Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سجاد جہانیہ، عورت کتھا اور فرشتے – رضی الدین رضی

by اکتوبر 31, 2016 ادب
سجاد جہانیہ، عورت کتھا اور فرشتے – رضی الدین رضی
Print Friendly, PDF & Email

razi-uddin-raziسجاد جہانیہ پر بات کرنا اتنا مشکل ہوناتو نہیں چاہیئے تھا جتنا مشکل ہوگیا ہے۔میں تین روز سے اس کی کتاب’’عورت کتھا‘‘ کا مطالعہ کررہاہوں ۔خیال تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ عجلت میں مضمون تحریر نہیں کروں گا اور تقریب سے بہت پہلے اس فرض سے سبکدوش ہوجاؤں گا لیکن میری مشکل بھی سجاد جہانیہ والی ہے۔ جس طرح اسے اخبار کی کاپی جانے سے پہلے دو ،دو صفحات کمپیوٹرسکیشن کو بھیجنے کی عادت ہے اسی طرح مجھے بھی صحافت نے اطمینان کے ساتھ کچھ لکھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔بات صرف اتنی ہے کہ بات شروع ہی نہیں ہورہی۔پہلا جملہ گرفت میں ہی نہیں آرہا ۔میراہمیشہ سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ میں بات شروع نہیں کرپاتا۔بات شروع کرنے کا ہنر ہوتا تو میں بھی کہانی کاربن جاتا۔کچھ کرداروں کو جوڑتا ،کچھ مناظر کوضبط تحریر میں لاتا اور کوئی کہانی بنالیتا لیکن کہانی بنانے کے لیے خود بھی تو کہانی بننا پڑتا ہے۔اور میں جیتے جی کہانی نہیں بننا چاہتا۔اس مشکل کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تقریب میں دو ایسی ہستیاں مسند نشین ہیں کہ جن کی موجودگی میں مجھے ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر اور احتیاط کے ساتھ لکھنا ہوگا۔ان میں محترم ڈاکٹر اسد اریب کا نام سرفہرست ہے کہ زبان و بیان کے حوالے سے وہ ایک اتھارٹی ہیں اوران کے ساتھ میرے دوست وجاہت مسعود بھی موجودہیں کہ جن کی علمی ، ادبی اورتخلیقی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔
آئیے بات کہیں سے بھی شروع کرلیتے ہیں۔یہیں سے شروع کرلیتے ہیں کہ سجاد جہانیہ کالم سے کہانی کی طرف کیوں آیا۔میں اس کے کالموں کا مستقل قاری ہوں۔وہ ان چند لکھاریوں میں شامل ہے جن کی تحریریں مجھے اچھی لگتی ہیں۔جن کی تحریروں میں رچاؤ ہے ،روانی ہے،کہانی ہے اور کہیں کہیں احساس رائیگانی ہے۔وہ شاعر نہیں مگر اس کی تحریروں میں شاعرانہ حسن موجودہے اورشاعرانہ حسن تو اب شاعری میں بھی خال خال دکھائی دیتا ہے۔سجاد جہانیہ کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھتا تھا۔یہ وہی زمانہ تھا کہ جب سلیم ناز بچوں کے صفحے کے دادا جان نہیں بھائی جان ہوا کرتے تھے۔سجاد نے بہت مختصر وقت میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا۔اپنے کالموں پر اے۔ پی۔ این -ایس ایوارڈ حاصل کیا۔اور اب اس کا شمار اس خطے کے معتبر قلم کاروں میں ہوتا ہے۔سجاد جہانیہ کے ساتھ میرے تعلق اور قربت کی کئی وجوہات ہیں۔پہلی وجہ تو یہی کہ وہ ادب کے ساتھ بھرپور وابستگی رکھتا ہے۔کتاب کے ساتھ محبت کرتا ہے۔دھرتی کے ساتھ اس کا تعلق بہت مضبوط ہے۔وہ دھرتی کے دکھوں کوسمجھتا ہے اور انہیں اپنی تحریروں کا موضوع بناتا ہے۔سجاد جہانیہ کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔اسی لیے وہ اظہار کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔حقیقی لکھاریوں کو ہمیشہ سے یہی مسئلہ درپیش رہا کہ ان کے پاس بسا اوقات اظہار کے ذرائع کم پڑ جاتے ہیں۔کچھ موضوعات کالموں میں سمیٹے جاتے ہیں ۔کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے لیے کالم کا دامن تنگ پڑ جاتا ہے۔سو کبھی وہ کہانی اور ناول کی طرف رجوع کرتے ہیں،کبھی شاعری کاسہارالیتے ہیں،شاعری کی مختلف اصناف میں تجربات کرتے ہیں اورکبھی انہیں محسوس ہوتاہے کہ کہنے کے لیے لفظ کم پڑ گئے ہیں۔سو وہ کاغذ کی بجائے کینوس پر رنگ بکھیر کر اظہارکا ایک نیا ذریعہ تلاش کرلیتے ہیں۔سجاد جہانیہ صحافت کے ساتھ بھی منسلک ہیں ،ادب سے بھی اور دیگر فنون لطیفہ کے ساتھ بھی ان کی وابستگی ہے۔وہ اس بدتہذیب معاشرے میں تہذیبوں ،ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم رہتاہے۔موسیقاروں ،گلوکاروں اور اس دھرتی کے تمام ہنرمندوں کے ساتھ محبت کرتاہے۔وہ ماضی کو حال اورمستقبل کے ساتھ جوڑ کر جینے کی بات کرتا ہے۔وہ موت بھرے معاشرے میں زندگی تلاش کرتاہے۔ایک بے چین روح اس کے اندر موجودہے جو اس کی تحریر سے بھی جھلکتی ہے اور شخصیت سے بھی۔وہ اداس آنکھوں میں خواب سجائے راتوں کو جاگتاہے اوراس لیے جاگتا ہے کہ وہ تاریکی کا مقابلہ کرنا چاہتاہے۔ہمارے ہاں تاریکیوں کے غلبے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ تاریکی کا مقابلہ کرنے والے ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے۔شاعروں،ادیبوں اوردانشوروں نے بھی کتاب اور قلم سے ناطہ توڑ کر ریموٹ ہاتھ میں تھام لیا۔اب نہ چوپال سجھتی ہے ،نہ بیٹھکیں اورنہ قہوہ خانے آباد ہیں اورسب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر چینلوں پر جھوٹ سچ کا کھیل دیکھتے ہیں۔ہمارے حاکموں نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اقدار اورروایات کو ملیا میٹ کردیا۔سجاد جہانیہ ان اقدار اور روایات کو بچانا چاہتا ہے۔
سجاد جہانیہ کے ساتھ میرے کچھ دکھ مشترک ہیں۔ہم دونوں کا تعلق سرکار کے ان محکموں سے ہے جہاں سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے۔سجاد جہانیہ محکمہ اطلاعات اور میں سرکاری خبررساں ادارے سے منسلک ہوں۔ہمارے محکموں کاحال بھی دیگر سرکاری محکموں والا ہے۔جس طرح محکمہ تعلیم کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ۔انصاف کی فراہمی کے ادار ے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔عوام کا دفاع کرنے والے اپنے دفاع سے بھی قاصر ہیں۔قانون کے رکھوالے قانون شکنی کرتے ہیں اورآئین اور پارلیمنٹ کے محافظ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے فوجی عدالتیں بناتے ہیں۔بالکل اسی طرح محکمہ اطلاعات کا اطلاعات کی فراہمی اور خبر رساں ادارے کا خبرسے کوئی تعلق نہیں۔تخلیق کار جب سرکار کے ملازم ہوجاتے ہیں تو انہیں دوہری اذیت کاسامنا ہوتا ہے۔اس اذیت نے مجھے اور سجادجہانیہ کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیا ہے۔سرکاری ملازم کی ایک اپنی نفسیات ہوتی ہے۔وہ ہمہ وقت احکامات کی تعمیل کے لئے تیار رہتا ہے،چاپلوسی اس کی سرشت میں شامل ہوجاتی ہے اور دفتری اوقات کے دوران وہ صرف سالانہ ترقیوں اور چھٹیوں کے گوشوارے مرتب کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ اور اگر اس کاتعلق قرطاس و قلم کے ساتھ ہوتو اس کے سر پر مسلسل ایک تلوارلٹکتی ہے۔ اوراس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بھی سب اچھا کی رپورٹ دے۔جو کمزوردل ہوتے ہیں وہ سرکاری ملازمت کے دوران تخلیقی سرگرمیوں سے بھی تائب ہوجاتے ہیں، ’’پھر اس طرح توہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘کا ورد کرتے ہوئے عزیز سے عزیزی کے منصب پر فائز ہوجاتے ہیں۔لیکن جو بات کہنے کا ہنرجانتے ہیں ان کاراستہ کوئی پابندی نہیں روک سکتی۔وہ ریٹائرڈ جرنیلوں اوربیوروکریٹوں کی طرح سنسنی خیزانکشافات اوراپنی غلط کاریوں کے اعترافات کے لیے ریٹائرمنٹ کاانتظارنہیں کرتے۔سجاد جہانیہ سر پر لٹکتی ہوئی تلوار کے باوجودسلیقے سے بات کرنا جانتا ہے اوراسی لیے مجھے اس سے محبت ہے۔میں نے اسے کڑے محاصرے میں بھی ایسے سوالات کرتے دیکھا جن کاحوصلہ نام نہاد آزاد میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کوبھی نہ ہوسکا۔میں نے مضمون کے آغاز میں کہا تھا کہ مجھے بات شروع کرنا نہیں آتی۔یہاں تک احساس ہوا کہ شاید مجھے بات ختم کرنا بھی نہیں آتی۔آپ حساس اداروں کی بے حسی کی کہانیاں توپڑھتے ہی رہتے ہیں ۔آپ نے ایک زمانے میں پیر پگاڑا کی زبانی فرشتوں کاذکر بھی سنا ہوگا۔مجھے غالب کا ایک شعر یاد آگیاجس کا پہلا مصرع فرشتوں اور دوسرامصرع وزارت اطلاعات کے اہلکاروں کے بارے میں ہے ۔شعر سنئے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ میرے اور سجاد جہانیہ کے دکھ کیوں مشترک ہیں اور میں اسے اپنا کیوں سمجھتا ہوں
"پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا”

( کتاب کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا )

Views All Time
Views All Time
770
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محمد حسن عسکری کی ادبی علمی اور انتقادی تفہیمات اور تشریحات کا آفاق - احمد سہیل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: