ساحر لدھیانوی

Print Friendly, PDF & Email

dr hinaیوں تو بساط اردو ادب پر کئی ستارے جگمگائے انہی میں ایک دمکتا نام مشہور فلمی شاعر جناب ساحر لدھیانوی کا ہے۔
میں نے گیت تیرے پیار کی خاطر لکھے
آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں
مایہء ناز شاعر ساحر لدھیانوی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ 8 مارچ 1921 میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے- ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا-ابتدائی تعلیم لدھیانہ میں حاصل کی اور وہیں کالج میں داخلہ لے لیا- وہ وقت سے پہلے ہی زندگی کے کڑوے سچ سے روشناس ہو چکے تھے-صرف 13 برس کی عمر کے تھے تو والدین میں علیحدگی ہوگئی جس کی وجہ سے والدہ نے ان کی پرورش اکیلے کی-جن کی تربیت اور محبت کا اثر تمام عمر ان پر حاوی رہا۔بعد ازاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ لاہور چلے آئے۔ یہ ان کی زندگی کا کٹھن ترین دور تھا۔ دن بھر زورگار کی فکر اور تگ ودو جاری رہتی اور رات بھر الفاظ کی قلم بندی۔ یہ وہ دور تھا جب ایک جانب تواقبال اور جوش کا سورج چمک رہا تھا تو دوسری طرف فیض اور فراق کے ستارے چمک رہے تھے۔تقسیم کے بعد وہ لاہور سے دلی چلے گئےاور چند ماہ وہاں گزارنے کے بعد ممبئی میں سکونت اختیار کرلی۔یہیں انہوں نے اپنا نام عبدالحئی عرف ساحر سے بدل کر ساحر لدھیانوی رکھ دیا۔اور فلمی شاعری کا آغاز کیا۔
ان کی پہلی فلم باکس آفس پر دستک نہ دے سکی لیکن 1951 میں فلم نوجوان کے گیتوں نے انہیں سپرہٹ کر دیا۔ اور پھر لگاتار سپرہٹ گیتوں کی یکے بعد دیگرے برسات نے انہیں چمکتا ستارہ بنا دیا تھا۔اور پھر ایسا دور بھی آیا کہ ہر مقبول فلم میں ساحر کےگانے ہوتے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ فلمی دنیا پر چھاگئے۔ کہا جاتا ہے کہ ساحر لدھیانوی وہ شاعر ہیں جن کی زندگی پر ان کے جیتے جی دو فلمیں بنی۔پیاسا اور کبھی کبھی۔ ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ ساحر تو واقعی فاموں کے شاعر تھے۔
ساحر کا مطلب جادوگر ہے اور وہ واقعی لفظوں کی جادوگری جانتے تھے۔ وہ اپنے دور کے حساس انسان واقع ہونے کے ساتھ الفاظ میں بھرپور قوت رکھتے تھے۔اپنے دور کے مایوسی میں ڈوبے لوگوں کو امید کا سورج بھی انہوں نے دکھایا۔
ظلم بھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپگے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا قف قاتل پہ جمے
عام آدمی پر ہونے والی زیادتی پر بھی کافی کچھ انہوں نے اپنےاشعار و الفاظ میں کہا۔وہ کہتے ہیں "دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو بات چیت سے حل نہ ہو سکے-جنگ ایک لعنت ہے اس سے جتنا ہو بچنا چاہئے۔”
تم ہی تجویز صلح لاتے ہو
تم ہی سامان جنگ بانٹے ہو
تم ہی کرتے ہو قتل کا ماتم
اور تم ہی تیر و تفنگ بانٹے ہو
ان کی زندگی میں جو درد اور جوش تھا وہ ان کی پہلی کتاب تلخیاں سے بخوبی نمایاں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ عمر بھر تنہا رہے۔امرتا پریتم اور سدھا ملہوترا سے جو ان کے تعلقات وابستہ ہوئے وہ شادی تک نہ پہنچ پائے۔
"جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا”
ان کا انتقال 25 اکتوبر 1980 میں دل کا شدید دورہ پڑنے سے ہوا۔ساحر کو ہم سے بچھڑے ہوئے آج 36 برس بیت گئے ہیں مگر آج بھی ان کے گیتوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔آج بھی بھی لدھیانہ کے کالج کا آڈیٹوریم ساحر لدھیانوی آڈیٹوریم کے نام سے منسوب ہے۔1971 میں انہیں Padma Shri Award ملا اور فلم کبھی کبھی کے لیے بالی وڈ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی انہیں ملا۔ان کے ایک قریبی دوست امر ورما نے ان سے کئے گئے وعدے کے مطابق ان کی قریب 50 نظمیں انگریزی میں منظوم ترجمہ کروا کر کتاب چھپوائی۔

Views All Time
Views All Time
1272
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جاسوسی ادب سائبان سے محروم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: