیتے۔ان کا معمول کا پیریڈ آخری ہواکرتا تھا تب تک وہ ٹیسٹ چیک کرچکے ہوتے اور یہ آٹھوا ں پیریڈ ہمارے لئے گویا یومِ حشر ہوتا۔جن کی کارکردگی زیادہ ہی شرم ناک ہوتی ‘ان کے نام پکارتے اور انہیں کمرۂ جماعت کی پچھلی دیوار کے ساتھ ایستادہ ہوجانے کا حکم صادر ہوتا۔ان کے اعمال ناموں پر مختصر گفت گو کرتے اور پھر سزاکا عمل شروع ہوتا (جزا کا ان کے ہاں کوئی رواج نہیں تھا)۔ہمارے ایک ہم جماعت ‘جو خیر سے اب کالج کے پروفیسر ہیں ‘محکمہ تعلیم کے ایک بہت بڑے افسر کے صاحب زادے تھے ۔اسی زعم میں انہوں نے ایک مرتبہ زیرو پیریڈ بغیر کسی وجہ کے مِس کردیا ۔اس روز آخری پیریڈ میں سب کے لئے عام معافی کا اعلان ہوااور صرف موصوف ہی قیصر صاحب کے بید کا نشانہ رہے۔ایسی تاریخی ’’مرمت‘‘کم ہی دیکھنے میں آئی۔سنا ہے کہ اس پاداش میں قیصر صاحب کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا مگر انہو ں نے سیشن پورا ہوجانے تک کبھی بھی صاحب زادے سے رعایت نہیں برتی۔
ایک روز قیصر صاحب کو کوئی کام تھا ۔انہو ں نے زیرو پیریڈ میں ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری ہمارے مانیٹر کو سونپی ۔قیصر صاحب چوں کہ نہ آئے تھے چناں چہ نائب قاصد بڑے محمد بخش نے کمرۂ جماعت کھول کر دینے سے انکارکردیا۔آخری پیریڈ میں جماعت کے لڑکوں نے مرچ مسالے لگا کر بڑے محمد بخش کی ’’گستاخی‘‘بیان کی اور قیصر صاحب کو خوب غصہ دلانے کی سعی کی کہ ’’سر!ہم آپ کا نام بھی لیتے رہے لیکن محمد بخش نے دروازہ نہیں کھولا‘‘۔سب کا خیال تھا کہ اب محمد بخش کی شامت آئی مگر قیصر صاحب بالکل شانت رہے اور کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔ٹیسٹ انہوں نے اس آخری پیریڈ میں لے لیا اور پھر جاتے جاتے گویا طلباء کے چہرے پڑھ لئے ۔کہنے لگے ’’زندگی میں جب بھی لڑائی کرنی ہو ‘خود سے بڑے کے ساتھ کرو۔اب اگر میں محمد بخش کو بلا کر دو چار تھپڑ بھی لگادوں اور وہ آگے سے صرف مجھے کوئی چھوٹی موٹی گالی بھی دے دے تو میرے چانٹوں کا کوئی ذکر نہیں ہوگا‘ہر ایک یہی کہے گا کہ محمد بخش نے قیصر صاحب کو گالی دے دی‘‘۔
سکول چھوڑنے کے بعد گاہے گاہے ان سے ملاقات ہوجاتی مگر جب سے وہ ریٹائرہوئے تھے‘ملاقات نہ ہونے کے برابر تھی۔ان سے آخری ملاقات گزشتہ برس اکتوبر میں ملتان ٹی ہاؤس میں ہوئی جہاں وہ ہاشم صاحب کے ساتھ میری کتاب کی تقریبِ رونمائی میں تشریف لائے تھے۔پوری تقریب کے دوران مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ تشریف فرما ہیں‘تقریب کے بعد مجھے ملے اور شاباش بھی دی۔اب وہ خاصے بزرگ ہوگئے تھے ۔ضعیفی میں دل کے پٹھے کم زور ہوجاتے ہیں‘وہ خون کو زیادہ طاقت کے ساتھ رگوں میں پمپ نہیں کرسکتا‘سو غصہ بھی کم ہوجایاکرتا ہے۔قیصر صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ٹی ہاؤس میں وہ مسکرائے بھی تھے انہوں نے حوصلہ افزائی کے جملے بھی کہے تھے اور میرے شانوں پر تھپکی بھی دی تھی۔سکول کے آٹھویں پیریڈ میں وہ شکن آلود پیشانی کے ساتھ غیض کے گھوڑے پر سوار آیاکرتے تھے مگر اپنی عمر کا آٹھواں پیریڈ انہوں نے بڑے ہی تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ گزارا۔بارِ الہا!میرے استاد کو اخروی زندگی کے زیرو پیریڈ میں درپیش منازل اپنی رحمت کے وسیلہ سے آسان فرما۔آمین

Views All Time
Views All Time
390
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سیاپا فروشوں کے ذاتی دکھ اور کرپشن کہانی - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: