Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قرآن اور قلب

قرآن اور قلب
Print Friendly, PDF & Email

waqar hashmi” قلب ” یا ” دل” لفظی معنوں میں تو جسم کے اس عضو کو کہتے ہیں جو اپنی حرکت سے تمام جسم میں خون کی گردش کا باعث بنتا ہے ، لیکن اس لفظ کو عموماً معاشرے میں مختلف اصطلاحی معنوں میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے ،
لوگ اس لفظ کو محبت، احساس، رومانیت، اثر،رحم،نفرت ، غرضیکہ مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں، شعراء ومصنفین کا بڑا پسندیدہ لفظ ہے، آجکل تو فلموں ، ڈراموں،گانوں میں اس کا اصطلاحی استعمال لازم سا ہو گیا ہے،روزانہ بیسیوں بار یہ لفظ سنتے ہیں۔
ایسے میں خیال آیا اور شوق پیدا ہوا کہ دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن میں اس لفظ کو کن اصطلاحی معنوں میں استعمال کرتا ہے،
قلب كا لفظ قرآن بہت دفعہ استعمال ہوا ہے اور اسے ايك خاص اہميت دى گئی ہے_ مثلاً قلب كا مقام قرآن ميں ا تنا عالى اور بلند ہے كہ جب اللہ تعالى سے ارتباط جو وحى كے ذريعے سے انسان كو حاصل ہوتا ہے وہاں قلب كا ذكر كيا جاتا ہے
خداوند قرآن مجيد ميں پيغمبر عليہ السلام سے فرماتا ہے كہ
-نزل بہ الروح الامين على قلبك لتكون من المنذرين_ شعرا/ 194
”روح الامين (جبرئيل) نے قرآن كو تيرے قلب پر نازل كيا ہے تا كہ تو لوگوں كو ڈرائے_ نيز خدا فرماتا ہے اے پيغمبر(ص) كہہ دے كہ جو جبرائيل (ع) كا دشمن ہے وہ خدا سے دشمنى كرتا ہے كيونكہ جبرائيل (ع) نے تو قرآن اللہ كے اذن سے تيرے قلب پر نازل كيا ہے
– فاوحى الى عبدہ ما اوحى ما كذب الفؤاد ما را ي_ نجم/ 11_
خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ” پس خدا نے اپنے بندے (محمد(ص) ) پر وحى كى ہے اور جو پيغمبر (ص) كے قلب نے مشاہدہ كيا ہے اسے فرشتے نے جھوٹ نہيں بولا
اسکے علاوہ متعدد جگہوں پر لفظ قلب کا ذکر آیا ھے جیسا کے
فہم اور عقل:
– افلم يسيروا فى الارض فتكون لہم قلوب يعقلون بہا_ حج/ 46
قرآن فرماتا ہے كہ ”كيوں زمين كى سير نہيں كرتے تا كہ ايسا دل ركھتے ہوں كہ جس سے تعلق كريں
عدم تعقل و فہم:
– لہم قلوب لا يفقہون بما و لہم اعين لايبصرون بہا_ اعراف/ 179
قرآن فرماتا ہے كہ ”ان كے دلوں پر مہر لگادى گئی ہے اور وہ نہيں سمجھتے_” قرآن فرماتا ہے كہ ”انكے پاس دل موجود ہيں ليكن وہ نہيں سمجھتے اور آنكھيں موجود ہيں ليكن وہ نہيں ديكھتے۔
ايمان:
– اولئك كتب فى قلوبہم الايمان و ايّدہم بروح منہ_ مجادلہ/ 22
قرآن فرماتا ہے كہ ”خداوند عالم نے ان كے دلوں ميں ايمان قرار ديا ہے اور اپنى خاص روح سے ان كى تائيد كى ہے
كفر و ايمان:
و طبع على قلوبہم فہم لا يفقہون_ توبہ/ 78
قرآن فرماتا ہے_ ”اور جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں ركھتے ان كے دل انكار كرتے ہيں اور تكبر بجالاتے ہيں”_ نيز فرماتا ہے_ ”كافر وہ لوگ ہيں كہ خدا نے ان كے دلوں اور كانوں اور آنكھوں پر مہر ڈال دى ہے اور وہ غافل ہيں
نفاق:
يحذر المنافقون ان تنزّل عليہم سورة تنبئہم بما فى قلوبہم_ توبہ/ 64
قرآن فرماتا ہے كہ ” منافق اس سے ڈرتے ہيں كہ كوئی سورہ خدا كى طرف سے نازل ہوجائے اور جو كچھ وہ دل ميں چھپائے ہوئے ہيں وہ ظاہر ہوجائے
ہدايت پانا:
و من يؤمن باللہ يہد قلبہ و اللہ بكل شيء عليم_ تغابن/ 11
قرآن ميں ہے كہ ”اور جو شخص اللہ پر ايمان لے آئے وہ اس كے دل كو ہدايت كرتا ہے اور خدا تمام چيزوں سے آگاہ ہے _
انّ فى ذالك لذكرى لمن كان لہ قلب او القى السمع و ہو شہيد_ ق/ 37
نيز خدا فرماتا ہے كہ ”بےشک گذرے ہوئے لوگوں كے ہلاك كردينے ميں اس شخص كے لئے نصيحت اور تذكرہ ہے جو دل ركھتا ہو يا حقائق كو سنتا ہو اور ان كا شاہد ہو
اطمينان اور سكون:
الا بذكر اللہ تطمئن القلوب_ رعد/ 28
قرآن ميں ہے كہ ”بےشک اللہ كے ذكر اور ياد سے دل آرام حاصل كرتے ھیں
ہو الذى انزل السكينة فى قلوب المؤمنين ليزدادوا ايماناً_ فتح/ 4
اور نيز فرماتاہے _وہی خدا ہے جس نے سكون كو دل پر نازل كيا ہے تا كہ ان كا ايمان زيادہ ہو
ضطراب و تحير:
انما يستا ذنك الذين لا يؤمنون باللہ و اليوم الاخر و ارتابت قلوبہم فہم فى ريبہم يترددون_ توبہ/ 45
خدا قرآن ميں فرماتا ہے ”فقط وہ لوگ جو اللہ اور قيامت پر ايمان نہيں ركھتے اور انكے دلوں ميں شك اور ترديد ہے وہ تم سے جہاد ميں نہ حاضر ہونے كى اجازت ليتے ہيں اور وہ ہميشہ شك اور ترديد ميں رہيں گے
مہربانى اور ترحم:
و جعلنا فى قلوب الذين اتّبعوہ را فة و رحمة_ حديد/ 27
قرآن ميں ہے ”اور ہم نے ان كے دلوں ميں جو عيسى عليہ السلام كى پيروى كرتے ہيں مہربانى اور ترحم قرار ديا ہے
ہو الذى ايّدك بنصرہ و بالمؤمنين و الّف بين قلوبہم_ انفال/ 63
نيز خدا فرماتا ہے كہ ”اے پيغمبر وہی خدا ہے جس نے اپنى مدد اور مومنين كے وسيلے سے تيرى تائيد كى ہے اور ان كے دلوں ميں الفت قرار دى ہے
سخت دل:
و لو كنت فظاً غليظ القلب لا نفضّوا من حولك_ آل عمران/ 159
قرآن ميں خدا فرماتا ہے ” اے پيغمبر اور اگر تو سخت دل اور تند خو ہوتا تو لوگ تيرے ارد گرد سے پراگندہ ہوجاتے
۔پردہ :
اﷲتعالی کا ارشاد ہے :-وقالوا قلوبنافی أکنّة مماتدعونا الیہ وفی آذاننا وقر( فصلت آیت 5)
”اور وہ کہتے ہیں کہ تم جن باتوں کی طرف دعوت دے رہے ہو ہمارے دل ان کی طرف سے پردہ میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بہرا پن ہے ”دوسری جگہ ارشاد ہے :-
وجعلناعلیٰ قلوبہم أکنّة أن یفقھوہ وفی آذانھم وقراً ( انعام آیت 25)
”اور ہم نے ان کے دلوں پر پرد ے ڈال دئے ہیں ۔وہ سمجھ نہیں سکتے ۔اور ان کے کانوں میں بھی بہراپن ہے ”

Views All Time
Views All Time
466
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   رمضان اور غیر مسلم-ممتاز شیریں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: