ہمارا فرسودہ تعلیمی نصاب اور جدید دور کے تقاضے

Print Friendly, PDF & Email

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔تعلیم کی مثلث استاد ،طالب علم اور نصاب سے مکمل ہوتی ہے جس میں نصاب پہلی اینٹ ہے جس پر کسی قوم کی تعلیمی عمارت استوار ہوتی ہے۔تعلیمی اداروں میں جن چیزوں کی مدد سے متعین تجربوں کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے انہیں تعلیمی نصاب کہا جاتا ہے۔ نصاب کے لیے انگریزی کا لفظ Curriculum استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے”ایسا راستہ جس پر دوڑ لگائی جائے”ْ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نصاب کے راستے بچوں کے لیے اتنے کٹھن ہیں کہ ان کے لیے منزل تک پہنچنا دشوار ہوچکا ہے۔
ایک اچھے نصاب کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف طالبعلم کو خواندہ بناتا ہے بلکہ طالبعلم کو اس کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے اور معاشی سرگرمیوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل بھی بناتا ہے۔تعلیمی نصاب کا اولین مقصدطالبعلم کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سلجھاتے ہوئے معاشرے میں باوقار شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔ طالبعلم کی کردار سازی کے علاوہ اس کی فکری، تمدنی اور تہذیبی تربیت کا انحصار بھی تعلیمی نصاب پر ہوتاہے۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی نصاب اس بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے کہ سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہونے والے طلبااور طا لبات اپنے مضا مین میں ماہر ہوں۔ اگر کوئی طالب علم معاشیات سیکھ رہا ہے تو اسے ایک اچھا ماہر اقتصادیات اور ذمہ دار شہری بن کر نکلنا ہوگا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب اس معیار پر پورا نہیں اترتا جوطلباء کو ڈگری دینے کے علاوہ انہیں عملی زندگی میں کامیاب اور مہذب شہری بناسکے۔یہی وجہ ہے کہ اس نصاب کے پیداکردہ طالب علم ڈگری کے ذریعے نوکری تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ووٹ کا صحیح استعمال، قوانین کی پابندی، احترام انسانیت اور رواداری جیسے اوصاف حمیدہ سے محروم ہوتے ہیں۔
ہمارے نظام تعلیم کی تباہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نصاب تعلیم کی کوئی سمت متعین نہیں کرسکے کہ ہمیں اپنے طالبعلم کو کیا پڑھانا ہے؟ اور کس طرح پڑھانا ہے؟ ہمارا نصاب منطق کی بجائے جذباتیت پر مبنی ہے جس میں فرسودہ روایات اور گھسی پھٹی کہانیوں کو نصاب کا حصہ بنا کر طلباء کی سوچ کو محدود کر دیا گیا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ سائنس ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایک قدم آگے بڑھ رہی ہے جس کا براہ راست اثر تعلیمی نظام اور نصاب پر پڑا ہے۔لیکن ہمارے ہاں آج بھی گزشتہ صدی کا نصاب رائج ہے جس میں کئی نسلوں سے ترمیم نہیں کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ہم تعلیم کے میدان میں اقوام عالم سے دو دہائیاں پیچھے ہیں۔نئی نسل کی نفسیات اور ماحول کے مطابق ایسا نصاب مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔
مشہور فلسفی وہائٹ ہیڈ کا قول ہے "علم زیادہ ہے اور زندگی چھوٹی، اس لیے زیادہ مضامین مت پڑھائیں لیکن جو کچھ پڑھائیں اسے بھرپور انداز میں پڑھائیں”۔اس کے برعکس ہمارے ہاں نصاب میں معیار کے بجائے مقدار پر زور دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں درسی کتابیں اتنی ضخیم ہوچکی ہیں کہ بچے کے لیے ان کا پڑھنا تو کجا اٹھانا بھی بوجھ ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ درسی نصاب کی موجودہ کتابوں میں غیر ضروری مواد زیادہ ہوتا ہے جس میں ایک ہی بات کی بار بار تکرار کی جاتی ہے جس کا عام زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ نصاب میں اکثر ابواب اتنے خشک اور بور ہوتے ہیں کہ ان میں بچے کی دلچسپی کے لیے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر کتابوں کے اسباق بھی بے ترتیب ہوتے ہیں جن سے بچوں کو اپنا ذہنی تسلسل برقرار رکھنے میں خاصی دشواری ہوتی ہے۔اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے نصاب مرتب کرنے والے اداروں کو پرائمری اور سیکنڈری سطح کے طلباء کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ طالبعلم اپنی صلاحیتوں کو بہترین انداز میں بروئے کار لاسکیں۔
پاکستان میں چار مختلف نظام تعلیم رائج ہیں جس میں مدرسہ، نجی تعلیمی ادارے،انگلش میڈیم نجی تعلیمی ادارے اور سرکاری سکول شامل ہیں۔ان اداروں میں اپنا مخصوص تعلیمی نصاب رائج ہے جو ایک دوسرے کی نفی کرتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تفریق اور عد م توازن کی فضا فروغ پارہی ہے۔تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ایک بچہ گھر میں پنجابی،سرائیکی، بلوچی، سندھی یا پشتو بولتا ہے ، عملی زندگی میں اسے اردو بولنا ہوتی ہے لیکن اس کا نصاب انگریزی میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔انگریزی زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن پورے تعلیمی نظام کو انگریزی خطوط پر استوار کرنا طالبعلموں کے ساتھ ظلم ہے جس کے نتیجہ میں ذہنی طور پر ایسا کنفیوزڈ معاشرہ تشکیل پارہا ہے جو اردو اور انگریزی کے درمیان اپنا تشخص کھو چکا ہے۔جرمنی، فرانس، چین ، جاپان سمیت ایسے کئی ممالک ہیں جنہوں نے اپنی ضروریات کے پیش نظر انگریزی کے بجائے اپنی قومی زبانوں میں تعلیمی نصاب تشکیل دیا اور آج ان کی شرح خواندگی اور معاشی ترقی دنیا کے لیے روشن مثال ہے۔
نصاب تعلیم کا انحصار ریاست کی قومی تعلیمی پالیسی پر ہوتا ہے جس میں مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جاتا ہے۔ وقت اور حالات کے تحت جہاں دیگر ریاستی امور و معاملات تبدیلیوں اور تغیرات سے گزرتے ہیں وہیں تعلیمی اہداف بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔چونکہ نصاب تعلیم قومی اہداف سے مشروط ہوتا ہے، اس لیے اس میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کے تعلیمی نصاب میں ترامیم کے لیے امریکی ادارے USCRIF اور دیگر عالمی اداروں کی مداخلت بھی تشویشناک ہے کیوں کہ کوئی بھی ملک اپنے اقداروروایات کے مطابق اپنا نصاب مرتب کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ہمارے ہاں تعلیمی پالیسیوں کا انحصار سیاسی قیادت اور ان کے مقاصد پر ہوتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں مختلف ادوار میں سات تعلیمی پالیسیاں، آٹھ پانچ سالہ منصوبے ، درجن بھر اسکیمیں اور بے شمار کانفرنسیں اورسیمینارز منعقد ہوئے لیکن مثبت انداز میں تعلیمی نصاب کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ہر آنے والے حکمران نے تعلیمی میدان میں ناکامیوں کا اعتراف کیا لیکن تعلیمی پالیسیاں بناتے وقت سیاسی مفادات کو ملکی مفاد پرفوقیت دی۔ناقص تعلیمی پالیسیوں اور مفاداتی نصاب تعلیم کی وجہ سے تعلیمی اہلیت کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بانجھ ہوگیاجس کی وجہ سے ہم سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود کوئی عالمی سطح کے دانشوریا اپنے دیگرشعبہ زندگی میں مہارت کے حامل افراد تیار نہیں کر پائے۔2010ء میں جب اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیمی پالیسی، پلاننگ، گورننس، اور نصاب کے معاملات کو صوبوں کے حوالے کردینے کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخواہ نے کچھ سفارشات پر عمل کیا لیکن معمولی ترامیم کے بجائے تعلیمی نصاب کا ڈھانچہ بدلنے کی ضرورت ہے جو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔تعلیمی ماہرین اور دینی سکالرز کی زیر نگرانی تعلیمی نصاب کو از سر نو ترتیب دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہواور اس نصاب میں قومی زبان اردو کی اہمیت و حیثیت کوبھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 22 اور نیشنل ایکشن پلان 2015ء پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام مذاہب کے علماء کو اعتماد میں لیا جائے اور بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری کے فروغ کے لیے متوازن نصاب مرتب کیا جائے۔سائنس اور دیگر شعبوں میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کے پیش نظرہر سال نصاب پر نظر ثانی کرنی چاہیے جس میں جدید دور کے تقاضوں، طلباء کی نفسیات وضرورت اور قابل اساتذہ کے تجربات کی روشنی میں نصاب کے مسودے کی منظوری کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے ۔

Views All Time
Views All Time
344
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دنیائے ادب کا روشن ستارہ غروب ہوگیا! - اختر سردار چودھری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: