Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مدارس کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری

by جون 24, 2016 بلاگ
مدارس کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری
Print Friendly, PDF & Email

raheem bakkshآج سے چار صدیوں قبل چرواہے بارش کے دنوں میں اپنے مال مویشیوں کے ساتھ ریگستانی علاقوں میں نقل مکانی کر جاتے تھے (یہ طریقہ کار اب بھی چولستان کے علاقوں میں عام ہے ) اور جب تک پانی اور سبزہ رہتا تھا وہیں پر ہی رہتے تھے.
ایک دفعہ کچھ ایسا ہوا کہ چرواہے اپنی بکریوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو پہلے پڑاؤ پر ہی ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ان کی ایک بکری ان کے نصیب میں ہجر کی راتیں لکھ کر کہیں عین غین ہوگئی ہے. پیروی شروع ہوئی اور کھرا سیاسی نسل کے خونخوار بھیڑیوں تک جانکلا. ضدی چرواہوں نے بھی تعاقب جاری رکھا اور بالآخر بھیڑیوں کو آف شور کمپنیوں کے بغل والے سرسبز علاقے میں دبوچ لیا. بھیڑیے اگرچہ طاقت میں کہیں زیادہ تھے اور اپنے علاقے میں تھے جہاں کتا بھی شیر ہوتا ہے لیکن انسانوں سے بہت دور رہنے کی وجہ سے ان میں انسانیت باقی تھی. مذاکرات کا عمل شروع ہوا اور بھیڑیوں نے مک مکا کے بجائے انصاف کے رستے کو اختیار کیا. بھیڑیوں کے سربراہ نے یہ کہنے کہ بجائے کہ ہماری پیدائش سے لے کر آج تک جتنی بھی بکریاں بھیڑیوں کی نظر ہوئی ہیں ان سب کا حساب دیا جائے خود کو اور اپنے گروہ کو احتساب کیلئے پیش کردیا. ان کے وزیراطلاعات نے چرواہوں کے سربراہ کی نجی زندگی پر تنقید کرنے کے بجائے اعلان کیا کہ جو بھی فیصلہ کمیٹی کرے گی منظور ہوگا.
اور ان کے وزیردفاع نے اپنے سربراہ اور گروہ کی کرپشن اور ماردھاڑ کا دفاع کرنے کے بجائے انسانی حقوق کے دفاع کو مقدم جانتے ہوئے اعلان کیا کہ انسانی حقوق کی تذلیل کسی قیمت پر قبول نہیں. کمیٹی نے باقاعدہ چرواہوں کی مشاورت سے انویسٹی گیشن ٹیم بنائی اس ٹیم نے باقاعدہ تحقیقات کیں اور بالآخر کمیٹی نے فیصلہ سنا دیا کہ ان کی یہ بکری بھیڑیوں کے اس گروہ نے نہیں ہتھیائی ہے. چرواہاچونکہ نیازی تھا اس لئے وہ کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہ ہوا. اور اس نے بھیڑیوں کے سربراہ سےکہا فرض کریں اگر بعد میں بکری آپ کے پاس سے نکل آئے تب آپ کو کیا سزا دی جائے؟ تب بھیڑیے نے کہا کہ اگر بکری میرے گروہ کے پاس ثابت ہوجائے تب اللہ تعالی’ مجھے اگلے جنم میں بھیڑیے کے بجائے پندرھویں صدی کا مولوی پیدا کرے…
یہ اگرچہ لوک کہانی ہے اور چار سو سال سے چولستانی لوگوں میں گردش کررہی ہے لیکن چار سو سال پہلے اس قصے کے خالق کو پتا تھا کہ آنے والے زمانے میں مولوی کیا کردار ادا کریں گے ہم میں سے ہر کوئی بات بے بات مولویوں پر تنقید کرنا فرض سمجھتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص مسئلے کی بنیاد اور اس کے حل کی طرف توجہ نہیں دیتا
کیا ہم نہیں جانتے کہ یہی مولوی ہے جو دسمبر کی یخ بستہ اور جمادینے والی سردی میں بھی فجرکے وقت اذان کی صدا بلند کرتا ہے. میت کوغسل دینے کیلئے اپنوں کے بجائے مولوی طلب کیا جاتا ہے. قریب مرگ شخص کے سرہانے سورہ یاسین پڑھنے کی ذمہ داری بھی مولوی کی ہے.
بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کی ذمہ داری بھی مولوی کے متھے ماردی جاتی ہے اور بدلے میں ہرمہینے چھ ہزار روپے حاتم طائی کی قبر پر لات مارکرمولوی کو ایسے دیئے جاتے ہیں جیسے اس پہ احسان کیا جارہا ہو پاکستان میں مسئلہ نہ تو مولوی میں ہے اور ہی مدرسے میں یہاں پر اس مسئلے کی اصل بنیاد ہی ریاست ہے. ریاست والدین کی طرح ہوتی ہے اور ادارے اس ریاست کے بچے ہیں. جب بچے بگڑ جاتے ہیں تو والدین اپنے بچوں کوپیار سے یا مار سے سمجھاتے ہیں اور انہیں راہ راست پر لاتے ہیں
لیکن ہماری ریاست اپنے بچوں کی رہنمائی کرنے اور ان کا مستقبل بہتر کرنے بجائے جب اپنے بچوں پرجہالت کی فیکٹریاں کا لیبل چسپاں کردے. اور اپنی اولاد سے اعلان لا تعلقی کا اعلان کردے تب حالات کم و بیش وہی ہوتے ہیں جس کا سامنا اس وقت پاکستانی قوم کررہی ہے. ریاست کا کام اپنے اداروں میں ریفارمز کرنا اور انہیں بہتر بنانا ہوتا ہوتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ریاست خود ہی اپنے اداروں پر تنقید کرتی ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد مدارس کو قرار دیتی ہے جو بلا مبالغہ افسوس ناک ہے. جب قوم کے بچے سکولوں میں الیگزینڈر کو دنیا کا سب سے بڑا جنگجو قرار دیں گے اور مدرسے کے بچے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تب ہر بار اس بحث میں نظریاتی اختلاف سامنے آئے گا مدرسوں میں چونکہ قرآن پڑھانے کا انتظام کیا جاتا ہے سمجھانے کا نہیں اس لئے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیںاور تب آپ ایک بچے کو70 حوروں کے سنہرے خواب دکھا کر ان کا برین واش کرکے ان کو دوسرے مسالک کی مساجد میں دھماکہ کرنے پر آسانی سے تیار کرلیتے ہیں
ہمارے ہاں یہ پریکٹس عروج پر ہے کہ اللہ کی عبادت کرو تاکہ جنت کا حصول ممکن ہوسکے لیکن شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عبادت ہم پر فرض ہے اور عبادت اللہ کی رضا اور خوشنودی کےلئے کی جاتی ہے جنت کے حصول کیلئے نہیں…
ہر آنے والا دن اس مسئلے کو مزید سنگینی کی طرف لے کر جائے گا اس کا بہترین حل یہی ہے کہ حکومت کو چاہیئے مدارس پر کنٹرول حاصل کرے جمعہ کا خطبہ ریاست کی طرف سے فراہم کیا جائے بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے
اور ریاست مدارس کےبارے میں وہ کردار ادا کرے جو والدین اپنے اولاد کیلئے کرتے ہیں
فتوی’ دینے کیلئے فرد واحد کے بجائے مکمل پینل بنایا جائے جو اسلامی نقطہ نظر کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کریں
اسلامی تعلیمات کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے. تعلیمی اور مدارس کے نصاب میں عفوو درگزر صلہ رحمی شہریوں کے فرائض کردار سازی اور بین المذاہب تعلقات کے حوالے سے مضامین شامل کیئے جائیں ورنہ وہ دن دور نہیں فتویٰ ساز فیکٹریاں پہلے تو کسی پارٹی کو ووٹ دینے کو ناجائز قرار دیتی رہی ہیں اب کی بار ووٹ دینے کو ہی کفر قرار دیں گی اور ہمارے پیارے ملک میں الیکشن والے دن ایک ہی روز ایک کروڑ لوگ دائرہ اسلام سے خارج کردیئے جائیں گے…

Views All Time
Views All Time
264
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (حصہ اول) - سخاوت حسین
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: