رانا جی ! آدھے سے بھی کم ، پورا سچ تو بولتے

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedپانامہ لیکس کے شوروغل میں کسی نے دھیان دیااور کسی نے نہیں لیکن پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ فیصل آبادی "واردات” کر گئے۔ چند کالعدم جہادی تنظیموں کے خلاف کاروائی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ "ان کے قیام و دیگر معاملات میں ریاست خود شریک رہی ہے کاروائی کیسے کی جائے”۔ ان کی بات اس حد تک تو درست ہے۔ جہادی کلچر کو فروغ جنرل ضیاء الحق نے دیا۔ بعد کی لولی لنگڑی جمہوری حکومتوں کو یہ بوجھ اٹھانا پڑا۔ اکتوبر 1999ء میں حضرت پرویز مشرف دہلوی تشریف لائے ۔ ابتداء میں وہ شدت پسندوں کے مختلف الخیال گروپوں کو اثاثہ قرار دیتے تھے۔ 11/9 کے بعد انہوں نے الٹی زقند بھری۔ بیانیہ تبدیل کرنے کے شوق میں انہوں نے عوام کا بھرکس نکلوا دیا۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ریاست نے عجیب و غریب تجربے کئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی تو جناب اجمل خٹک چند ساتھیوں کے ہمراہ کابل میں پناہ گزین ہو گئے۔ جوابی حکمت عملی کے تحت بھٹو صاحب نے گل بدین حکمت یار، پیر صبغت اللہ مجددی، ملا ربانی اور ملا سیاف سمیت چند افغان رہنماؤں کو پاکستان میں پناہ دی۔ یہ پناہ در پناہ کا سلسلہ دونوں ملکوں میں تقسیم ہند کے بعد سے جاری عدم برداشت کے کھیل کا حصہ تھا۔ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو افغانستان نے ابتداء میں کھلے دل سے اسے تسلیم نہ کیا۔ افغان حکومت سمجھتی تھی کہ پاکستان کے پشتون علاقے قومی بنیادوں پر اسے ملنے چاہیں۔ بالخصوص بلوچستان کی پشتون پٹی کے وہ علاقے جو انگریزوں نے افغانستان سے لیے تھے۔ دوسرا مسئلہ ڈیورنڈ لائن(دونوں ملکوں کی سرحد) کے حوالے سے تھا۔ یہ تنازعہ کسی نہ کسی صورت آج بھی موجود ہے۔ بعدا زاں افغان انقلاب ثورکے بعد پاکستان کو باضابطہ طور پر افغان مہاجرین اور مزاحمت کاروں کی جنت بنا دیا گیا۔ یہ رائے بھی موجود ہے کہ بھٹو صاحب نے چند افغان رہنماؤں کو پاکستان میں پناہ تو دی لیکن وہ کھیل کے اگلے حصے میں پاکستان کی بطور ریاست شرکت کے خلاف تھے۔ اسی لئے اردن کے شاہ حسین کے آزمودہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی کا فیصلہ ہوا اور انہوں نے امریکیوں کی تھپکی سے بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
افغان انقلاب ثور کے بعدجنرل ضیاء الحق نے اپنی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دی اور افغان مزاحمتی تحریک میں شرکت کے لئے دینا بھر سے جہادی بھرتی کرکے پاکستان پہنچائے گئے۔ یہاں مختصر عملی تربیت کے بعد انہیں افغانستان بھیج دیا جاتا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہی کراچی میں ایم کیوایم قائم ہوئی۔ ریاست کی پوری آشیر باد اسے حاصل تھی۔ یہاں تک کہ اوتھل بلوچستان میں ایم کیو ایم کے لئے جو عسکری کیمپ قائم کیا گیا اسے بھی اعانت فراہم کی گئی۔ سندھ کے موجودہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، مرحوم عمران فاروق، ایم کیو ایم حقیقی کے موجودہ سربراہ آفاق احمد خان اس تربیتی کیمپ کے رابطہ کار تھے۔ سندھ کی طرح پنجاب میں جمہوریت پسندوں کا مکو ٹھپنے کے لئے سپاہ صحابہ بنوائی گئی۔ ضیاء حکومت نے اس کے دو فوری فوائد حاصل کئے۔ اولاََ یہ کہ انجمن سپا صحابہ نے اپنے قیام کے ساتھ ہی سرائیکی وسیب کے شہر جھنگ سے رحیم یار خان تک پرتشدد کاروائیوں اور منافرت بھرے اجتماعات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جس سے سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے منظم ہوتی تحریک کو شدید نقصان پہنچا، ثانیاََ یہ کہ اس فرقہ وارانہ کشمکش اور تشدد کے پروگراموں سے جمہوری قوتیں کمزور ہوئیں۔ 1984ء کے سال میں ہی اٹھارویں گریڈ کے ایک سرکاری ملازم نے جہاد کشمیرکے لئے لشکر طیبہ کے نام سے عسکری تنظیم قائم کی۔ ہمارے کچھ "دانا” دوست سپاہ صحابہ کے قیام کو ایرانی انقلاب یا پاکستان میں قائم ہونے والی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا رد عمل قرار دیتے ہیں۔ واقعیاتی اعتبار سے ان کی دونوں باتیں درست نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایران میں آئیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں انقلاب 1979ء میں برپا ہوا۔ جبکہ سپاہ صحابہ 1984ء میں قائم ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ مفتی جعفر حسین کی سربراہی میں قائم ہونے والی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اصل میں پاکستان میں پہلے سے موجود فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم جماعتوں میں شیعہ مکتبِ فکر کی باقاعدہ مذہبی سیاسی جماعت کے قیام کی صورت میں ردِعمل تھا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دیگر مکاتبِ فکر کی نصف درجن (اس وقت) سے زیادہ جماعتوں کی موجودگی میں اگر مذہبی بنیادوں پر اہلِ تشیع نے اپنی جماعت بنائی تھی تو یہ پاکستانی سماج میں سیاست کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کے پہلے سے موجود سلسلے کا بڑھاوا تھا۔
آج نہیں تو کل بہر طور ہمیں (یہاں ہم سے مراد ریاست ہے) یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ جولائی 1977ء میں امریکہ کی آشیر باد سے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار میں آنے والی فوجی حکومت نے پاکستان کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پنجاب کے ایک سابق چیف سیکرٹری زیڈ اے کے شیر دل جب فیصل آباد ڈویژن کے کمشنر تھے یہ 1986ء کے سال کی بات ہے، تو انہوں نے ضلع کی تحصیل چوبارہ میں اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا ء اور چند دیگر معاملات کے حوالے سے رپورٹ مرتب کرکے اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کو بھجوائی۔ اس رپورٹ پر جنرل ضیاء الحق نے اپنے قلم سے لکھا ” تقریر کرتے ہوئے علماء جذبات میں آ جاتے ہیں۔ اس کایہ مطلب نہیں کہ سرکاری اہل کار ان کا احترام نہ کریں۔ کالم کے دامن میں گنجائش نہیں تفصیل کے ساتھ سانحہ چوبارہ کے حوالے سے لکھتا۔ مختصراََ یہ کہ چوبارہ کا سانحہ ایک شدت پسند تنظیم کے اجتماع کی وجہ سےرونما ہواتھا۔ ہم اگر 16 دسمبر1971ء سے پہلے کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں گے تو متحدہ پاکستان کے دور میں بھی ہمیں ریاست ایسے ہی تجربات کرتے ہوئے ملے گی۔رانا ثناء اللہ جو پنجاب کے طاقتور ترین وزیرِ قانون ہیں نے چند کالعدم جہادی تنظیموں کی تشکیل میں ریاست کے کردارکی بات تو کی ہے لیکن انہوں نے اپنی ضرورت کاسچ بولا ۔ اس سچ کا مقصد پاکستانی ریاست کوبھارتی موقف کے مطابق اقوام کی برادری میں مجرم بنا کر پیش کرنا ہے۔ اگر کسی کو یاد ہو تو 1999ء میں اسی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برطانوی اخبارات میں "روگ آرمی” کے عنوان سے اشتہارات چھپوائے تھے۔ یہ کارگل تنازعہ کے فوراََ بعد کے دن تھے۔ رانا ثناء اللہ نے کمال مہارت کے ساتھ جو واردات کی ہے اس میں ان کا مقصد فوج کو بطور ادارہ مجرم بنا کر پیش کرنا ہے۔ فوجی اشرافیہ کی پالیسیوں ، چار بار جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر مارشل لاء نافذ کرنے کے اقدامات کو یہاں کوئی بھی تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ لیکن مجھے یہ عرض کرنےمیں کوئی بھی امر مانع نہیں کہ اگر رانا ثناء اللہ سچ بولنے ہی لگ گئے تھے تو وہ مسلم لیگ (ن) اور بالخصوص پنجاب حکومت کے پچھلے آٹھ سال کے دوران کالعدم شدت پسند تنظیموں سے تعلقات، انتخابی و سیاسی تعاون، کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کے ساتھ اگر اپنی جماعت کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے نام بھی بتا دیتے جو کالعدم تنظیموں کو چندوں کے نام پر مالی وسائل فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں تو ہم سمجھتے کہ ان کے اندر سویا ہوا پرانا سیاسی ورکر جاگ اٹھا ہے۔ اور وہ سچ بولنے لگے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب رانا ثناء اللہ کا اپنا اسم گرامی ایک کالعدم عسکری تنظیم کے مربیوں میں شامل ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران گرفتار ہونے والے بعض دہشت گروں اور راجن پور سے گرفتار چھوٹو گینگ کے آڈیو ویڈیو بیانات نے جناب رانا جی اور ان کے آقاؤں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ قبل اس کے کہ دہشت گردوں اور چھوٹو گینگ کے اعترافی بیانات کی روشنی میں سہولت کاروں اور لوٹ کے مال میں سے حصہ لینے والوں کے خلاف کاروائی شروع ہو ایسا تنازعہ کھڑا کر دیا جائے جس سے آنے والے ہفتوں میں ہونے والی کاروائیوں کو انتقامی کاروائیاں ثابت کیا جا سکے۔صحافت و سیاسیات کے اس طالب علم کو رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیان جس کا ابتدائی سطور میں تذکرہ کیا ہے اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ ابھی چند دن قبل ہی پنجاب حکومت نے سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے والوں میں سے بائیں بازو کے قوم پرستوں کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر سی ٹی ڈی کو ان قوم پرستوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اپنے اس منصوبے کا پردہ فاش ہو جانے پر پنجاب حکومت کے وزیرِ قانون نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں مصروفِ عمل اداروں کے کردار کو ایک بار پھر متنازع بنانے کے ساتھ ساتھ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ معاف کیجیئے گا یہ کوشش نہیں بلکہ منصوبے کا حصہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) جن بحرانوں سے دوچار ہے ان کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے کہ جمہوریت ڈی ریل ہو اور مسلم لیگ (ن) کے مالکان احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی بجائے بھارت، سعودی عرب اور امریکہ کے تعاون سے پتلی گلی کے ذریعے محفوظ انداز میں ماضی کی طرح بھاگ نکلیں۔ کیا یہ خواہش پوری ہوگی یا احتساب کا کٹہرہ ان کا راستہ دیکھ رہا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والے دو تین ہفتوں میں مل جائے گا۔

Views All Time
Views All Time
788
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آخر بلوچوں کا مسئلہ کیا ہے؟ - حیدر جاوید سید

One thought on “رانا جی ! آدھے سے بھی کم ، پورا سچ تو بولتے

  • 20/05/2016 at 5:39 شام
    Permalink

    ؛حیدر جاوید سید صاحب بہت عمدہ کالم اور رانا ثناءاللہ کے بیان پر کمال تبصرہ کیا ہے اور ان کو آئینہ دکھایا ہے۔ امید ہے اب ان کو پتلی گلی سے فرار کا راستہ نہیں ملے گا۔ اور عوام اب ان کے فریب میں نہیں آ ئے گی۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: