کھیلن کو مانگے چاند | راجہ احسان

Print Friendly, PDF & Email

ماں کی مامتا اور اس کی محبت ایک روشن حقیقت ہے اور اس محبت نے کئی لازوال کہانیوں کو جنم دیا لیکن باپ کی محبت پر بہت کم لکھا گیا باپ کی محبت کے عجیب بھید ہیں جو اس کے رعب اور دبدبے میں چھپے رہتے ہیں اور اس کی محبت کا مظہر بیشتر اوقات اس کا ڈنڈا ہوتا ہے جو بچوں کو صراطِ مستقیم سے بھٹکنے نہیں دیتا اور انسان کو آخری دم تک راہنمائی مہیا کرتا رہتا ہے ۔باپ اپنے بچوں کی خواہشات کی تکمیل کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا تپتی دھوپ میں کبھی ہل جوت لیتا ہے تو کبھی سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر کو کوٹتے کوٹتے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں تڑوا لیتا ہے بچوں کے منہ میں جانے والا ہر لقمہ باپ کی بوڑھی ہوتی ہڈیوں ہی سے تو کشید کیا ہوتا ہے ۔
کبھی کبھی ماں باپ کی یہی محبت انہیں گناہوں کی دلدل میں پھینک دیتی ہے ۔کبھی ماں کو اپنی آبرو بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے تو کبھی باپ کو اپنا ایمان بیچنے پر ، بچوں کی خواہشات ہوتی ہیں کہ نہ انہیں تھمنا ہوتا ہے نہ تھمتی ہیں یہ بڑھتی ہی جاتی ہیں اور ماں باپ کو بے بس کر کے رکھ دیتی ہیں اور کبھی کبھی تو انہیں اولاد کی طرف سے ایسی خواہش سے سابقہ آن پڑتا ہے جہاں انکی بشریت کی پرواز ختم ہو جاتی ہے وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے جہاں نہ کوئی جائز رستہ ہوتا ہے اور نہ ہی ناجائز اور پھر انسان کو اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔
اجمل بھی اولاد سے بہت پیار کرتا تھا وہ بہت محنت اور جانفشانی سے کھیتی باڑی کر کے اپنی اولاد کو ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا اس کی اولاد کے لئے محبت ماں کی مثالی محبت سے بھی بڑھ کر تھی اس کے بچے اس سے جو بھی فرمائش کرتے وہ ہر ممکن جائز کوشش کر کے ان کی خواہش پوری کرتا ۔ اور اب تک اسے کبھی اس کوشش میں ناکامی کا سامنا نہیں ہوا تھا ۔وہ ضلع راوپنڈی کی تحصیل گوجرخان کے ایک نواحی گاؤں میں رہتا تھا ۔
ایک دن اسے اپنے چار سالہ بیٹے نے کہا کہ بابا مجھے بیر کھانے ہیں اس وقت بیروں کا موسم تقریباً ختم ہو چکا تھا گاؤں کی کسی بیری پر بیر موجود نہیں تھے اس نے بیٹے کو ساتھ لیا پاؤں میں سلیپر پہنے ہوئے اور معمولی سا لباس پہنے ہوئے گاؤں کی دوکان پر آ گیا اور بیروں کا پوچھا ، دکان دار کے پاس نہیں تھے ۔اجمل نے دکان دار سے پوچھا کہ کہاں سے مل سکتے ہیں تو اس نے جواب دیا شائد دولتالہ قصبے سے مل جائیں۔ وہ بیٹے کو ساتھ لے کر گاڑی میں بیٹھا اور قصبے کو آ گیا وہاں بھی اسے بیر دستیاب نہ ہوئے تو پوچھنے پر اسے بتایا گیا کہ شائد گوجرخان سے مل جائیں۔ وہ بیٹے کو ساتھ لئے گوجرخان آ گیا وہاں بھی نہ ملے تو کسی نے کہا کہ شائد جہلم مل جائیں وہاں بھی نہ ملے چلتے چلتے بھائی صاحب گجرات پہنچ گئے وہاں بھی شہر بھرمیں بیرنہ ملے مگر اسے ایک صاحب نے گجرات میں ایک گاؤں کا نام بتایا کہ وہاں ایک بڑے زمیندار کا بہت اعلیٰ پائے کے بیروں کا باغ ہے مگر وہ سارے بیر ایکسپورٹ ہوتے ہیں اور اس کے دو سو سے زائد درخت ہیں اور پھل بھی موجود ہے بھائی صاحب وہاں اس باغ میں بیٹے کو ساتھ لے کر پہنچ گئے ، اس وقت باغ کا مالک بھی وہاں موجود تھا اور مزدور بیر توڑ کر پیکنگ کر رہے تھے مالک نے اجمل کو دیکھا تو اجنبی کو دیکھ کر فطری طور پر حیران ہوا سلام دعا کے بعد اجمل نے اسے کہا کہ اسے اپنے بیٹے کے لئے بیر چاہیئں مالک نے اس سے کہا کہ بھیا یہ تو سارا مال ایکسپورٹ ہوتا ہے سارے علاقے کو پتہ ہے تم کہاں سے آئے ہو، اجمل نے اسے سارا ماجرا سنایا تو باغ کا مالک بہت متاثر ہوا اس نے سارے مزدوروں کو بلا لیا اور کہا کہ ہر بیری پر جاؤ اور جو اس بیری کےجو سب سے اچھے بیر ہیں وہ ہر بیری سے دو دو توڑ کر لاؤ اور پیک کر کے اجمل کو دو ، اجمل آخر اپنے بچے کی محبت میں اس کی خواہش پوری کر کے لوٹا پھر ایک دن اجمل اپنے بیٹے کے ساتھ باہر چارپائی پر لیٹا ہوا تھا چودھویں کی رات تھی دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے سے لاڈ پیار کر رہے تھے کہ اچانک اس کے بیٹے نےچمکتے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بابا مجھے کھیلنے کے لئے یہ چاند چاہیے۔

Views All Time
Views All Time
362
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خدشات،تحفظات ختم ہونے چاہئیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: