Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ممتاز العیشی کی یاد میں – رضی الدین رضی

by نومبر 22, 2016 ادب
ممتاز العیشی کی یاد میں – رضی الدین رضی
Print Friendly, PDF & Email

razi-uddin-raziایک ایسے ماحول میں جب بعض عجلت پسند مصنفین اوروں کی کتابیں اپنے نام سے چھپوا کر اپنی مطبوعہ کتب کی تعداد میں مصنوعی اضافہ کر رہے ہیں وسیم ممتاز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے والد کی کتاب انہی کے نام سے منظر عام پر لے آئے ۔وہ اگر ممتاز العیشی کی شاعری اپنے نام سے بھی شائع کرا لیتے تو کوئی انہیں کچھ نہ کہتا کہ ایسا ہمارے ہاں بارہا ہوتا آیا ہے اور پھر ممتاز صاحب کی شاعری کے بارے میں تو وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اگر یہ میرے نام سے شائع ہو گئی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے یہ تو مجھے وراثت میں ملی ہے ۔ ویسے بھی ممتاز العیشی صاحب کا شمار اساتذہ میں ہوتا تھا اساتذہ کی شاعری پر شاگرد اگر اپنا حق جتلا سکتے ہیں تو اولاد بھلا کیوں نہ جتلائے ۔ ہم بہت سے ایسے شعراء کو جانتے ہیں کہ جن کے شعری مجموعوں اور بیاضوں سے ممتاز العیشی، بیدل حیدری ، نسیم لیہ اور حزیں صدیقی جیسے اساتذہ کی غزلیں من وعن جھانکتی ہیں اور وہ ان غزلوں کو استاد کا اسلوب قرار دے کر احباب کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نے یہاں عاصی کرنالی کا ذکر دانستہ نہیں کیا۔ ان کا شمار بھی اساتذہ میں ہوتا ہے لیکن اس فہرست میں اگر ہم ان کا نام بھی شامل کر دیتے تو احباب یہ سمجھتے کہ شاید ہم ثمر بانو ہاشمی ، عظمت کمال اور شارق جاوید کی شاعری کے بارے میں شکوک وشبہات پید اکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وسیم ممتاز نے ممتاز العیشی صاحب کا شعری مجموعہ شائع کرا کے بلاشبہ ایک ایسا کام کیا ہے کہ جسے بھر پور انداز میں سراہا جانا چاہیے ۔ انہوں نے صرف اپنے والد کے کام کو ہی نہیں اس شہر کے شعری ورثے کو بھی محفوظ کیا ہے اور یہ کام انہوں نے ایک ایسے دور میں اور ایک ایسے ماحول میں کیا ہے جب لوگوں کو فراموش کرنے کی روایت مستحکم ہو رہی ہے ۔ بہت سے شاعر اور ادیب ہمارے درمیان سے اٹھ گئے اور ہم نے پلٹ کر کبھی انہیں یاد بھی نہ کیا۔ ہر سال ان کی برسیاں گزر جاتی ہیں اور ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ اس روز ہم نے کوئی جنازہ بھی پڑھا تھا۔
mumtaz-sbممتاز العیشی کی کتاب ان کی برسی کے موقع پر شائع ہوئی ہے اور آج 19نومبر کو اس کی تعارفی تقریب ہو رہی ہے ۔ آج ہی کے روز ممتاز العیشی صاحب ملتان کے ادیبوں اور شاعروں کو اداس کر گئے تھے ۔ممتاز العیشی ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے ملتان کے شعری ماحول کو ترتیب دینے اور اس کی بنیادیں مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ عظیم ادبی روایات کے امین تھے ۔ ان روایات کے امین تھے جو اب ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج ہمارے ہاں شعر کہنے والے تو بہت ہیں مگر نئے لوگوں کو شعر گوئی کے ہنر سے آشنا کرنے والا کوئی نہیں۔ ممتاز العیشی نے اپنے استاد عیش فیروز پوری سے جو کچھ سیکھا اسے آنے والی نسلوں کے سپرد بھی کر دیا۔ ایک شمع جو ان کے ہاتھ میں ان کے استاد نے تھمائی تھی انہوں نے اسے صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے ذریعے نئے لوگوں کو بھی راستہ دکھایا۔ انہوں نے ایک پوری نسل اور ایک پورے عہد کی تربیت کی ۔ ایسے ہی لوگ تھے کہ جن کے دم سے شعری محفلیں آباد تھیں۔ آج ہم ادبی محفلوں سے لوگوں کے دور ہو جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ ہم نئی نسل پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ شعر وادب سے لا تعلق ہوتی جا رہی ہے ۔ ادبی تقریبات اور ان تقریبات کے شرکاء کی تعداد میں کمی کا تذکرہ رہتا ہے ۔ ہم اس کی دیگر وجوہات پر تو غور کرتے ہیں مگر ایک وجہ کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ ادب سے نئی نسل کی دوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب ممتاز العیشی جیسے لوگ ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں شعر وادب کیلئے وقف کر رکھی تھیں۔ نئے لوگ اب بھی شعر وادب کی طرف آتے ہیں۔ مگر انہیں کوئی رہنما نہیں ملتا۔ وہ کچھ عرصہ تخلیقی عمل کے ساتھ منسلک رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر بددل ہو کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ ممتاز العیشی سمیت جن اساتذہ کا ہم نے ابھی ذکر کیا ان کی خوبی یہی تھی کہ نئے لوگوں کے دلوں میں شعر وادب سے محبت کی جو چنگاری ہوتی تھی وہ اسے شعلہ بنانے میں مدد دیتے تھے ۔ استاد مشاعروں میں اپنے شاگرد کے بہت سے شعروں پر داد تو وصول کرتا تھا مگر وہ اسے بہت کچھ عطا بھی کر دیتا تھا۔
’’میں ابھی زندہ ہوں‘‘ممتاز العیشی صاحب کی موت کے 16سال بعد شائع ہوئی ہے اور 16سال بعد کتاب کی اشاعت نے اس کے عنوان کو ایک نئی معنویت دے دی ہے ۔ کتاب کے سرورق پر ممتاز صاحب کی ایک بولتی ہوئی تصویر ہے اور اس پر لکھی ہوئی یہ لائن تحریر کی صورت میں صرف دکھائی ہی نہیں دیتی آواز بن کربھی ہمارے کانوں تک آتی ہے ۔
میں جو مر جاؤں تو کر لینا پھر اپنی مرضی
دوستو مان بھی جاؤ میں ابھی زندہ ہوں
ممتاز العیشی زندہ رہیں گے ۔ مرتا وہ ہے جسے یاد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ممتاز العیشی کو یاد کرنے والے جب تک یاد کرتے رہیں گے وہ زندہ رہیں گے اور صرف وہی زندہ نہیں رہیں گے ان کے ساتھ عیش فیروز پوری بھی زندہ رہیں گے کہ ممتاز صاحب نے اپنے استاد کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنایا ہی اس لئے تھا کہ جہاں جہاں میرا نام آئے وہیں میرے ساتھ میرے استاد کا نام بھی آئے ۔ کیسے وضعدار لوگ تھے استاد کے نام کو اپنی پہچان بنا کر فخر محسوس کرتے تھے ۔ یہ رویہ ہمیں مذاق العیشی کے ہاں بھی نظر آتا ہے ۔ بیدل حیدری اور گفتار خیالی کے ہاں بھی ۔ ایسے وضع دار قلمکار اب بھلا کہاں ۔ اب تو خود نمائی کا دور ہے ۔ لوگ اپنے نام اور ذات کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ ہم عہد زوال میں زندہ ہیں۔ ایسا عہد زوال کہ جس میں بڑے لوگ ایک ایک کر کے رخصت تو ہو رہے ہیں۔ مگر ان کے قد کاٹھ کا کوئی اور سامنے نہیں آرہا۔
ممتاز العیشی کے شعری مجموعے کی اشاعت ایک خوبصورت روایت کا آغاز ہے ۔ ملتان کے بہت سے ادیب اور شاعر ایسے ہیں کہ جن کا کلام اور تحریریں ان کی زندگی میں کتابی صورت میں منظر عام پر نہیں آسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے لوگوں کا سرمایہ محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کچھ کام زکریا یونیورسٹی کی سطح پر جاری ہے کچھ ہمیں اپنے طور پر بھی کرنا چاہیے ۔ یہ قرض نہیں ایک فرض ہے کہ جسے ادا کرنا ضروری ہے ۔ اس شہر کے ادبی اثاثے کو محفوظ کرنا کسی اور کے لئے نہیں خود ہمارے لئے مفید ہو گا۔ کہ جو لوگ چلے گئے انہیں تو اس سے کوئی غرض ہی نہیں کہ اب ان کا کلام کتابی صورت میں شائع ہوتا ہے یا نہیں۔
(نومبر19، 2006 ء کو ممتاز العیشی کی برسی تھی)

Views All Time
Views All Time
307
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بلاعنوان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: