Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پنڈت نہرو کے نام پنڈت منٹو کا پہلا خط

by جولائی 14, 2017 ادب
پنڈت نہرو کے نام پنڈت منٹو کا پہلا خط
Print Friendly, PDF & Email

.یہ  منٹو کے کاغذات میں ملا تھا اور اسے کتاب ’باقیاتِ منٹو‘ میں شامل کیا گیا تھا.(جو اس کتاب کا دیباچہ بن گیا)

پنڈت جی۔ السلام علیکم

یہ میرا پہلا خط ہے جو میں آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ آپ ما شاء اللہ امریکنوں میں بڑے حسین متصور کئے جاتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے خد و خال کچھ ایسے برے نہیں ہیں۔ اگر میں امریکہ جاؤں تو شاید مجھے بھی حسن کا رتبہ عطا ہو جائے۔ لیکن آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور میں پاکستان کا عظیم افسانہ نگار۔ ان میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ بہر حال ہم دونوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ آپ کشمیری ہیں اور میں بھی۔ آپ نہرو ہیں ، میں منٹو…. کشمیری ہونے کا دوسرا مطلب خوبصورتی ہے، اور خوبصورتی کا مطلب، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا،

مدت سے میری تمنا تھی کہ آپ سے ملوں ( شاید بشرط زندگی ملاقات ہو بھی جائے) میرے بزرگ تو آپ کے بزرگوں سے اکثر ملتے جلتے رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ایسی صورت نہ نکلی کہ آپ سے ملاقات ہو سکے۔

یہ کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا تک نہیں۔ آواز ریڈیو پر البتہ ضرور سنی ہے وہ بھی ایک دفعہ۔

جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں مدت سے میر ی تمنا تھی کہ آپ سے ملوں ، اس لئے کہ آپ سے میرا کشمیر کا رشتہ ہے۔لیکن اب سوچتا ہوں ، اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کشمیری کسی نہ کسی راستے سے کسی نہ کسی چوراہے پر دوسرے کشمیری سے مل ہی جاتا ہے۔

آپ کسی نہر کے قریب آباد ہوئے اور نہرو ہو گئے اور میں اب تک سوچتا ہوں کہ منٹو کیسے ہو گیا۔ آپ نے تو خیر لاکھوں مرتبہ کشمیر دیکھا ہو گا، مگر مجھے صرف بانہال تک جانا نصیب ہوا ہے۔ میرے کشمیری دوست جو کشمیری زبان جانتے ہیں۔ مجھے بتاتے ہیں کہ منٹو کا مطلب’’ منٹ‘‘ ہے یعنی ڈیڑھ سیر کا بٹہ۔ آپ یقیناً کشمیری جانتے ہوں گے۔ اس خط کا جواب لکھنے کی اگر آپ زحمت فرمائیں تو مجھے ضرور لکھئے کہ ’’ منٹو کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔؟

اگر میں صرف ڈیڑھ سیر ہوں تو میرا آپ کا مقابلہ نہیں آپ پوری نہر ہیں۔ اور میں صرف ڈیڑھ سیر، آپ سے میں کیا ٹکر لے سکتا ہوں ؟ لیکن ہم دونوں ایسی بندوقیں ہیں جو کشمیریوں کے متعلق مشہور کہاوت کے مطابق’’ دھوپ میں ٹھس کرتی ہیں ….‘‘

معاف کیجئے گا۔ آپ اس کا برا نہ مانئے گا…. میں نے بھی یہ فرضی کہاوت سنی تو کشمیری ہونے کی وجہ سے میرا تن بدن جل گیا۔ چونکہ یہ دلچسپ ہے، اس لئے میں نے اس کا ذکر تفریحی کر دیا۔  حالانکہ میں اور آپ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کشمیری کسی میدان میں آج تک نہیں ہارے۔

سیاست میں آ پ کا نام میں بڑے فخر سے لے سکتا ہوں کیونکہ آپ بات کہہ کر فوراً تردید کرنا خوب جانتے ہیں۔ پہلوانی میں ہم کشمیریوں کو آج تک کس نے ہرایا ہے۔ شاعری میں ہم سے کون بازی لے سکا ہے۔ لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی ہے کہ آپ ہمارا دریا بند کر رہے ہیں۔ لیکن پنڈت جی آپ تو صرف نہرو ہیں۔ افسوس کہ میں ڈیڑھ سیر کا بٹہ ہوں۔ اگر میں تیس چالیس ہزار من کا پتھر ہوتا تو خود کو اس دریا میں لڑھکا دیتا کہ آپ کچھ دیر کے لئے اس کو نکالنے کے لئے اپنے انجینئروں سے مشورہ کرتے رہتے۔

پنڈت جی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ بڑے آدمی ہیں ، آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں ، اس ملک پر جس سے ہمارا بھی تعلق رہا ہے۔ آپ کی حکمرانی ہے۔ آپ سب کچھ ہیں۔لیکن گستاخی معاف، کہ آپ نے اس خاکسار( جو کشمیری ہے) کی کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔

دیکھئے۔ میں آپ سے ایک دلچسپ بات کا ذکر کرتا ہوں۔ میرے والد صاحب( مرحوم) جو ظاہر ہے کہ کشمیری تھے۔ جب کسی ہاتو، کو دیکھتے تو اسے گھر لے آتے ڈیوڑھی میں بٹھا کر اسے نمکین چائے پلاتے، ساتھ قلچہ بھی ہوتا۔ اس کے بعد وہ بڑے فخر سے اس ’’ہاتو‘‘ سے کہتے’’ میں بھی کاشر ہوں ‘‘

پنڈت جی آپ کاشر ہیں …. خدا کی قسم اگر آپ میری جان لینا چاہیں تو ہر وقت حاضر ہے۔ میں جانتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ آپ صرف اس لئے کشمیر کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں کہ آپ کو کشمیر سے کشمیری ہونے کے باعث بڑی مقناطیسی قسم کی محبت ہے۔ یہ ہر کشمیری کو خواہ اس نے کبھی کشمیر دیکھا بھی نہ ہو، ہونا چاہئے۔

جیسا کہ میں اس خط میں پہلے لکھ چکا ہوں ، میں صرف بانہال تک گیا ہوں ، کد۔ بٹوت، کشٹوار یہ سب علاقہ میں نے دیکھے ہیں لیکن حسن کے ساتھ میں نے افلاس چپکا دیکھا۔ اگر آپ نے اس افلاس کو دور کر دیا ہے تو آپ کشمیر اپنے پاس رکھئے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ کشمیری ہونے کے باوجود اسے دور نہیں کر سکتے، اس لئے کہ آپ کو اتنی فرصت ہی نہیں۔

آپ ایسا کیوں نہیں کرتے…. میں آپ کا پنڈت بھائی ہوں ، مجھے بلا لیجئے۔ میں پہلے آپ کے گھر شلجم کی شب دیگ کھاؤں گا۔ اس کے بعد کشمیر کا سارا کام سنبھال لوں گا۔ یہ بخشی وغیرہ اب بخش دینے کے قابل ہیں …. اول درجے کے چار سو بیس ہیں انہیں آپ نے خواہ مخواہ اپنی ضروریات کے مطابق اعلیٰ رتبہ بخش دیا ہے…. آخر کیوں ؟…. میں سمجھتا ہوں کہ آپ سیاست دان ہیں ، جو کہ میں نہیں ہوں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کوئی بات سمجھ نہ سکوں۔

بٹوارہ ہوا۔ ریڈ کلف نے جو جھک مار نا تھا مارا۔ آپ نے جونا گڑھ پر نا جائز طور پر قبضہ کر لیا، جو کہ کشمیری، کسی مرہٹے کے زیر اثر ہی کر سکتا ہے۔ میرا مطلب پٹیل سے ہے( خدا اسے مغفرت کرے)

حیدر آباد پر بھی آپ نے جارحانہ حملہ کیا وہاں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اور آخر میں ا س پر قبضہ جما لیا۔کیا یہ سراسر زیادتی نہیں آپ کی؟

آپ انگریزی زبان کے ادیب ہیں …. میں بھی یہاں اردو میں افسانہ نگاری کرتا ہوں ….اس زبان میں جس کو آپ ہندوستان میں مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پنڈت جی، میں آپ کے بیانات پڑھتا رہتا ہوں۔ ان سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آپ کو اردو عزیز ہے لیکن میں نے آپ کی ایک تقریر ریڈیو پر جب ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوئے تھے، سنی…. آپ کی انگریزی کے تو سب قائل ہیں ، لیکن جب آپ نے نام نہاد اردو میں بولنا شروع کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی انگریزی تقریر کا ترجمہ کسی کٹر مہا سبھائی نے کیا ہے، جسے پڑھتے وقت آپ کی زبان کا ذائقہ درست نہیں تھا۔ آپ ہر فقرے پر ابکائیاں لے رہے تھے۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نے ایسی تحریر پڑھنا قبول کیسے کی…. یہ اس زمانے کی بات ہے جب ریڈ کلف نے ہندوستان کی ڈبل روٹی کے دو توس بنا کے رکھ دئیے تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک وہ سینکے نہیں گئے۔ ادھر آپ سینک رہے ہیں ، اور ادھر ہم۔ لیکن آپ کی ہماری انگیٹھیوں میں آگ باہر سے آ رہی ہے۔

پنڈت جی، آج کل بگو گوشوں کا موسم ہے…. گوشے تو خیر میں نے بے شمار دیکھے ہیں۔لیکن بگو گوشے کھانے کو جی بہت چاہتا ہے۔یہ آپ نے کیا ظلم کیا کہ بخشی کو سارا حق بخش دیا، کہ وہ بخششیں میں بھی مجھے تھوڑے سے بگو گوشے نہیں بھیجتا۔

بخشی جائے جہنم میں اور بگو گوشے…. نہیں وہ جہاں ہیں سلامت رہیں مجھے آپ سے دراصل کہنا یہ تھا کہ آپ میری کتابیں کیوں نہیں پڑھتے۔ آپ نے اگر پڑھی ہیں تو مجھے افسوس ہے کہ آپ نے داد نہیں دی۔ اگر نہیں پڑھیں تو اور بھی زیادہ افسوس کا مقام ہے، اس لئے آپ ادیب ہیں۔

آپ سے مجھے ایک اور بھی گلہ ہے۔ آپ ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر رہے ہیں اور آپ کی دیکھا دیکھی آپ کی راج دھانی کے پبلشر میری اجازت کے بغیر میری کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی شرافت ہے…. میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ کی وزارت میں ایسی کوئی بے ہودہ حرکت ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر آپ کو فوراً معلوم ہو سکتا ہے کہ دلی۔ لکھنؤ اور جالندھر میں کتنے ناشروں نے میری کتابیں ناجائز طور پر چھاپی ہیں۔

فحش نگاری کے الزام میں مجھ پر کئی مقدمے چل چکے ہیں ، مگر یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ دلی میں ، آپ کی ناک کے عین نیچے وہاں کا ایک پبلشر میرے افسانوں کا مجموعہ’’ منٹو کے فحش افسانے‘‘ کے نام سے شائع کرتا ہے۔

میں نے کتاب’’ گنجے فرشتے‘‘ لکھی …. اس کو آپ کے بھارت کے ایک پبلشر نے ’’ پردے کے پیچھے‘‘ کے عنوان سے شائع کر دیا…. اب بتایئے میں کیا کروں…. آپ ہی کچھ کیجئے۔

میں نے یہ نئی کتاب لکھی ہے کہ اس کا دیباچہ یہی خط ہے جو میں نے آ پ کے نام لکھا ہے…. اگر یہ کتاب بھی آپ کے یہاں نا جائز طور پر چھپ گئی تو خدا کی قسم کسی نہ کسی طرح دلی پہنچ کر آپ کو گریبان سے پکڑ لوں گا۔ پھر چھوڑوں گا نہیں آپ نے…. آپ کے ساتھ ایسا چمٹوں گا کہ آپ ساری عمر یاد رکھیں گے۔ ہر روز صبح کو آپ سے کہوں گا کہ نمکین چائے پلائیں۔ ساتھ ایک تافتانہ بھی ہو شلجموں کی شب دیک تو خیر ہر ہفتے کے بعد ضرور ہو گی۔

یہ کتاب چھپ جائے تو میں اس کا ایک نسخہ آپ کو بھیجوں گا۔ امید ہے آپ اس کی رسید سے مجھے ضرور مطلع کریں گے،اور میری تحریر کے متعلق اپنی رائے سے بھی ضرور آگاہ کریں گے۔

آپ کو میرے خط سے جلے ہوئے گوشت کی بو آئے گی…. آپ کو معلوم ہے ہمارے وطن کشمیر میں ایک شاعر غنی رہتا تھا جو غنی کاشمیری کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پاس ایران سے ایک شاعر آیا ہے۔ اس کے گھر کے دروازے کھلے تھے، اس لئے کہ وہ گھر میں نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میرے گھر میں ہے کیا جو میں دروازے بند رکھوں۔ البتہ جب میں گھر میں ہوتا ہوں تو دروازے بند کر دیتا ہوں ، اس لئے کہ میں ہی تو اس کی واحد دولت ہوں۔

ایرانی شاعر اس کے ویران گھر میں اپنی بیاض چھوڑ گیا۔ اس میں ایک شعر نامکمل تھا مصرع ثانی ہو گیا، مگر مصرع اولیٰ اس شاعر سے نہیں کہا گیا تھا۔ مصرع ثانی یہ تھا

کہ از لباس تو بوئے کباب  می آید

جب وہ ایرانی شاعر کچھ دیر کے بعد واپس آیا تو اس نے اپنی بیاض دیکھی مصرع اولیٰ موجود تھا

کدام سوختہ جان دست زدبد امانت

پنڈت جی، میں بھی ایک سوختہ جان ہوں۔ میں نے آپ کے دامن میں اپنا ہاتھ دیا ہے، اس لئے کہ میں یہ کتاب آپ کے نام سے معنون کر رہا ہوں۔

سعادت منٹو

27 اگست1954ء

Views All Time
Views All Time
296
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شیر پنجاب مصطفی کھر اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے دربدر | انو رعباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: