الزامات کی سیاست اور مصنفین کا کردار | رضاشاہ جیلانی

Print Friendly, PDF & Email

ایک اچھا مصنف اپنے آس پاس کے حالات سے متاثر ہوکر ہی لکھتا ہے ورنہ اسے کوئی الہامات نہیں ہوتے یا یوں کہیں کہ کسی بھی مصنف کو قدرت کی جانب سے کوئی اضافی ڈیٹا سپلائی نہیں ہوتا کہ وہ تحاریر کے انبار لگا دے۔
ہر مصنف کے سوچنے سمجھنے کا اپنا زاویہ ہے اور وہ اس ہی طریقے کیساتھ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کو اپنے قلم سے ایمانداری کیساتھ سینچتا ہے۔
کچھ مصنف ماحول میں ڈوب کے لکھتے ہیں جبکہ کچھ مصنف صرف ماحول کو اپنی تحاریر سے گندا کرنے کے لیے ہی لکھتے ہیں۔۔
ہمارے سماج میں ہر روز نت نئی کہانیوں کا جمعہ بازار کا لگا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم بحیثیت سماجی جاندار کہانیوں/ اسکینڈلز کے دلدادہ ہیں اور اُن ہی کہانیوں کو سماج میں رہنے والے مصنف اپنے اپنے طریقے سے لکھنے کا ہنر رکھتے ہیں۔۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہر کہانی کا ایک یقینی پسِ منظر ہوتا ہے اور ہر پسِ منظر کے پیچھے ایک مکمل سچی حقیقت چھپی ہوتی ہے اور اگر مکمل حقیقت نہ بھی ہو تو کچھ حد تک حقیقت سے ملتی جلتی کہانی ضرور ہی ہوتی ہے۔
مگر کچھ کہانیوں کے پیچھے صرف جھوٹ اور ڈرامے کے سوا کچھ نہیں ہوتا جس میں سماج کے ٹھیکیدار شخصی زندگیوں کو بھاڑے کے لکھاریوں سے تختہِ مشق بنا کر بھولی بھالی عوام کے سامنے بد کردار ثابت کرنے کی ہر دم کوشش کرتے رہتے ہیں۔۔۔
ایسی کئی سچی جھوٹی کہانیاں آئے روز ہمارے سماج میں گردش کرتی رہتی ہیں، سچائی پر مبنی کہانی ہمیشہ خونِ جگر مانگتی ہے اس میں جان اس وقت پڑتی ہے جب کہانی اپنے صحیح کرداروں کے ساتھ سامنے آئے۔
حقیقی کہانی کی کامیابی میں ہمیشہ دو چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں ایک مصنف کے قلم سے نکلی ہوئی سیاہی کا جاندار ہونا اور دوسرا کہانی کے کرداروں کا ٹھیک طرح سے ٹھیک وقت پر پرفارم کرنا۔۔
اگر ان دونوں چیزوں میں سے کوئی بھی ایک چیز مِس فٹ ہو تو سچی کہانی چاہے لاکھ دفع سچ کے آنچل میں لپٹی ہو وہ سچائی ثابت نہ کرنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔۔
قیامِ پاکستان سے ہی کئی لکھنے والے اپنے قلم کی روشنائی سے بہت کچھ لکھ گئے جو کہ بعد ازاں اسکینڈلز کا روپ اختیار کرتا چلا گیا اور یوں عرضِ وطن میں ایک کے بعد ایک اسکینڈل کی بنیاد پڑتی چلی گئی۔
ایسی ہی ایک کہانی کی شروعات اس وقت ہوئی جب مملکتِ خداداد
میں سیاسی رسّہ کشی اپنے عروج پر تھی اور 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بادل فضا میں منڈلا رہے تھے۔۔۔
کہانی اب سچی ہے یا جھوٹی مگر قرین قیاس ہے کہ اس کی سچائی کافی حد تک اپنے سچے ہونے کی دلیل رکھتی ہے۔۔
اس دور کے ایک کمانڈنگ افسر کی نظر ایک خوبرو دوشیزہ پر پڑی جو ان دنوں سیالکوٹ کے سی ایم ایچ اسپتال میں زیر علاج تھیں۔۔
جی ہاں وہ کمانڈنگ افسر بعد میں جنرل یحٰیحی خان کے نام سے مشہور ہوئے اور وہ خاتون جن کا نام اقلیم اختر تھا بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے جانی جانے لگیں۔۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا شاید کوئی پہلا اسکینڈل نہیں مگر آخری بھی نہیں تھا۔
بہرحال یہ اس دور کی بات ہے جب میڈیا کے نام پر صرف ریڈیو ہوا کرتا تھا اور سوشل میڈیا کے نام پر عوامی سُن گنُ اور سینہ بسینہ باتوں کی شئیرنگ سے کام لیا جاتا تھا۔۔
جنرل رانی کس حد تک طاقتور تھیں یہ اس دور کے سابق بیوروکریٹس اور افسران بخوبی جانتے ہیں مگر جنرل یحیحی خان کے بعد انکا کیا بنا وہ کہاں گئیں اور اس قدر طاقتور خاتون ہونے کے باوجود مصنفین انکے بارے کیوں خاموش ہیں اسکی ایک بنیادی وجہ شاید یہ ہو کہ جنرل رانی ( اقلیم اختر ) کا سورج بھی یحٰیحی خان کیساتھ غروب ہو چکا تھا انہوں نے سماجی کہانیوں کی زد سے آزاد ہو کر کسی پر فضا مقام پر اپنی ڈھلتی عمر کے ایام گزار دیئے ہوں گے۔۔
لکھنے والوں نے اقلیم اختر کے بارے وہ کچھ بھی لکھا ہوگا جو شاید ان سے کبھی سرزد نہ ہوا ہو اور کچھ مصنفین خصوصا اس دور کے چند صحافیوں نے جنرل یحٰیحی کے دور کے فوری بعد بہت کچھ ایسا بھی لکھا جو آغا یحٰیحی خان سے بیشک سرزد نہ ہوا مگر کتاب و رسائل کو بیچنے کے لیے کہانیوں کو بخوبی جنم دیا گیا۔۔۔۔
بھاڑے کے کہانی کاروں نے اقلیم اختر کے بارے وہ سب کچھ لکھ ڈالا جو آج کے دور میں کسی خاتون کے بارے میں کوئی شخص زرا بھی سوچے تو بھی اخلاقی طور پر ہی سہی مگر اس پر باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق ہو جائے گا۔۔۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان سمیت بیرونی دنیا میں بھی حکمران و کامیاب ابھرتے ہوئے سیاستدانوں کے اسکینڈلز منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والی اکثر خواتین کا ان سے تعلق مضبوط ہوجاتا ہے جسے وہ سیاسی و معاشی طور پر اپنے فائدے کے لیے بکثرت استعمال کیا کرتی ہیں۔۔
مصنفین و تاریخ نویس حضرات نے بلاشبہ اپنی انتھک محنت سے جہاں معلومات کے زخائر مہیا کئیے وہیں کچھ بھاڑے کے دانشور حضرات نے موقع پرستی سے خوب فائدہ بھی اٹھایا ہے اور ہر طرح کے زاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیع دیتے ہوئے جھوٹی سچی کہانیوں کی آمیزش سے تاریخ سمیت شخصیات کو بہت برے طریقے سے پیش کیا اور تاحال ایسے کئی مصنفین اپنے جیسے قماش کے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سازشوں کو پروان چڑھانے کے لیے ہمہ وقت اپنی تخریبی صلاحیتوں کو چند ٹکوں کے عیوض بیچنے کے لیے ہر دم تیار ملتے ہیں۔۔
آج کے دور کی بات کی جائے تو آپ کو ایسے ہی کئی کرائے کے دانشور حضرات رائی کا پہاڑ بنانے کے لیے غول در غول مجمع کی صورت اپنی اپنی باری کے منتظر ملیں گے اور ہر نئی تیار ہونے والی سازش کو اپنی تحاریر سے آنے والے دور کے لیے تاریخ سازی کرنے کے مشغلے کو صرف زاتی نوعیت کے راتب کے حصول کے عیوض شخصیات کو مزاق بنانے کے لیے استعمال ہوتے نظر آئیں گے۔
بلاشبہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنے دور میں وہ سب حدیں پار کی ہوں گی جو کہ شاید حرفِ تحریر نہیں بن سکتیں مگر بوجہ عدم ثبوت یا ثبوتوں کے انبار ہونے کے باوجود بھی کیا اس دور کے سیاستدانوں نے ان شخصیات کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے انکے کردار کو اچھالا ؟
اور اس کا جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں۔۔۔
پاکستان میں شخصیات کو نشانہ بنانے اور زاتیات سمیت اخلاقیات کی ہر حد پار کرنے کی عملی طرح شروعات 1985 کے دور سے ہوتی ہے۔۔۔
یہ وہ تاریک دور تھا کہ جب سیاست امراء و اشرافیاء کے ہاتھوں سے نکل کر گلی کوچے کی زینت بن چکی تھی سیاست کے ایوانوں میں بازاری زبان سے لیکر بازاری خون تک کی آمیزش نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تھیں یہ وہ دور تھا جب ماں بہن بیٹی کی سیاست میں شاید کوئی عملی جگہ تو نہیں تھی مگر سیاست دانوں کی زبانوں پر مخالفین کی ماں بہن بیٹیوں کے نام ضرور ہوا کرتے تھے۔
یہ وہ دور تھا کہ جب بینظیر بھٹو شہید کی مخالفت میں لوگ اس قدر اندھے ہو چکے تھے کہ ان پر ہر طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کرنے کو ہی فقط سیاست سمجھتے تھے۔۔
یہ وہ دور تھا کہ عوام سیاست دانوں کے نام سے خوف زدہ ہو جایا کرتی تھی اور سیاست دانوں کا رعب اپنے علاقوں میں کسی زمینی خدا سے کم نہ تھا ۔۔
سیاسی مخالفیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی غرض سے اس حد تک گِر جایا کرتے تھے کہ فوٹو شاپ تصاویر کے سہارے خواتین کی برہنہ تصاویر شائع کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا تھے جبکہ ایک وقت یہ بھی آیا کہ لوگوں کے ہاتھوں فضا سے پھینکے گئے پمفلٹس بھی دیکھے گئے۔۔۔
الغرض سیاسی تربیت اپنی معراج کی سب سے غلیظ ترین سطح پر آچکی تھی اور تو اور سیاسی مخالفین کی حکومت کو گرانے سمیت ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی مہروں کو کرپشن کے پیسے سے خرید کر جھوٹے الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ سے الجھایا جانے لگا۔۔۔
اس طرح جمہوریت کو جمہوریت پسندوں نے جتنے کھچوکے مارے یہ ایک الگ داستان ہے۔۔
یہ سب کچھ آخر کیسے اور کس طرح وجود میں آیا اس کے مقاصد کیا تھے کس کی ایما پر یہ سب کچھ کیا جاتا رہا اور یہ سب کچھ کن سیاسی قوتوں کی جانب سے ہوتا رہا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف اکیلے سیاستدانوں نے نہیں کیا انکے ساتھ ہراوّل دستے کی حیثیت سے کئی قلمی مجاہد بھی ساتھ تھے جو کہ سیاستدانوں سے اپنے زاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ جڑے رہتے اور مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کا کام چند ٹکوں کی عیوض پرنٹ میڈیا کے محاز پر کیا کرتے تھے۔۔۔
اس دور میں ایک دو کالم کی خبر سمیت ایک آرٹیکل کی بھی بہت مانگ ہوا کرتی تھی آج بھی ایسے بزرگ کالم نویس موجود ہیں جنہوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا حق ادا کر رکھا ہے جس کی بنا پر ہمیشہ ان پر نوازشات کی بھر مار رہی اور آج بھی انہیں مختلف عہدوں کی سربراہی ملتی رہتی ہے۔۔
پرویز مشرف کے مسندِ حکومت سنبھالتے ہی کئی بھاڑے کے صحافی بشمول کالم نویس حضرات نے چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے گھر چلایا بلکہ کئی تو سیاسی تعلقات کی بنا پر ملک سے فرار بھی ہوئے مگر جونہی پرویز مشرف اقتدار سے علیحدہ ہوئے ایسے تمام تر لکھنے لکھانے والے اور سیاستدان واپس اپنے پرانے دھندے سے لگ گئے ۔۔
اس بار بھی سیاستدانوں نے وہ ہی پرانی روش اختیار کی،
مخالفین کے سیاسی مہروں کو خرید کر ان پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور میڈیا کے محاز پر بھاڑے کے لکھنے والوں کی مدد سے عوام کے درمیان مخالفین کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔۔۔۔
مگر پاکستان میں سوشل میڈیا کے آنے سے جدید صحافت اور خبر کی گہرائی تک جانے کی تگ و دو نے عوام میں سوچنے کی صلاحیت کو پروان چڑھا دیا تھا۔۔
موجودہ دور کی عوام کا مقابلہ سن 85 سے 95 تک کی عوام سے کرنا شاید بیوقوفی ہوگی بلکہ موجودہ دور کی عوام اپنے سیاستدانوں کی تمام تر سازشوں کا پتہ خود اپنی سیاسی بصیرت سے کر رہی ہے جبکہ آج سے پچیس سال پہلے کی عوام کی رسائی سیاسدانوں کے خریدے ہوئے چند رسائل تک محدود تھی۔۔
آج کی عوام سیاسی شعبدہ بازی کے ہنر سے واقف ہو چکی ہے وہ اپنا بھلا برا سب جانتی ہے وہ یہ بھی جانتی ہے کہ جس دور میں اقلیم اختر کی کہانیاں اس قدر مشہور تھیں اور عوام ان پر یقین بھی کر بیٹھتی تھی تو کیوں کر وہ آج صرف ایک میڈیا کانفرنس یا چند میڈیا ھاؤسز کی جانب سے چلائی جانے والے میڈیا ٹرائل کے شکنجے میں پھنس جائیں گے ؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ دور جدید میں عوام 1965 کی مانند زندہ رہیں ؟
سائنس اور ٹیکنالاجی کے اس دور میں عوام کے سامنے 1985 والے ڈرامے شاید اب کارگر ثابت نہ ہوں
اور نہ ہی آج کی عوام اتنی سادہ ہے کہ وہ یہ سب بھول جائے کہ سیاسی مہروں کو ماضی میں جس طرح خریدا گیا اور کس طرح ماضی میں فوٹو شاپ تصاویر کو لیکر پاکبازی کے الزامات کے سہارے مخالفین کو زہنی ازیت پہنچائی گئی۔۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج کے دور میں یہ تمام تر حربے پرانے ہو چکے ہیں مگر کیا کیِا جائے کہ چند جمہوریت پسندوں اور چند بھاڑے کے قلم نویسوں کی سیاسی و قلمی تربیت صرف بازاری رہی ہے وہ ہر دور میں سازش کے لیے بازاری ٹوٹکوں سے آگے کا سوچ بھی نہیں سکتے

Views All Time
Views All Time
406
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   تربت مادر گرامی پر حاضری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: