Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تعلیم، لڑکی کا بنیادی حق

تعلیم، لڑکی کا بنیادی حق
Print Friendly, PDF & Email

عورت مرد کا نصف بہتر ہے لیکن مرد نے اسے ہمیشہ نصف بد تر سمجھا ہے دنیا کی کل آبادی میں زیادہ خواتین ہیں اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرہ تبھی ترقی کر سکتا ہے جب اس نصف بہتر کوتعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کیا جائے تبھی یہ اپنی عملی قوتوں کو قومی ارتقاء کے لیے پوری کوشش کے ساتھ بروئے کار لائے گی
اگر تعلیم و تربیت کا فقدان ہو تو لڑکیوں کی ذہنی بالیدگی نشوونما نہیں پاتی اور نہ ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
فی زمانہ تعلیم ہی ہے جو ایک انسان کوconsumer بہی نہیں inventorr بھی بناتا ہے آج کے عہد جدید میں بھی کچھ سادہ لوح لوگوں کا کہنا ہے کہ پڑھ لکھ کے بھی ہانڈی روٹی کرنی ہے تو فی زمانہ تھوڑی بہت تعلیم کافی ہے مگر کیا تھوڑی بہت تعلیم کسی شمار میں آتی ہے ؟
کیونکہ اس حد تک تو معاشرہ بھی بیدار ہے اور جنہوں نے اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا ہوتا وہ بھی اردو اور انگریزی میں اپنا نام لکھنے کی شدھ بدھ رکھتے ہیں
اگر مشاہدہ کیا جائے تو، پتہ چلتا ہے کہ خواتین زندگی کے بعض شعبوں میں اتنی حاوی ہیں کہ اگر اس کی اہمیت کو کم یا تھوڑا کر دیا جائے تو اسکی گود میں پروان چڑھنے والی نسل تدبیر اور خود اعتمادی سے محروم ہو جائے گی
اسی لیے اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ، ایک عورت کو تعلیم دینا خاندان سنوارنے کے مترادف ہے
عورت ایک فرد نہیں ہے، ایک مکتبہ فکر ہے اسی مکتبہ فکر میں معاشرہ ابتدائی تنظیمی جوہر سے روشناس ہوتا ہے
اگر ہم اپنی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، فاطمہ بنت ِ رسول، رابعہ بصری، اور بھی کئی ہستیاں جوعلم کی دولت سے آراستہ ہو کر قوم وملت کی خدمت سر انجام دے کر ثابت کر چکی ہیں کہ عورت ناظم بھی ہے اورمجاہدہ بھی ہو سکتی ہے اور نہ جانے کتنی خواتین ہوں گی جنکے کارہائے نمایاں تاریخ کے صفحوں پر موجود نہیں
آج بھی اگر گھر سے ہی اس کی تعلیم کا بندوبست ایک پڑھی لکھی ماں کے ہاتھوں سے ہو گا تو آگے چل کر یہ لڑکی قوم کی تنظیم میں حصہ ڈال سکے گی
حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، ضروری نہیں کہ بہت اونچے، کھاتے پیتے گھرانے میں بیاہنے سے لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوگا ہمارے ہاں یہ ایک عمومی سوچ پائی جاتی ہے لیکن اگر حالات پلٹا کھائیں تو عرش سے فرش پر آنے میں دیر کہاں لگتی ہے؟
تو ایسے میں ایک پڑھی لکھی لڑکی تو حالات کا مقابلہ اپنی علم کی بنیاد پر کر سکے گی وہ کم از کم نہتی نہیں ہوگی
اسکے ہاتھ میں اس کی شب و روزکی محنت سے لی گئی ڈگریاں کہیں بھی باعزت نوکری میں مدد دے سکیں گی
اس کے برعکس ایک ان پڑھ لڑکی ایسی افتاد پر خودکشی کرنے پرمجبور ہو جائے گی
خواتین کو پیشہ ورانہ تعلیم بھی حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں خواتین اتنی بولڈ نہیں ہیں کہ وہ نامحرم مرد ڈاکٹروں سے اپنی تکلیف کا کھل کر اظہار کر سکیں
ہمارے ہاں بریسٹ کینسر، رحم کے کینسر اور زچگی کے مراحل سےنبٹنا خواتین کے لیے آج کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں بھی آسان نہیں. کیونکہ خواتین ہسپتال جانے سے گھبراتی ہیں، شرماتی ہیں کہ کیسے، وہ اپنے بدن کے اس حصے کو جسے وہ چھپا کے رکھتی ہیں، کیسے چھونے، دیکھنے کی اجازت دیں تو جب تک اس میدان عمل میں آگے نہیں آئیں گی ڈاکٹر نہیں بنیں گی تو یہ سماجی مسئلہ کیسے حل ہو گا؟
ہمارے ہاں اچھے پڑھے لکھے گھرانوں کی سوچ ایسی ہے کہ وہ لڑکیوں کی اعلی تعلیم کے خلاف ہیں ان کے خیال میں، لڑکیوں سے نہ تو نوکری کروانی ہے نا ہی ان کی کمائی کھانی ہے کیونکہ ہم غیرت مند ہیں.
پتہ نہیں کیوں من حیث القوم دوسروں کی شخصی آزادی کو اپنے غیرت کے ترازو میں ڈال کر ناپ تول شروعکر دیتے ہیں
لیکن میں یہ پوچھتی ہوں کہ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی پہلے آپ کے آگے دست سوال دراز کرے پھر اپنے خاوند کے آگے، آپ کیوں چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی بھکاریوں کی طرز پر ساری زندگی گزارے؟
سوال کمائی یا نوکری کا نہیں یہاں، سوال انھیں اپنے پیروں پر مکمل اعتماد کے ساتھ کھڑا کرنے کا ہے اور اپنے اوپر مکمل انحصار کرنے پر ہے صرف اس لئے کہ وہ لڑکی ہے اس سے معاش کا حق چھین لینا کہاں کی دانشمندی ہے؟
کیا خواتین صرف ہنڈیا روٹی کرنے، اور اپنے مرد کو جسمانی راحت دینے کے لیے ہی پیدا ہوئی ہیں؟
نہیں جناب ! مردوں کی طرح ان کی زندگی بھی اہم اور بامقصد ہے
وہ اپنی خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد اپنے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے علمی، ادبی، اور اصلاحی کاموں میں حصہ لے سکتی ہیں
مسلمان لڑکی ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، عالمہ، مورخ، شاعرہ، ادیب، محقق، وغیرہ سب کچھ ہو سکتی ہے کیونکہ خودمختار فرد کی حیثیت سے یہ اس کا پیدائشی حق ہے
اور یہ حق تو ہمارا دین دے رہا ہے قرآن کریم میں فضیلت انسانی کا ذکر جہاں بھی آیاتو اس میں مرد و عورت برابر ٹہرے
تقوی کا معیار، جو مرد کے لیے ہے، وہی عورت کے لیے بھی ہے
ہمارا دین عورت کو چاردیواری میں قیدی نہیں گردانتا کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کی محتاج ہوجائے
نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا
"بے شک تمھیں اللہ نے گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے، اپنی ضروریات کے حصول کے لیے "
میں یہاں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اس عظیم ہستی کا ذکر کروں گی کہ جو عبادت گزار، شجاعت کا پیکر، اور علمی خدمات میں اپنی مثال آپ تھیں وہ عظیم ہستی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، ہیں
آپ کو قرآن کریم کی پہلی حافظ کا اعزاز بھی حاصل ہے آپ بلند پایہ محدثہ تھیں
ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی استاد تھیں دین کا 1/3 حصہ انھی کی بدولت ہم تک پہنچا
آپ دینی علوم کے علاوہ طب، تاریخ، اور شعر وادب میں بھی دسترس رکھتی تھیں
آج ہمارے معاشرے کے وہ والدین جو صرف لڑکا پیدا ہونے اور صرف انھی کو تعلیم دینے پر زیادہ جوش و توجہ دکھاتے ہیں لیکن لڑکیوں پر توجہ نہیں دیتے وہ ذرا پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مقدس زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور لڑکیوں کو بھی علم شناسی دینے میں مدد کریں
یاد رکھیے ! جس قوم کی بیٹی علم کے زیور سے آراستہ ہو گی وہ قوم کبھی کاسہ لے کر اغیار کے در پر نہیں جائے گی

Views All Time
Views All Time
796
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   بجٹ سیاپا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: