Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماہِ رمضان المبارک—کیا کھویا کیا پایا

by جولائی 3, 2016 اسلام
ماہِ رمضان المبارک—کیا کھویا کیا پایا
Print Friendly, PDF & Email

hannan siddiquiیوں تو سارے مہینے خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور منفرد حیثیت کے حامل ہیں لیکن رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس کے بارے میں رسول اکرم(ص) نے فرمایا کہ یہ مہینہ سال کے تمام مہینوں سے افضل ہے، اس کے ایام سال کے تمام ایام سے افضل، اس ماہ کی ساعات تمام سال کی ساعات سے افضل اور اس مہینے میں قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کا ثواب عام دنوں میں ختم قرآن کی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے.
اس مہینے کی باقی مہینوں پر فضیلت و برتری کی اصل وجہ قرآن مجید کا اس مہینے میں نزول ہے اور لیلة القدر بھی اسی وجہ سے ہزار مہینوں سے افضل ہے کہ اس رات قرآن مجید کا نزول ہوا.
اس ماہ میں مومنین پر روزے فرض کئے گئے تاکہ وہ متقی بن سکیں. روزہ کوئی انسان پر بوجھ نہیں اور نہ ہی خدا کا مقصد مومنین کو اذیت دینا ہے کیوں کہ خداوند متعال قرآن مجید میں روزے کی آیت کے ضمن میں فرماتا ہے کہ
"خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل نہیں چاہتا.”
(سورہ بقرہ..آیت 185)
تو اسی لئے روزہ دار کا سونا عبادت اور سانس لینا تسبیح قرار دیا گیا اور روزہ کے اجر کے بارے میں خداوند عالم حدیثِ قدسی میں فرماتا ہے کہ
"اَلصَّوْمُ لِی وَاَنَا اُجْزِی بِه”
"روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا.”
منقول ہے کہ جب رسول اکرم(ص) معراج پر تشریف لے گئے تو خداوندِ عالم نے فرمایا کہ
"اے احمد(ص)! روزہ کی میراث حکمت ہے.”
حکمت ایسا عظیم تحفہ ہے جسے خداوند عالم نے اپنے لئے مشقت اٹھانے والے روزہ دار کی میراث قرار دیا اور مالِ دنیا, جاہ و جلال, شہرت, منصبِ دنیا پر حکمت کو مقدم رکھا کیوں کہ اگر حکمت نہ ہو تو انسان دنیا کی دولت، شہرت، منصب اور جاہ و جلال سے صحیح طرح فیض یاب نہیں ہوسکتا.
آج(تا دم تحریر) 24 رمضان المبارک ہے، اس ماہ کے بابرکت اور عظمت سے بھر پور لمحات تیزی سے گزرتے جا رہے ہیں، ماہ رمضان ہم سے جدا ہونے کو ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نے اب تک کتنا فائدہ اٹھایا؟
ہر افطاری کے وقت جو ایک لاکھ جہنمی، جہنم کی قید سے آزاد ہوتے ہیں تو کیا ہم اب تک اس قابل ہوئے کہ اپنے آپ کو جہنم کی قید سے آزاد کروا سکیں؟
کیا ہم نے اس ماہ کی ساعات سے بھر پور فائدہ اٹھایا؟
کیا ہم نے اب تک ایسی برائیوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کیا جو ہم ماہ رمضان سے پہلے کرتے تھے؟
کیا ہم نے ماہ رمضان کے مبارک لمحات میں ایسی خوبیوں کو اپنایا جو ہمارے اندر پہلے نہیں پائی جاتی تھیں؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو ایک مسلمان ہونے کے ناطے عرض کئے گئے ہیں کیونکہ ابھی بھی موقع ہاتھ سے نہیں گیا. خدا کی رحمت سے فیض یاب ہونے کے لئے ماہ رمضان کے 5 یا 6 دن ابھی بھی باقی ہیں.
رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ آخری عشرے میں بستر باندھ دیتے تھے اور خالق کائنات کی یاد میں مشغول ہوجاتے, آخری عشرے میں خدا سے راز و نیاز کی خاطر اعتکاف میں بیٹھ جاتے اور آخری عشرے کی فضیلت پہلے دو عشروں کی نسبت زیادہ ہے، تیسرے عشرے کو عشرۂ نجات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی گناہانِ کبیرہ و صغیرہ اور جہنم سے نجات کا عشرہ ہے. خداوندِ مہربان ہمیں بے پناہ دینے کے لئے تیار ہے لیکن گویا ہم خود لینے کے لئے تیار نہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے روزے صرف بھوک پیاس ہی شمار ہوں اور یہ مبارک مہینہ گزر جائے ليكن ہم بدبختوں کی فہرست میں پڑے رہیں. اسی لئے معصوم سے منقول دعاؤں میں خداوندِ متعال سے خصوصی اپیل کی گئی ہے کہ
"اِنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی اُمِّ الْکِتَابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَاِنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ اُمُّ الْکِتَابِ۔
اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے، یقیناً تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔”
خدا جانے یہ لمحات آئندہ سال میسر ہوں گے یا نہیں کیوں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہمارے کئی عزیزان ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی اس جہانِ فانی کو خیر باد کہہ کر ابدی سفر کی طرف گامزن ہو گئے تو ابھی وقت ہے کہ ہم حقوق اللّه اور حقوق العباد ادا کر کے یا آئندہ ادا کرنے کی خالص نیت کر کے اپنے محبوب پروردگار کو راضی کر کے جہنم کی آگ سے آزادی حاصل کر لیں کیوں کہ فرمانِ معصوم نقل کیا جاتا ہے ہے کہ
"بد بخت ہے وہ شخص جو ماہ رمضان کو پائے لیکن بخشش حاصل نہ کر سکے.”

Views All Time
Views All Time
534
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے!
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: