ایک ہے شہر مانسہرہ…. سائرہ فاروق

Print Friendly, PDF & Email

میری زندگی کا زیادہ تر حصہ اسلام آباد اور قدیم شہر راولپنڈی میں گزرا ۔یہ دونوں شہر چونکہ ساتھ ساتھ واقع ہیں اس لیے جڑواں شہر بھی کہلاتے ہیں۔ بعد ازاں مستقل سکونت کی غرض سے مانسہرہ کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ہمارا آبائی شہر بھی ہے شاید اسی لئے مجھے ماحول میں کچھ خاص فرق نظر نہ آیا کیونکہ مانسہرہ بھی اک پرسکون شہر ہے یہاں پر زندگی سبک رو ندی کی طرح بہتی ضرور ہے مگر کسی کاسمو پولیٹن جیسی ہنگامہ پرور نہیں ۔
مانسہرہ ایک پرامن شہر ہے جو آنے والے مہمانوں اور سیاحوں کو دل سے خوش آمدید کہتا ہے۔ یہاں آپ بآسانی گھوم پھر سکتے ہیں۔ مقامی لوگ اسقدر خوش اخلاق اور ملنسار ہیں کہ آپ ان کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہاں کے باسی انتہائی سادہ طرز حیات اپنائے ہوئے ہیں۔ لباس میں قمیض شلوار مقبول ہے مگر لڑکے بالے کہیں کہیں پینٹ شرٹ بھی زیب تن کئے دکھائی دیتے ہیں جو یہاں کی معاشرت میں اتنی اجنبیت سے نہیں دیکھی جاتی ۔
میرا یہ شہر عبارت ہے، قدرت کے حسین نظاروں، بل کھاتی سڑکوں کے پار ایستادہ پر غرور پہاڑوں، صنوبر، دیودار، پاپلر، توت، کیکر، سرو، شیشم جیسے بے شمار قیمتی درختوں ، تاریخی مقامات، آثار قدیمہ،جنگلات، جھیلوں، بہترین تعلیمی مراکز، سرسبز و شاداب وادیاں، صحت افزاء مقامات، اور بے پناہ سکوت سے، جی ہاں یہ بے پناہ سکوت ہی یہاں کے باسیوں کو دوسرے شہروں میں بے چین رکھتا ہے اور وہ جلد ہی بڑے شہروں کی بے ہنگم اور تیز رفتار زندگی سے اکتا جاتے ہیں ۔
مانسہرہ خیبرپختونخواہ کا ضلع ہے۔ 1976 میں مانسہرہ نے ہزارہ سے الگ ہو کر اپنی شناخت بنائی۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام،اور کوہستان ہیں۔
ہزارہ کے بڑے شہر مانسہرہ، ایبٹ آباد، اور ہری پور ہیں ہندکو، کوہستانی، اور پشتو ہمارے علاقے کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہیں ۔
شاہراہ قراقرم، لاجسٹک logistic اعتبار اور معاشی نقطہ نظر سے ایک اچھا شاہکار ہے یہ شاہراہ اسلام آباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ سے ہوتی ہوئی چین کے صوبے سنکیانگ تک اہم روابط کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے لہذا یہ خطہ پاکستان میں جیو پولٹیکل کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مانسہرہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں پر سیداحمد شہید کی تحریک، تحریک مجاہدین وجود میں آئی اور آپ نے یہاں سے ہی سکھوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور سکھوں سے جنگ کر کے مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نفاذ کئے لیکن انگریزوں کی مکاری اور مقامی لوگوں کی غداری کی وجہ سے آپ نے بالاکوٹ کے میدان میں جام شہادت نوش کیا۔ تاریخی طور پر مانسہرہ سید احمد شہید کی جنگ بالاکوٹ کی وجہ سے بھی مشہور ہوا۔
مانسہرہ کی شہرت کو چار چاند لگانے میں اس کی چھوٹی بڑی جھیلوں کا بھی حصہ ہے۔ سیاحتی اور جغرافیائی اعتبار سے تین جھیلیں بے حد مشہور ہیں ۔ان میں جھیل لولو سر، جھیل دودی پت سر، اور جھیل سیف الملوک شامل ہیں یہ تینوں جھیلیں وادی کاغان میں واقع ہیں جو تحصیل بالاکوٹ کا حصہ ہے ۔یہاں اندرون اور بیرون ملک سے سیاح ان جھیلوں کی کشش میں کھنچے چلے آتے ہیں ۔

saif-ul-malookان تینوں جھیلوں میں اگر کوئی جھیل سب سے زیادہ شہرت کی حامل ہے تو وہ ہے جھیل سیف الملوک… میں جتنی بار بھی اس جھیل پر گئ اس جھیل نے مجھے اپنے فسوں میں گھیر لیا ۔یہ ہمارے مانسہرہ کی سب سے زیادہ مشہور اور خوبصورت جھیل شمار کی جاتی ہے اس جھیل کا نام ایک مشہور افسانوی داستان قصہ سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہوا۔ یہ قصہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان کے شمالی حصے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے تقریباً 3244 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ قریبی قصبہ ناران ہے ـ پیدل یا جیپ کے ذریعے ہی یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ ناران سے جھیل کا فاصلہ آٹھ کلو میٹر ہے اور ہائیکنگ کے لیے دوگھنٹے لگتے ہیں یہ دنیا کی انتہائی خوبصورت جھیلوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اس کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں میں بسانے کے لئےآتے ہیں اور اس کی دلفریبی کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔ سال کے کچھ مہینے میں اس کی سطح پر برف بھی پڑتی ہے جو اس کی خوبصورتی اور رعنائی کو مزید سحر انگیز بنا دیتی ہے۔
دور سے یہ جھیل پیالہ نما دکھائی دیتی ہے اس کا پانی موسم کے ساتھ رنگ بدلتا ہے ۔اردگرد کے بلندو بالا پہاڑوں کا عکس جب اس جھیل کے نیلگوں پانی پر ٹھہرتا ہے تو آپ کو مکمل مبہوت کر دیتا ہے اور یہاں پر ہی آپ کی نگاہ پریوں کو ڈھونڈنے نکلتی ہے جو اس جھیل کی وجہ شہرت بھی ہیں اور یہ مانا جاتا ہے کہ چاندنی راتوں میں یہاں جھیل پر پریاں اترتی ہیں۔
جھیل چونکہ بلندی پر واقع ہے لہذا سانس لینے میں قدرے دقت محسوس ہو گی ۔خچر اور گھوڑے بھی یہاں سیر کے لیے دستیاب ہیں اور اگر آپ میری طرح ڈرپوک ہیں تو چلنے میں ہی عافیت محسوس کریں گے لیکن آپ کے راستے کی تھکن اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب آپ اس پر پر پہلی نگاہ ڈالتے ہیں اور پہلی نگاہ کی محبت کس قدر جان لیوا ہے یہ عاشق ہہی بہتر سمجھتا ہے ۔
پریوں والی اس جھیل کا حسن نگاہوں کو اس قدر حیران کرتا ہے کہ آپ چند لمحے تو بالکل کسی بت کی طرح اس کے سامنے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو جائیں گے۔ اچھے خاصے سنجیدہ مزاج لوگوں کو بھی میں نے خوشی سے بچوں کی طرح اچھلتے دیکھا ہے۔ واؤ کا نعرہ دل سے نکلتا ہے اور آپ کے لبوں کو آہستگی سے چھوتا ہوا اس جھیل کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہاں ہی دل رکتا ہے، تھمتا ہے ہوائیں سر گوشیاں کرتی ہیں تتلیاں باتیں کرتی ہیں رنگ ہر سو بکھرے نظر آتے ہیں۔

یہ انتہائی طلسماتی جھیل نجانے مجھے کیوں بے پناہ پراسراریت چھپائے محسوس ہوتی ہے ۔جب آپ گہری ہوتی رات میں اس سے ملاقات کرنے جاتے ہیں تو خمار میں ڈوبا اس کا چہرہ آپ کو خود سپردگی کی طرف مائل کرتا ہے ۔اک مخصوص مہک بے پناہ سرسراتی خاموشی، آسمان سے اترتے ستارے، بدن میں اترتی خنکی اور مہیب سی روشنی آپ کو دیو مالائی دنیا میں پہنچا دیتی ہے۔
جہاں سے آپ کے لئے نکلنا کبھی کبھی بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔

یہ وادی ناپید ہے ـ قیام وطعام کی سہولت میسر نہیں ہے۔ چند کھانے پینے کے خیمہ نما ہوٹل ہیں جنھیں شام ہوتے ہی سمیٹ لیا جاتا ہے ۔یہاں قیام ناران میں کیا جاتا ہے۔ وہیں سے جیپ مسافروں کو لے جانے اور شام میں لانے کی پابند ہوتی ہیں۔ یہاں کیمپنگ بھی کی جاتی ہے۔ کچھ منچلے یہاں رات بھی بسر کرتے ہیں۔ یہاں پر آنے کا بہترین وقت اپریل سے ستمبر کا ہے کیونکہ اس کے بعد شدید برفباری کے باعث راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جھیل قدرت کا حسین تحفہ ہے مگر بد انتظامی کے باعث پریوں کی جھیل کچرے کے ڈھیر میں بدل رہی ہے دو سو گھوڑوں کے فضلے اور صفائی نہ ہونے کی وجہ سے جھیل کی خوبصورتی آہستہ آہستہ داغدار ہو رہی ہے ۔ یہ صرف حکومت کا ہی فرض نہیں ہے کہ وہ ہی اس کا سدباب کرے۔ اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے کچھ ہمارے بھی فرائض ہیں کہ جب ہم وہاں کھانے پینے کی اشیاء لے کر جائیں تو ریپرز جابجا نہ پھینکیں بلکہ اپنے پاس شاپر رکھیں اور اس میں تمام خالی ریپرز ڈالتے جائیں۔ اتنی اخلاقی جرات تو ہمارے اندر بھی ہونی چاہئے کہ اپنے اس قدرتی سیاحتی مرکز کی حفاظت کرسکیں۔

Views All Time
Views All Time
963
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ماں مجھے جینے دو نا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: