Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماہ رمضان کے لئے سفارشات

ماہ رمضان کے لئے سفارشات
Print Friendly, PDF & Email

Noor ul Hudaکہا جاتا ہے کہ ماہ رمضان اپنے ساتھ بہت ہی برکتیں اور سعادتیں لے کر آتا ہے ۔ اس ماہ شیطان جکڑ دیا جاتا ہے اور نیکیوں کی بہاریں اپنا رنگ جماتی ہیں ۔ اسلامی ممالک میں بے شک صورتحال ایسی ہی ہوگی لیکن ہمارے ہاں پاکستان میں ہر معاملے پر الٹی گنگا بہتی ہے ۔ غیر مسلم ممالک بھی اپنے مخصوص تہواروں پر اپنی عوام کو ریلیف دیتے ہیں اور ان کی عوام کو صحیح معنوں میں اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ملتی بھی ہے ۔ وہاں ریلیف کے نام پر عوام کو لالی پاپ دی جاتی ہے اور نہ ہی یہ زبانی کلامی اعلانات تک محدود ہوتا ہے ۔۔۔ اگر ہم اسلامی ممالک ہی کی بات کرلیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ماہِ رمضان کے احترام میں تمام عرب ممالک میں منافع کی شرح کم کردی جاتی ہے ۔۔۔ متحدہ عرب امارات میں کھانے پینے کی اشیاء میں ساٹھ فیصد تک کمی ہوجاتی ہے جبکہ کئی اشیاء زیرو منافع پر فروخت ہوتی ہیں ۔۔۔ قطر میں تمام اشیائے خوردونوش قیمت خرید پر بیچی جاتی ہیں جبکہ سیل پرموشن کے تمام آئٹمز کو ایک ماہ کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جاتا ہے ۔۔۔ سعودی عرب میں قیمتیں تیس فیصد تک گر جاتی ہیں ۔۔۔ بیشتر دیگر ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں عوامی مسائل کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا ۔ وطن عزیز میں جس طرح ماہ رمضان اور خاص تہواروں کا تقدس پامال کیا جاتا ہے اس کی مثالیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ یہاں کبھی پانی کی قلت کا مسئلہ سر اٹھاتا ہے تو کبھی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کے صبر کا امتحان لیتی ہے ۔ ناپ تول میں کمی اور ناقص معیار جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
رواں سال بھی رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی منافع خور حسب معمول سرگرم ہوگئے ہیں اور اشیاء کے نرخ ابھی سے بڑھ چکے ہیں جبکہ رمضان سے قبل ہی آنے والا سالانہ بجٹ بھی اپنی چاقو چھڑیاں تیز کر چکا ہے جس کے اثرات آنے والے وقت کی نزاکت کا ابھی سے احساس دلا رہے ہیں۔ یہ بجٹ فوری بعد شروع ہونے والے ماہ رمضان میں کیا گُل کھلائے گا ، اس کا اندازہ لگانا بھی اب مشکل نہیں رہا ۔
ان حالات میں ایک ایسی ’’فلاحی پالیسی‘‘ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو عوام کو واقعتا ریلیف مہیا کرسکے اور ان کے مسائل کا صحیح معنوں میں احاطہ کرے ۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے حکومت سے 18 مطالبات کئے ہیں جن میں ضابطہ اخلاق جاری کرنے ، عوام کو سہولتیں فراہم کرنے ، اشیائے ضرورت کی بروقت اور متواترفراہمی ، نرخوں میں 30 فیصد تک رعایت ، یوسی سطح پر دو دو یوٹیلٹی سٹورز کھولنے ، اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے منظم منصوبہ بندی ،سحر و افطار اور تراویح کے اوقات میں پانی ، بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے ، غیراخلاقی پروگرامات ، پوسٹرز اور سائن بورڈ پر پابندی ، احترام رمضان آرڈیننس 1981ء پر عملدرآمد اور ہفتہ وار جائزہ یقینی بنانے اور ملک بھر میں ایک ہی روز رمضان کے آغاز و اختتام کیلئے اقدامات جیسے مطالبات قابل ذکر ہیں ۔
مذکورہ مطالبات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہم انہیں عوام کی ترجمانی کہہ سکتے ہیں کیونکہ رمضان اور عیدین کی آمد پر مہنگائی جبڑے کھول کر کھڑی ہوجاتی ہے ا ور کئی سفید پوشوں کو نگل لیتی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے بروقت ، ٹھوس ، سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات نہ ہونا ہیں ۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ حکومت اپنی سی کوشش کرتے ہوئے ہر سال رمضان المبارک کی مناسبت سے ’’ریلیف پیکج‘‘ اور سبسڈی کا اعلان تو کردیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد میں ہمیشہ ناکام رہی ہے ۔ اول تو ریلیف شدہ اشیاء مارکیٹ سے بہت جلد ختم ہوجاتی ہیں اور صارفین تک مسلسل نہیں پہنچ پاتیں ، دوئم یہ کہ جن اشیاء کی مانگ بڑھ جاتی ہے ان کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے ، حتیٰ کہ سستے اتور بازار بھی اپنا مقصد پورا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اس تمام صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے عملی اقدامات وسیع پیمانے پر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے اس سارے عمل کے کرتا دھرتاؤں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ گراں فروشی کرنے والے بھی اپنے عمل پر پشیماں بھی نہیں ہوتے ۔ شاید یہ ہمارے دلوں کے مردہ ہونے کا ثبوت ہے کہ ہم ہر معاملے میں ہمیشہ صرف اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔
رواں سال بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پونے دو ارب روپے کا رمضان ریلیف پیکج تو دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب ریلوے نے بھی خصوصی پیکج دیتے ہوئے کرایوں میں 25 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے یہ اقدامات اگرچہ مایوس کن نہیں ہیں لیکن اس کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے موثر ہنگامی اقدامات بہرحال حکومت کی اولین ذمہ داری ہونا چاہئیں ۔۔۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس ضمن میں مانیٹرنگ کیلئے جو ٹیمیں تشکیل دیتی اور جو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ تعینات کیے جاتے ہیں ، وہ متعلقہ اقدامات اور اشیاء کی تواتر کے ساتھ فراہمی کو یقینی بنائیں ۔۔۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ مذکورہ کمیٹیاں اور مجسٹریٹ احکامات پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے ہیں ۔ وہ صرف انہی مارکیٹوں کا دورہ کرتے ہیں جہاں وزراء کے چھاپے مارنے کا خدشہ ہوتا ہے ، یا پھر ممکنہ چھاپے والے رمضان بازار میں وزراء یا ایڈمینسٹریشن کے آنے سے قبل اشیاء کے نرخ گرا دئیے جاتے ہیں اور ان کے جاتے ہی چور بازاری پھر سے شروع ہوجاتی ہے ۔ یعنی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے جس پر متعلقہ افسران بوجوہ خاموش رہتے ہیں ۔
دوسری جانب ہر سال ماہ رمضان کی آمد پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا یا کم از کم سحر و افطار اور تراویح کے اوقات میں برقی رو کی فراہمی کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن بجلی ، پانی اور گیس کی لوڈشیڈنگ پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ جاری رکھی جاتی ہے ۔ روزہ دار احتجاج کرتے ہیں تو حکومت اپنے دعووں سے ہاتھ کھڑا کرکے اپنی ’’مجبوریاں‘‘ بتانے لگ جاتی ہے ۔ یہ حکومتی روش کئی سالوں سے جاری ہے ۔
ذرائع ابلاغ ابھی سے گراں فروشی و منافع خوروں کی صورتحال اور بجلی و پانی کی قلت جیسے مسائل حکومت اور ارباب اختیار کے سامنے لا رہے ہیں لیکن شاید حکومت کی دلچسپی اس جانب ہے ہی نہیں ۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں ۔ حکومت کی دلچسپی کا یہی عالم رہا تو اس کا ردعمل اسے ابھی سے سوچ لینا چاہئے کیونکہ ماہ رمضان میں منافع خوری اور مقررہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کے بس سے باہر ہوجائے گا ۔ ہمیں یہ رویہ بدلنا ہے اور اس کیلئے حکومت اور تاجر دونوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا ۔
رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے ، اسے زحمت نہ بنایا جائے ۔ ہمیں سال میں گیارہ ماہ کمانے کا موقع ملتا ہے ، ایک مہینہ اگر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے باز آجائیں گے تو ہماری مالی حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ یہ مہینہ ہمارے پاس اللہ کے مہمان کے طور پر آتا ہے اور اس کی شان کے مطابق اس کی مہمان نوازی ہم پر فرض ہے ۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان سے قبل اشیاء کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور اس کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹیاں ایمانداری سے فرائض ادا کریں جبکہ ممکنہ صورتحال کے تدارک کیلئے لیاقت بلوچ کے مذکورہ مطالبات پر غور کیا جائے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکات حکومت کیلئے پکی پکائی کھیر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ حکومت کو میٹنگ میٹنگ اور کمیٹی کمیٹی کھیلنے یا تجاویز مانگنے کی کی نوبت نہیں آئے گی ۔ صرف مذکورہ مطالبات پورے کرنے کیلئے سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے ۔۔۔ ماہِ رمضان کا مقدس مہینہ بھی اگر عوام کیلئے عام مہینوں جیسا بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگا ، تو یہ اس کے تقدس کی پامالی کے مترادف ہے ۔۔۔ اور رمضان المبارک کی حرمت کا احساس تو غیر مسلم بھی ہم سے بہتر کرتے ہیں ، ہم تو پھر مسلمان اور کلمے کے نام پر حاصل کئے گئے ملک کے باسی ہیں ۔ بحیثیت مسلم ، ہم پہلے ہی ہر معاملے پر متنازعہ حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں ، اپنے عوامل سے ہم کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ، اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ اپنے اعمال سے ہم اپنے دل کو تو تھپکی دے سکتے ہیں ، لیکن ان کی بدولت روزِ آخرت ہونے والی گرفت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں اور نہ ہی منکر نکیر کو دھوکا دے سکتے ہیں ، کہ ان کا حساب کتاب تو اک اٹل حقیقت ہے اور وہ سب کچھ جانتے ہیں ، سب کچھ ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
551
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   لاہور انڈر ورلڈ ، عابد باکسر ، شہباز شریف اور نئی تھیوری
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: