Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قندیلیں مرتی رہیں گی

by جولائی 17, 2016 بلاگ
قندیلیں مرتی رہیں گی
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafصرف 14 سال کی عمر میں مجھ سے دو گنی عمر کے لڑکے سے شادی کر دی گئی۔ شوہر کی مار اور پیٹ کی بھوک بے حد تھی کبھی کھانے کو ملے یا نہ ملے پر مار بلاناغہ.پڑتی تھی اس بات پر میرے چھ بھایئوں میں سے کسی کی کبھی غیرت نہ جاگی کیونکہ مارنے والے نے مجھے اللہ کے نام پہ حاصل کیا تھا۔ میں ایسے دیس کی باسی ہوں جہاں عورت اگر مار کھا کھا کے مر جائے تو کسی کو مسئلہ نہیں ہوتا پر اگر ماں باپ یا بہن بھائیوں کو اپنے مسائل بتاؤں تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے اور قصور وار بھی میں ہی ٹہرتی ہوں.
اس شوہر کو کیا چھوڑا کہ سگے رشتے جان کے دشمن بن گئے۔
دنیا کی آسائشوں پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مریم نواز اور بختاور بھٹو کا.
میرے علاقے کی عورت کو مرد غلام بنا کے رکھتا ہے. اور اگرعورت باشعور اور پڑھی لکھی ہے تو اسے ہر وقت مرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
میرے قاتل میرے بے غیرت بھائی بھی ہیں جن کو جب تک کھلاتی رہی ان کی غیرت سوئی رہی. میرا قاتل قوی بھی جو اپنے مزے کی خاطر مجھے ابھارتا رہا۔
میرا قاتل سہیل وڑائچ بھی ہے جس نے اپنے پروگرام کی شہرت کے لیے گھٹیا سوالات کیے. میرا قاتل مبشر لقمان بھی ہے جس نے اپنے چینل کی ریٹنگ کےلیے دو گھنٹے کا پروگرام کیا. میرے قاتل وہ تمام ٹی وی چینلز ہیں جو اپنی اپنی مشہوری کے لئے میرے بارے ہر طرح کی خبر دینا اپنا فرضِ عین سمجھتے تھے۔ میرے قاتل وہ تمام لوگ بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر میرے فالوورز تھے۔ میرے پیج پر بار بار آتے تھے اس امید پر کہ شائد کوئی نئی ویڈیو یا نئی تصویر لگائی ہو میں‌نے. میری ہر ویڈیو کو دیکھ دیکھ کر’چسکے’ لیتے تھے اور دوستوں کے بھی بتاتے تھے. اور آج میرے قتل کے بعد دھڑلے سے اپنی غیرت پر جھوٹا پردہ ڈال کر فیس بک پر شور مچا رہے ہیں کہ بے حیائی کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ خس کم جہاں‌پاک جیسے مقولے میرے لئے استعمال کر رہے ہیں.
میں ‘قندیل بلوچ’ اپنی قاتل خود ہوں کیونکہ میں نے خواب دیکھے اور ان کی تعبیر چاہی۔
ایک التجا معاشرے سے۔
اپنی بیٹیوں کو انسان سمجھیئے
اپنی بیٹیوں کو بھی جینے کا حق دیجئے۔
تب غیرت کہاں ہوتی ہے جب شوہر مارتا ہے
جب گلیوں میں دھکے کھاتی ہوں
جب بھوک میرے گھر میں بھوک ناچتی ہے۔
بس یہ بتادو کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ اپنی بیٹیاں غیرت کے نام پر مار دو۔ میرے اعمال میں جانوں اور میرا خدا جانے. ہم بیٹیاں پیدا بھی ہوتی رہیں گی، قربانیاں بھی دیتی رہیں گی
اور غیرت کے نام پر مرتی بھی رہیں گی
کیونکہ
ہم بینظیرہیں
ہم سبین محمود ہیں…
ہم قندیل بلوچ ہیں
ہماری قسمت تو دیکھو اپنے ہاتھ سے قندلیں بجھاتے ہو اور پھر ہماری یاد میں موم بتیاں جلاتے ہو…
قندیلیں مرتی رہیں گی…

Views All Time
Views All Time
1149
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. ماشا اللّہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: