غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

Print Friendly, PDF & Email

کچھ دیر پہلے ایک مسلم لیگی راہنما کا بیان نظروں سے گزرا جس کے مطابق "میاں نواز شریف کے جانے سے قوم یتیم ہوچکی ہے”۔ یہ میرے لیے لمحہ فکریہ تھا کہ ایک سیاستدان کے جانے سے اکیس کروڑ عوام "یتیم” ہوچکی ہے۔اس طرح کی خوش فہمیاں آج کی بات نہیں،اقتدار پرستی وہ موذی مرض ہے جس نے رومن ایمپائر سے لے کر مغلیہ سلطنت تک کسی کو نہیں چھوڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قدرت جب کسی قوم سے انتقام لیتی ہے تو اقتدار پرست حکمران اس پر مسلط کر دیتی ہے جو انصاف ،میرٹ اور انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔

رومن ایمپائر دنیا کی واحد سلطنت تھی، جس نے آج سے ہزاروں سال پہلے حیران کن ترقی کی تھی۔روم واحد شہر تھا، جس کی آبادی دس لاکھ تک پہنچ چکی تھی، مگر جب وہاں اقتدار پرستی کی ملکہ داخل ہوئی تو روم کی تنزلی کا سورج بلند ہونے لگا۔سکندر اعظم یونان سے نکلا اور آدھی دنیا پر چھا گیا،مگر اس کی یہ فتوحات اس کے اقتدار پرست جانشینوں کے سبب اپنی جغرافیائی حیثیت بھی برقرار نہ رکھ سکیں۔ قیصر روم بھی دنیا کا عظیم حکمران رہا۔کسریٰ کے سامنے بھی دنیا ہاتھ باندھے کھڑی رہی،چنگیز اور ہلاکو خان بھی دنیا میں حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے اور برصغیر میں مغلیہ خاندان بھی ایک ہزار سال تک حکمرانی کے جھولے میں جھولتا رہا،مگر ان تمام سلطنتوں میں جب اقتدار پرست حکمران داخل ہوئے تو رومن ایمپائر کا وجود لرزنے لگا،کسریٰ کے پاؤں لرزنے لگے۔

سکندر اعظم کی عظمت کے نشان خاک میں مل گئے،ہلاکو اور چنگیز خان تاریخ کے صفحات تک سمٹ کر رہ گئے اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر نے رنگون کے قید خانے میں : "کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے "جیسی بے بسی ،بے کسی اور ندامت سے بھرپور شاعری کرتے ہوئے باقی عمر گزار دی۔
امیر تیمور نے پچاس سے زائد ملکوں پر حکومت کی، مگر جب اقتدار پرستی تیمور کی سلطنت میں داخل ہوئی تو اس کی سلطنت کا سورج غروب ہونے لگا۔ اندلس پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی اور اس وقت جب یورپ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں فٹ فٹ گندا پانی کھڑا ہوتا تھا،قرطبہ اور غرناطہ میں اس وقت زندگی پورے جوبن پر تھی۔ دنیا بھر کے سیاح اندلس جاتے اور وہاں سے تہذیب ،ثقافت،طرززندگی اور حکمرانی کے اصول سیکھ کر آتے تھے، مگر جب اقتدار پرستی اندلس کے ایوانوں میں داخل ہوئی تو ابو عبداللہ عورتوں کی طرح آنسو بہاتا ہوا اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہوااور ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈینیڈسے زندگی کی بھیک مانگتا ہوا تاریخ کا حصہ بن گیا۔

دنیا بھر کے حکمرانوں میں یہ مرض عام ہے کہ وہ خود کو”ناگزیر” سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ جس دن ہم اقتدار سے الگ ہوں گے، اس دن ہمارا ملک اور ہماری قوم تباہ ہو جائیں گے۔ان کا یہی خبط ان کی اقتدار پرستی کا سبب بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فیدرل کاسترو پچاس سال اس خبط میں مبتلا رہا ،چیانگ کائی شیک 46سال اس خبط میں مبتلا رہا،کم ال سنگ 45سال اس خبط میں مبتلا رہا۔ایسے خبط کی اَن گنت مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم کے دنیا سے جانے کے بعد کسی نے خود کشی نہیں کی۔ہلاکواور چنگیز کی موت کے بعد بھی دنیا قائم ہے۔چینگ کائی شیک کے اقتدار سے علیحدہ ہونے پر کسی نے آنسو نہیں بہائے۔کم ال سنگ کی حکومت ختم ہونے پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی ،عمر بونگو کا اقتدار ختم ہونے پر قدرت نے کبھی احتجاج نہیں کیا۔

قدرت کا ایک اصول ہے کہ وہ ہر حکمران کو نیک نامی اور بدنامی کے یکساں مواقع دیتی ہے۔جو حکمران انصاف ،میرٹ،قانون اور انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، قدرت انہیں اعلیٰ نمبروں سے پاس کر دیتی ہے اور ان کے نام کو تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے۔اور جو حکمران اقتدارکی شراب پی کر مدہوش ہو جائیں، قدرت انہیں لوہے کے پنجروں میں بند کر کے کورٹ میں لاتی ہے، پھرانہیں دفن کے لئے اپنے وطن کی مٹی تک نصیب نہیں ہوتی۔

Views All Time
Views All Time
125
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فنِ سخن میں جنوں کی حد تک ریاضت کرتی شاعرہ۔۔۔ سدرہ میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: