Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اضطراب-صبا کوثر

by مئی 4, 2017 بلاگ
اضطراب-صبا کوثر

ایک طرف کاغذقلم ایک ایش ٹرے میں بکھرے سگریٹ کے ٹوٹے اور ایک ڈھیر تڑے مڑے کاغذوں کا۔
دماغ میں جیسے انبار لگا ہے کہ لکھنے بیٹھوں تو کاغذ کے کاغذ رنگ دوں اور خیالات اور حقیقت کی رونمائی ختم نہ ہو۔لیکن یہ کاغذکورا ہے۔یہ قلم لکھنے کو راضی نہیں کیوں کہ جو میں لکھنا چاہتا ہوں اسے پڑھنے اورسمجھنے کو کوئی راضی نہیں۔وہ بکتا نہیں اور اسکا کوئی خریدار نہیں۔جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں میں وہ لکھنے سے قاصر ہوں کہ میرا ایک معیار ہے ایک سوچ ہے میں وہ لکھتا ہوں جو محسوس کرتا ہوں دیکھتا ہوں اور لوگ وہ پڑھنا چاہتے ہیں جس میں حقیقت نہ ہوجو انکے اردگرد ہے۔حقیقت کا وہ آئینہ جس میں ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔وہ چاہتے ہیں میں وہ لکھوں جو ہیجان پیدا کرے۔جھوٹ میں سچ کی بس اسی قدرآمیزش کروں کہ جو اسکی کھوکھلےپن کو محسوس نہ ہونے دے۔
میں لکھنا چاہتا ہوں ہر وہ سچ جو میں دیکھتا ہوں محسوس کرتا ہوں۔ ہر وہ جھوٹ جو میں نے سہا ہے۔ہر وہ چوٹ جو مجھے لگی ہے۔
اس معاشرے کے گلیاروں میں ہر گھر میں جو سسکیاں دبی ہیں۔گزرگاھوں میں گلی کے نکڑ پر، تھڑے کی بیٹھک میں جوخاموشی جو صدائیں بکھری پڑی ہیں۔وہ میری طرف یاس بھری نظروں سے تکاکرتی ہیں۔ جیسے انہیں بھی علم ہے کہ یہ قلم انکی زبان نہیں بن پائےگا۔انہیں مجھ سے امید نہیں کہ میں انہیں بیان کر پاؤں گا۔جیسے وہ جانتی ہیں کہ جواضطراب وہ میرے اندر دیکھ رہی ہیں وہ طوفان کبھی ان کے اندربھی برپا ہوا تھا۔یہ مری انگلیوں کی بے چینی، سطر لکھ لکھ کر کاٹ دینا یہ کیفیت ان پر بھی گزری ہے۔
تو کیا میں بھی کسی محفل،ڈنرٹیبل،گلی کی بیٹھک یا کسی تاریک کمرے میں یوں بے صدا،شکست خوردہ رہ جاؤں گا۔بلند قہقہوں،پرشور محفلوں میں اپنے اندر سناٹا لئے۔
یہ جو شور میرے اندر جیسے کوئی قید پرندہ آزادی کے لئے پر پھڑپھڑارہا ہے،آزادی کا راستہ ڈھونڈرہا ہے۔ کیا یہ یونہی بےقرار زخمی چونچ ٹوٹے خون آلود پرلئے اک دن اسی قفس میں تھک کر جان ہار دے گا اور پھر میرا جسم بھی اس پنجرے کی مانند رہ جائے گا جس میں ایک خیال،ایک سوچ کی لاش پڑی ہوگی۔جس سے اٹھتا تعفن مجھے اپنے آپ میں محسوس ہوگا جسے میں کھوکھلے قہقہوں، بےکارمحفلوں،لاحاصل مباحثوں سے دباؤں گا۔
لیکن تنہائ میں اپنےکمرے میں آئینہ دیکھتے کیسے سامنا کرپاؤںگا ۔
نہیں میں قتل نہیں کرسکتا۔۔قید نہیں رکھ سکتا۔ میرے الفاظ میرے افکار میری سوچ چاہے انکے نصیب میں داد و توصیف نہ ہو،انکی اڑان خوبصورت وادیاں،بہتی نہریں، ٹھنڈی چھاؤں اور اور قوسِ قزح کی باتیں نہ ہو۔میٹھی،نرم ونازک محبت کی داستانوں کے طلسم اپنے اندر نہ سمیٹے ہو میں لکھوں گا۔میں لکھوں گا وہ جو بھیانک اور مکروہ ہے۔جس کو صرفِ نظر کرکے جھوٹ کے پردے چڑھا کر چھپا لیا جاتا ہے لیکن اسکا تعفن اسکی بوہمارے اس معاشرے کو غلیظ بنا رہی ہے۔ جہاں جسم نہیں سوچ اور رشتے سڑ رہے ہیں۔ خوبصورت کپڑوں،معزز شخصیتوں کے پیچھے جو کراہیت زدہ ذہنیت دانت نکوسے کسی بھیڑئیے کی طرح بیٹھی ہے میں اسے کیسے بھیڑ کہوں؟ جو ہے نہیں اسے محسوس کیسے کروں؟
میں بھی محبت کو داستانیں لکھنا چاہتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے محبت کا لمس محسوس کرنا چاہتا ہوں۔
خلوص کی چاشنی، محبت کی نرم گود، چاند کی روشنی اور من کا میت۔ اس سب پر کیسے لکھوں جب لمحوں کی بھوک محبت کہلائے ۔ چاہ کے پیچھے ہوس چھپائے کوئ گھات لگائے۔جب تک چاہ نہ ہو خالص تو بانسری سے سر بھی نہیں نکلتے،فضاء میں رنگ نہیں بکھرتے۔
وہ بانسری کے سرنہیں تھے جو ہیرکوکھینچ لاتے تھے وہ تورانجھے کی محبت تھی جو ہیرکوبانسری کی آواز میں باندھ کرلاتی تھی۔میرے اندرکا پھڑپھڑاتا پرندہ اورہاتھ میں جکڑاقلم ۔ دونوں بےقرارہیں اس آسمان کی حدچھونے کے لئے۔لیکن دونوں قید پابندیوں میں جکڑے ،روایات کی،رسم و رواج کی، سماج کی حدوں کی ،ان حدوں کی جو بے بنیاد ہیں، دہرے معیار رکھتی ہیں بکتی ہیں اگر خریدارہوکوئی مول لگائے اور خرید لے حد بھی اور روایات بھی،اڑان بھی اور راستہ بھی۔
میں کیسے کہہ دوں کہ سب اچھا ہے جب ہر سو جھوٹ پھیلا ہے؟ میں کیسے کہہ دوں کہ جب سچ اور جھوٹ کا پیمانہ ایک مداری کے ہاتھ میں ہے وہ جب چاہے اپنی فنکاری سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنادے۔
اور ذومعنی مسکراہٹ سجائے ہر لحظہ چہرہ بدلتا ہو۔اس معاشرے کی تلخی اپنے اندر رکھتے رکھتے میں بہت تلخ ہوچکا ہوں میرے ہاتھ میں دبی سگریٹ کے ذائقے سے بھی تلخ۔ کبھی کبھی یہ تلخی ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے اور کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ کر کاغذ پر بکھر جاتی ہے۔چاہے مجھے پڑھا نہ جائے داد و تحسین میرا مقدر نہ بنے لیکن میں بک نہیں سکتا۔اس سچ اور جھوٹ کے پیمانے میں خود سے تولنے کا موقع نہیں دے سکتا۔اس مداری سے خود کو کھیلنے نہیں دے سکتا۔اس نقارخانے میں میری آواز سنائی نہیں پڑتی لیکن اس دکھ سے میں اپنی سرگوشی کو قتل نہیں کرسکتا۔میرے الفاظ انکے لئے بےمعنی ،بدصورت اور آڑی ترچھی لائینز ہیں مداری کے ہاتھ میں تھمے جادوئی آئینے میں اپنا عکس دیکھنے کے عادی ہیں

Views All Time
Views All Time
293
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: