قرآن اور کلامِ حضرت امام حسینؑ

Print Friendly, PDF & Email

waqar-hashmiاگر ہم امام حسینؑ کے کلام ، خطوط اور خطبوں کا مطالعہ کریں تودیکھیں گے کہ امام عالی مقامؑ کا کلام اپنے نانا حضرت محمدِ مصطفیٰ (ص) اور اپنے والد امام علیؑ کے کلام کی طرح ہدایت اور راہنمائی کا سر چشمہ ہے۔جہاں انکے کلام میں اور بیش بہا علمی اور اصلاحی پہلو ہیں وہیں حریت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پیغام مسلسل بھی واضح نظر آتا ہے۔اگر کلامِ امام حسینؑ کے ساتھ ساتھ آپ قرآن حکیم کا مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ دراصل کلامِ امام حسینؑ کلامِ قرآن حکیم کی تفسیر ہی تو ہے۔
اس نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن اور کلامِ امام حسینؑ کے نام سے قسط وار تحریروں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں پہلی گفتگو میں بم کلامِ امام حسینؑ اور کلامِ قرآنِ حکیم کی روشنی میں دیکھیں گے کہ اچھے رہبر اور حاکم کی خصوصیات کیا ہیں ؟ اور ظالم حاکم کے خلاف امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا التزام کب، کیسے اور کیوں کیا جائے۔
امام عالی مرتبت ؑ کے فرامین کی روشنی میں رہبر اورحاکم کی خصوصیات ،ذیل میں مختلف حوالوں کے ساتھ درج کی جا رہی ہیں۔

حوالہ نمبر 1)
امام حسینؑ نے کوفیوں کے خطوط کے جواب میں جو خط لکھا اُس میں رہبر (لیڈر) کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
” رہبر وہ ہے جو
1) کتاب اللہ کی پیروی کرے۔ 2) عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرے۔
3) حق کی پیروی کرے ۔ 4) اور اپنے وجود کو اللہ کے لئے وقف کر دے۔ ”

(حوالہ : حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا، صفحہ 80)

حوالہ نمبر 2)
ثعلبیہ کے مقام پر ایک شخص نےامام عالی مقام سے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر دریافت کی

” يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍؚبِـاِمَامِہِمْ : ترجمہ : قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ ”
اسکے جواب میں حضرت نے فرمایا:
” ایک امام و پیشوا وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو راہِ راست ،کامیابی اور سعادت کی طرف بلاتا ہے ۔کچھ لوگ اُسکی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اُسکی پیروی کرتے ہیں ایک اور امام اور پیشوا وہ ہے جو لوگوں کو گمراہی اور بد بختی کی طرف بلاتا ہے اور لوگوں کا ایک گروہ اسکی دعوت قبول کرتا ہے۔اُن میں سے پہلا گروہ جنت میں اور دوسرا جہنم میں جائے گا۔”
(حوالہ : حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا ، صفحہ 148)

” اس ضمن میں قرآن کریم کے ارشادات بمعہ حوالہ جات”

قرآنِ کریم کی طرف رجوع کریں تواس میں بھی رہبر (لیڈر) کی وہ خصوصیات بیان ہوئیں جو امام حسینؑ کے کلام میں ملتی ہیں جیسا کہ
ایک جگہ رہبر (لیڈر) کی ایک خصوصیت بیان کی گئی کہ وہ لوگوں میں عدل سے فیصلہ کرتا ہے۔
” اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں ”
(حوالہ : قرآن ،سورہ ص ،آیت 26)

ایک جگہ رہبر (لیڈر) کی خصوصیت بتائی کہ وہ علم رکھتا ہے اور جسمانی طور پر مضبوط ہوتا ہے ۔ اب یقیناً احکامِ الٰہی کا علم رکھنے والا حق و باطل کی تمیز رکھنے والا ہی کسی کو حق کی طرف بلا سکتا ہے۔
*
” ہم خود بادشاہی کے اس سے زیادہ حقدار ہیں اور وہ کوئی دولتمند آدمی تو نہیں ہے
**
(اس آیت کا حوالہ درج نہیں

پیغمبر نے فرمایا: اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسے منتخب کیا ہے اور اسے علم اور جسمانی طاقت کی فراوانی سے نوازا ہے“
(حوالہ : سورہ بقرہ، آیت 247)

یہ بھی پڑھئے:   وصئ مصطفیٰؐ امام علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم

حوالہ نمبر 3)

امام حسینؑ کے کلام پر غور کریں تو بہت سی جگہوں پر راہنمائی ملے گی کہ امر بالمعروف ۔۔۔ کب کیسے اور کیوں کیا جائےجیسا کہ

3) بیضہ کے مقام پر، حر بن یزید ریاحی (رض) کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
” اے لوگو رسول اللہ (ص) نے فرمایا اگر کوئی کسی ظالم حاکم کو دیکھے جو

1) اللہ کے حرام کئے کو حلال بنا رہا ہو۔
2) خدا سے کیا عہد توڑ رہا ہو۔
3) سنتِ رسول اللہ (ص) کی مخالفت کرتا ہو۔
4) اللہ کے بندوں پر ظلم کرتا ہو۔
ایسے ظالم حاکم کو دیکھنے کے بعد اپنے عمل یا قول سے اُسکی مخالفت نہ کرے تو اللہ کو بھی حق ہے کہ اُس شخص کو بھی اُس ظالم کے ساتھ عذاب دے۔ ”

(حوالہ : حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا،صفحہ 177)

قرآنِ حکیم میں بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم کچھ اس طرح سے ہی دیا گیا جیسا کہ
”اور تم میں ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیئے جو نیکی کی دعوت اور بھلائی کا حکم دے اور برائیوں سے روکے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔“

(حوالہ : قرآن ، سورہ العمران ، آیت 104)

حوالہ نمبر 4)
جب مدینہ میں ولید بن عقبہ نے امام حسینؑ کو دارالامارہ میں بیعت کی غرض سے بلایا تو آپ نے بیعت کا انکار کرتے ہوئے اپنے خطبے میں اس انکار کی جو وجوہات بیان فرمائیں وہ ذیل میں درج ہیں۔

” یزید کا کردار یہ ہے کہ
1) وہ شراب خور ہے ۔
2) بے گناہ افراد کا قاتل ہے۔
3) احکامِ الٰہی کو پامال کرتا ہے۔
4) علی الاعلان گناہ کرتا ہے۔

مجھ جیسا شخص کسی صورت یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ”

(حوالہ : حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا، صفحہ 32)
اب اگر بم امام عالی مقامؑ کے خطبے کے اس حصے پر غور کریں کہ جس میں انھوں نے ارشاد فرمایا کہ ” مجھ جیسا شخص کسی صورت یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ” یہ جملہ نہ صرف تمام انسانیت بلکہ خاص طور پر اُن لوگوں کے لئے جو کہ امام حسینؑ سے محبت اور اُن کی اطاعت کا دعوی کرتے ہیں اُنکے لئے راہنمائی کا ذریعہ بھی ہے اور حکم بھی کیوں کہ امامؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” میں یزید کی بیعت نہیں کرتا بلکہ آپؑ نے فرمایا مجھ جیسا شخص کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ” ۔ اب یہاں ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ اگر بم اطاعت امام حسینؑ کا دعوی کرتے ہیں تو بم کیوں کر کسی ایسے کو اپنا لیڈر چن سکتے ہیں یا ”ووٹ“ دے سکتے ہیں جس میں وہ تمام برائیاں ہو جن کی نشاندہی امام حسینؑ نے فرمائی۔

جہاں امام حسینؑ نے اچھے رہبر اور حاکم کی خصوصیات بیان فرمائیں اور یہ بتایا کہ ظالم حاکم کے آگے امر بالمعروف کہاں اور کیوں کیا جائے وہیں آپ ؑ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ کیسے کیا جائے۔

حوالہ نمبر 5)
مدینہ سے نکلتے ہوئے امام حسینؑ نے ایک وصیت نامہ لکھا اور محمدِ حنفیہ (رض) کے سپرد کیاجس میں ارشاد فرمایا:
” میرا مدینہ سے نکلنا نہ تو خود پسندی اور تفریح کی غرض سے ہے اور نہ ہی فساد اور ظلم و ستم میں مقصد ہے۔میں تو صرف اس لیے نکلا ہوں کہ اپنے نانا کی اُمت کی اصلاح کر سکوں ۔”

(حوالہ: حسینؑ بن علیؑ ، مدینہ تا کربلا ، صفحۃ 48)
یعنی امام حسینؑ نے بتا دیا کہ جب امر بالمعروف ۔۔۔۔ کرنا مقصود ہو، لوگوں کی اصلاح مقصود ہو تو گھر سے نکلنا پڑتا ہے ۔
قرآن پاک اس موضوع پر کہتا ہے کہ :
” انسان یقیناً خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے،انہوں نے نیک عمل کئے،اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت و تلقین کی ”

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان اور رمضان دائمی حقیقت

(حوالہ: قرآن ، سورہ العصر ، آیت 2-3)
حوالہ نمبر 6)
اسی طرح جب یزیدی فوجوں پر حملہ کرتے ہوئے رجز پڑھتے ہوئے کچھ یوں فرمایا:
” اگر دینِ محمدی (ص) کی بقا اسی مین ہے کہ میں مارا جاؤں تو اے تلوارو آؤ مجھ پر برس پڑو“

(حوالہ: حسینؑ بن علیؑ ، مدینہ تا کربلا ، صفحہ 404)
یعنی امر بالمعروف ۔۔۔۔۔ کی خاطر جان کی بھی قربانی دینا پڑے تو گریز نہیں ۔
اور قرآنِ حکیم میں اللہ نے اس مقام پر فرمایا :
” یقینا اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال جنت کے عوض خرید لیے ہیں ۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پھر مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ، یہ توریت و انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنا عہدپورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس تم نے اللہ کے ساتھ جو سودا کیا ہے اس پرخوشی مناؤ اور یہ تو بہت بڑی کامیابی ہے۔“

(حوالہ : قرآن ، سورہ توبہ ، آیت 111)

کتاب : "حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا "
کتاب ” حسینؑ بن علیؑ مدینہ تا کربلا "دراصل معروف فارسی کتاب "سخنانِ حسینؑ ابنِ علیؑ از مدینہ تا کربلا ” کا اُردو ترجمہ ہے. ” سخنانِ حسینؑ ابنِ علیؑ از مدینہ تا کربلا” کو مدرسین حوزہ علمیہ قم کے اشاعتی ادارے "دفترِ انتشاراتِ اسلامی ” نے شائع کیا اور اسکے متعدد ایڈیشن چھپ چکے ہیں. اس کتاب کے مؤلف حجت الاسلام محمد صادق نجمی (قم) صاحب ہیں .جن کا کہ تعلق حوزہ علمیہ قم سے ہے اور اس کتاب کا اُردو ترجمہ مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی صاحب نے کیا ہے۔
اس کتاب میں صادق نجمی صاحب نے رجب 60 ھجری سے لے کر 10 محرم 61 ھجری تک کے امام حسینؑ کے بہت سے خطبات ، خطوط اور فرمودات کو ایک جگہ یکجا کر دیا ہے۔
نہایت آسان فہم کتاب ہے جس میں کلامِ امام حسینؑ کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ اُسکی تفسیر اور اُس کلام کا موقع محل بھی عمدہ انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
اس کتاب میں نقل کیے جانے والے ہر خطبے، خط یا کلام کے باقاعدہ حوالہ جات بھی دئے گئے ہیں۔ ان خطبات یا خطوط کو کس کتاب سے نقل کیا گیا ہے۔اکثر جگہوں پر صادق نجمی صاحب نے شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کی کتب کا حوالہ دیا ہے۔
میں نے اپنی تحریر میں حوالہ دینے کے لئے اس کتاب کا انتخاب اس لئے کیا کہ قارئین کو ایک آسان فہم اور مستند کتاب کا حوالہ دیا جائے تا کہ اذہان پر گراں نہ گزرے اگر کوئی روایت کا منبع جاننا چاہے تو اس کتاب میں وہ حوالہ جات موجود ہیں۔

Views All Time
Views All Time
927
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: