شام اوربحرین: خودساختہ جعلی احتجاج بمقابلہ اصلی جمہوریت نواز احتجاج-ریاض ملک

Print Friendly, PDF & Email

ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے بڑے پیمانے مظاہرے ہوئے ہیں۔مظاہرین جمہوریت چاہتے ہیں۔اگرچہ مظاہرین میں زیادہ تعداد ایک خاص مسلک کے مسلمانوں کی ہے لیکن ان مظاہروں کا رنگ فرقہ وارانہ نہیں ہے۔

بڑے پیمانے پہ کریک ڈاءون ہوا ہے۔وہ عرب مسلمان جو ایک ہزار سال سے اس خطے میں آباد اور مقامی شہری ہیں ان کے خلاف ظالمانہ کاروائیاں کی گئی ہیں۔ان مظاہرین کے جو نمایاں لیڈر ہیں یا تو ان کو قتل کردیا گیا ہے یا وہ جیلوں میں پڑے ہیں۔

ہمسایہ ملک کے وہ عرب جو ان مظاہرین سے ہمدردی رکھتے تھے ان کو بھی ہمسایہ ملک نے گرفتار کیا اور کئی لوگوں کو پھانسی بھی دی ہے۔دنیا ان کے نام جانتی ہے اور ان کے پرامن پس منظر سے واقف ہے لیکن کچھ نہیں کرتی۔

ایک سپر پاور اس ملک کی جابر بادشاہت کو پوری فوجی امداد بھیجتی ہے جبکہ دو ممالک نے اپنے فوجی دستے پرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے بھیجے ہیں۔

پانچ سالوں میں جیلوں میں بند کیے جانے، بھرپور طریقے سے کچلے جانے کے بعد بھی کوئی ایک خود کش بم دھماکہ نہیں ہوا۔

مساجد جن میں اکثریت یہاں کے اکثریتی فرقے کی ہیں کو آمر حکمران حکومت نے تباہ کردیا ہے۔وہ رجیم جو پڑوسی ملک اور ایک سپر پاور کا گماشتہ ہے۔جمہوریت نواز احتجاجی مظاہرے ایک عشرے سے ہورہے ہیں اور رہنماء و جماعتیں بھی دس سالوں سے جمہوریت کی مانگ کرتی ہیں۔

احتجاج کرنے والوں میں ایک نوجوان بھی ہے جو 17 سال کا تھا جب اسے گرفتار کیا گیا اور اسے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے اور کسی وقت بھی اس پہ عمل ہوسکتا ہے۔

یہ ملک شام نہیں ہے۔ یہ ملک بحرین ہے۔وہ ملک جہاں پرامن مظاہرین جائز قانونی جمہوری مطالبات رکھ رہے ہیں۔اور وہ شام کے باغیوں کی طرح اپنے ملک کی 40 فیصد اقلیت کی نسل کشی جیسے نعرے نہیں لگاتے۔

یہ بحرین ہے جہاں احتجاج کرنے والے اور اس کے لیڈر چھپے ہوئے نہیں ان کا مقامی ہونا اور ان کے نام پتے سب کو معلوم
یہ بحرین ہے جہاں ھلاکتیں مظاہرین کی ہیں جبکہ شام میں مارے جانے والے شروع میں فوجی تھے۔یہ بحرین ہے جہاں احتجاج کرنے والے جمہوریت چاہتے ہیں قرون وسطی کی مذھبی پیشوائیت نہیں۔
یہ بحرین ہے جہاں سی این این اور الجزیرہ خلیفہ رجیم کی سپورٹ کرتے ہیں اور درباری ماہرین و تجزیہ کار جمہوریت پسند مظاہرین کو الزام دیتے ہیں۔ نہ کہ آمر رجیم کو

اور اگر بحرین میں 2011ء میں اگر آپ نے جمہوریت نواز مظاہرین سے ہمدردی محسوس کی تو آپ ایرانی ففتھ کالمسٹ ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے آج اگر آپ دراء کے پرامن مظاہرین پہ مبنی خود ساختہ جعلی بیانیہ خریدنے پہ راضی نہیں ہیں تو آپ ایرانی ایجنٹ ہیں۔یہ اتنے پرامن حتجاجی مظاہرین تھے کہ کریک ڈاون ہوتے ہی فوری داعش و القاعدہ میں جا شامل ہوئے۔ایسا پرامن احتجاج جس میں شامی فوجی ہی مارے جارہے تھے جبکہ بحرین میں مظاہرہ کرنے والے۔ایسا پرامن احتجاج جس میں چند ہفتوں ہی میں ہزاروں لوگ القاعدہ اور دار کے تربیت یافتہ عسکریت پسند بن گئے۔

یہ فرق جس طریقے سے یہ دونوں احتجاج سامنے آئے اور دونوں کے نتائج کا فرق ہمیں اصلی جمہوریت نواز احتجاج(بحرین) اور خودساختہ اخوانی فرقہ پرست فسادات(شام) میں فرق سمجھانے کے لیے کافی ہے

شام میں اپوزیشن گروپس ہیں جن میں سے اکثر روس کے حمایت یافتہ مذاکرات پروسس کے عمل کو سر قلم کرنے، غلط فلیگ آپریشن، آدم خوری اور قرون وسطی کی ابن تیمیائی خلافت پہ ترجیح دیتے ہیں

Views All Time
Views All Time
548
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جہالت علم سے بہت بڑی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: