Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

!میں ہوش والوں کی بدحواسی کا نوحہ گر ہوں

by اکتوبر 12, 2016 بلاگ
!میں ہوش والوں کی بدحواسی کا نوحہ گر ہوں
Print Friendly, PDF & Email

qasim aliکچھ سالوں سے یہ عجب روایت چل نکلی ہے کہ جیسے ہی عیدِ قرباں کا موقع قریب  آتا ہے،تو ایک چھوٹا سا نام نہاد "لبرل” ٹولہ    شعائرِ اسلامی کی تحقیر  کے واسطے سرگرمِ عمل ہو جاتا ہے۔   "اھنسا” کا داعی یہ ٹولہ   سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کو جانوروں پر ظلم قرار دیتا ہے۔  استدلال یہ پیش کیا جاتاہے  کہ جو پیسے قربانی کے جانوروں کی خریداری پر "ضائع” کیے جا رہے ہیں، ان سے کسی غریب مسکین کی مدد کی جا سکتی ہے۔  یہاں اس بے سروپا منطق کی رد میں دلائل پیش کرنا ، بے محل معلوم ہوتا ہے کہ سر دستِ مجھے اسی ٹولے سے مماثل ایک اور  گروہِ  احمقاں کا ذکر کرنا ہے۔

جوں ہی محرم الحرام کے  دن قریب آتےہیں، ایک گروہ کی جانب سے نالہ و فغاں بلند ہوتا ہے  کہ محرم کے جلوسوں کو چار دیواری کی حدتک محدود کر دیا جائے  کیونکہ ان جلوسوں سے لوگوں کی روز مرہ زندگی میں خلل واقع ہوتا ہے، یعنی ایک سڑک چھوڑ کر دوسری سڑک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، نقص ِ امن ِ عامہ کا خدشہ ہے وغیرہ وغیرہ۔  جس ملک میں نہ تو وی وی آئی پی   موؤمنٹ کے دوران سڑکیں بند ہوتی ہوں اور  نہ ہی  ہڑتالیں ہوتی ہوں،  جہاں کسی نے دھرنے کا نام تک نہ سنا ہو، بلکہ جب کسی کے سامنے یہ لفظ استعمال کیا جائے تو وہ مطلب دیکھنے کےلیے لغت کی  طرف لپکے،  تو ایسے ملک میں اگر کوئی مذہبی فرقہ ، کسی مذہبی  تہوار  کے موقع پر جلوس نکالنے کی روش پر چل نکلے، تو عام شہری تکلیف سے بلبلا نہ اُٹھیں، تو اور کیا کریں؟  یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ محرم الحرام کے جلوسوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ مجالس بھی چار دیواری کے اندر ہونی چاہیں، بلکہ اپنے شعیہ دوستوں کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ انہیں چاہیے کہ گاڑی اور موٹر سائیکل بھی گھر کی چار دیواری کے اندر ہی چلائیں۔  کیاآپ کا مسلک آپ کو یہی درس دیتا ہے کہ بھلے لوگوں کو یوں ایذا دیتے پھریں؟   ہاں، البتہ اس بات کا حل میرے پاس موجود نہیں کہ اگر کسی کو محضِ ذکرِ حسینؑ سے ایذا پہنچتی ہو، تو اس کی راحت کا سامان کس طور کیا جائے۔

ایک طبقہ  وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ رونا دھونا حرام ہے، سوگ صرف تین روز تک منانا ہی جائز ہے ۔  شہید چونکہ زندہ و جاوید ہیں، سو ان کے ماتم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  بالکل درست۔اگر آپ کے مسلک میں شہدائے کربلا کے مصائب کے ذکر پر آنکھیں نم کرنا موجبِ گناہ ہے، تو بالکل مت روئیے۔  یہ تو دل کے معاملے ہیں۔ جو  آنکھ  اُن کے مصائب کے ذکر پر بھیگ جائے جو کشتہِ رہِ وفا ہوئے، تو بھیگ جانے دیں۔ جو آنکھ خشک رہ جائے تو اس پر بھی کچھ گرفت نہیں۔  اگر آپ کے ہاں سوگ کی مدت تین روز ہے ،تو شوق سے مت منائیے  سوگ۔ اگر  آپ سینہ کوبی اور  نوحہ خوانی کو جائز نہیں سمجھتے تو  آپ کو کوئی زبردستی ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔  آ پ محرم کو اُس طرح منائیں جس طرح آپ کا مسلک  یا کلچر آپ کو سکھاتا ہے یا جس طرح آپ کو  ٹھیک لگتا ہے،لیکن خدارا ! ایسا طرزِ عمل بھی مت اختیار کیا کیجئے  کہ جیسے روزِ عاشور کوئی ڈھول  پیٹنے، تاشے بجانے کا موقع ہے۔اگر جگر گوشہ ِ بتول ؑ کی لازوال قربانی کے فلسفے پر گفتگو کرنا، ان کے مصائب کے متعلق  دوسروں تک آگہی پہنچنا  ، آپ کے لیے کسی بھی وجہ سے ممکن  نہ  ہو ، تو کم از کم محرم الحرام کی تعطیلات  میں دوستوں کے ساتھ  پر تکلف”تکہ پارٹی”  کا اہتمام بھی نہ  کیا کریں۔  وہ پیکر ِ صبرو وفا جس نے پورا کنبہ کٹوا کر دینِ محمدی ﷺ  کو بچایا، جس کے سرِاقدس نے نوک سناں پر بھی ربِ واحد کی حقانیت کی گواہی دی، جس نے زیرِ خنجر نمازِ وفا ادا کی، اُس  غریب الوطن کا کم سے کم ہم پر اتنا تو حق بنتا ہی ہے کہ اس کی  قربانی کے احترام میں  ہم چند روز کے لیے اپنے غیر ضروری معمولات زندگی معطل کر دیں۔ بے ردا  زینبؑ  کی کسمپرسی اس قدر سلوک کی متقاضی تو ہے ہی  کہ ہم محض چند لمحوں کے لیےہی سہی مگر خاموشی اختیار کر کے ابدتک  کون و مکاں میں گونجنے والی صدائے زینب ؑ کی بازگشت پر کان لگانے کی کوشش کریں۔

بقول جوشؔ ملیح آبادی’ چرخِ بنی نوعِ انساں کے تارے ہیں حسین’۔ اس لیے انہیں کسی ایک فرقے یا مذہب کے ساتھ مخصوص کر دینا کسی طور درست نہیں۔  جو جس طور یادِ حسینؑ مناتا ہے، اسے منا لینے دیں۔ جو طریقہ آپ کو درست لگتا ہے، اسی طریقے سے سبطِ رسولﷺ کی بارگاہ میں عقیدتوں کے نذرانے پیش کریں۔ حسین کی یاد کو صرف ایک فرقے سے جوڑ کر، یومِ عاشور پر معمولاتِ زندگی ذرہ برابر فرق کے بغیر جاری رکھنے کی روش ترک کردیں۔  مختلف فرقوں کو درمیان ہم آہنگی کا دیرنیہ خواب اُس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا، جب تک چیزوں کو دوسروں کے نقطہ نگاہ سے دیکھنے اور سمجھنے کی سعی نہ کی جائے ۔ جب ہم کسی شے کو جان لیتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں تو اسے قبول کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسی شے کو قبول کرنے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم عین بہ عین وہی کچھ کرنے لگ جاتے ہیں جیسے دوسرے لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔  قبولیت کا مطلب  صرف اتنا ہے  کہ دوسروں کے نظریات کا احترام کرنا اور انہیں ان کی مذہبی و سماجی  رسومات کی بجا آواری کے لیے سپیس دینا۔  اس لیے محرم کے جلسوں پر پابندی کا مطالبہ نہ صرف مبنی بر جہل ہے بلکہ بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بھی سم ِ قاتل ثابت  ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی اس بات کوسمجھ جائے تو کیا ہی اچھا  ہے اور اگر نہ سمجھے تو بھی  ہم  خاک نشین لفظوں کے تیشے  عصبیتوں کے بتوں پر گراتے رہیں گے، ہم چاک گریباں والے نوحہ گری کرتے رہیں گے کہ یہی اپنا کام ہے۔ بقول امجد اسلام امجدؔ،
میں ہوش والوں کی بدحواسی کانوحہ گر ہوں
حُسین،میں اپنےساتھیوں کی سیہ لباسی کانوحہ گر ہوں
ہمارےآگےبھی کربلاہے،ہمارےپیچھےبھی کربلاہے
حُسین،میں اپنےکارواں کی جہت شناسی کانوحہ گر ہوں

Views All Time
Views All Time
966
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آم - پھلوں کا بادشاہ | رانا اعجاز حسین چوہان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: