Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قندیل بلوچ: پس آئینہ کوئی اور ہے

by جولائی 31, 2016 کالم
قندیل بلوچ: پس آئینہ کوئی اور ہے
Print Friendly, PDF & Email

Humaira Naqviکافی دن ہو گئے کچھ لکھنا چاہ رہی تھی لیکن الفاظ نہیں مل رہے تھے یا شاید اتنا حوصلہ نہیں تھا ہمارے ہاں ایک ٹیبو سمجھے جانے والے موضوع پر بات کرنے کا۔ وہ بہت عام سا دن تھا جب معمول کی مصروفیت کے دوران میری نظر سے ایک خبر گزری کہ
ٰٰ وہ شادی شُدہ ہے اور اس کا ایک سات سالہ بچہ بھی ہے۔ٰ
یہ کوئی زیادہ متوجہ کرنے والی خبر نہ تھی ۔ ۔ ۔ شاید میں یہ خبر پڑھ کے آگے بڑھ جاتی اگر میری نظر اس کی ایک پرانی تصویر پر نہ پڑتی۔۔۔ نیلی قمیض، لال شلوار اور سفید اور گلابی دھاری دار دوپٹے میں لپٹا ہوا اس کا چہرہ ـــــ کیا یہ وہی قندیل ہے جو سٹرپ ڈانس کی آفر دیتی ہے؟؟ جو نصف عُریاں تصاویر اور وڈیوز بنا کر برقی دُنیا میں ہلچل مچا دیتی ہے؟؟
چلو بات کا رُخ بدل دیتی ہوں۔۔۔ کیا یہ دوپٹے میں لپٹا سراپا یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک دن اسے صرف دوپٹا اتار کے وہ عروج ملے گا جس کے سہانے خواب اس کی آنکھوں میں سجے ہیں ؟؟
جس دوسری چیز نے مجھے چونکا دیا وہ اُس لڑکی کا انداز تھا۔ وہ اس ماحول میں موجود ہو کر بھی وہاں کی نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے نصف بازو،دوپٹہ کرنے کا انداز ، اس کا کھڑے ہونے کا انداز اس تصویر میں موجود باقی دونوں انسانوں سے ازحد مختلف تھا۔ تصویر میں اس کا شوہر اور شاید اس کی ساس تھی۔ تصویر تک میں وہ ان سے گھلی ملی نہ تھی تو کون کہے گا کہ یہ اس کی محبت کی شادی تھی؟ کم از کم میں تو نہیں کہہ سکتی۔۔۔
اس تصویر سے میرے تجسس نے جنم لیا جس نے مجھے پوری خبر پڑھنے پر اُکسایا اور پھر میں پڑھتی چلی گئی۔ ایک سے دوسرا اور تیسرا کالم۔ بہت ساری باتیں،اس کی تصاویر، وڈیوز، تبصرے اور بےشمار من گھڑت کہانیاں۔۔۔ اور وہیں کہیں مجھے معلوم پڑا کہ وہ گھر سے بغاوت کر کے دارالامان بھی رہی تھی۔۔۔ بس۔۔۔
کہانی آگے بڑھتی رہی، لنک کھلتے رہے ، کالم بد لتے رہے، میں پڑھتی بھی رہی لیکن نہیں ـــ میری نظریں پڑھتی رہیں لیکن میرا ذہن تو وہیں کہیں رُک گیا تھاــــ دارلامان۔۔۔۔
دارلامان سے میرا رشتہ اتنا نیا نہیں ہے۔ سات سالہ پرانہ تعلق ہے میرا اس امان گھر سے لیکن اس کا ذکر پھر کبھی۔۔۔۔
اس ایک نام نے میرے ذہن میں بہت سے سوال پیدا کر دیئے۔ بہت سے زاویئے عیاں ہونے لگے۔ قندیل کی سیلفیاں، ویڈیوز،عمران خان، مفتی قوی۔۔۔۔ سب کہیں بہت پیچھے رہ گئے تھےاور میرے سامنے ایک نیلے کُرتے، لال شلوار اور سفید گلابی دھاری دار دوپٹے میں لپٹی ایک لڑکی آ گئی جو دارلامان کے ایک کمرے میں بہت سی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میرے سیشن میں آئی ہوئی ہے۔ بہت سی لڑکیاں ہیں جو معصوم سی آنکھوں میں ہزاروں خواب سجائےوہاں آئی بیٹھی ہیں اور ہر ایک نظر مجھے یہی کہہ رہی ہے کہ آپ ٹھیک کہتی ہیں جو بھی کہتی ہیں لیکن "وہ” نہیں ہے، وہ بہت مختلف ہے، وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کے نہیں جائے گا۔ میں ہر دفعہ کی طرح چُپ ہو جاتی ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ میرے پاس دو گھنٹے ہوتے ہیں ان بیس ذہنوں کو سمجھانے کو اور اُن کے پاس دو سالہ پرانا تعلق ہوتا ہے میری بات کو رد کرنے کو۔ قندیل بھی مجھ سے یہی کہتی ہے کہ میں اُن کے لئے بنی ہی نہیں، میں تو اُڑنا چاہتی ہوں اور وہ لوگ مجھے قید کرنا چاہتے ہیں۔ میں سمجھاتی ہوں کہ بیٹا جو دُنیا باہر نظر آرہی ہے وہ حقیقت میں بہت بھیانک ہے مگر وہ تو ماننےکو تیار ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے مادھوری، کرینہ، کترینہ کی فلمیں دیکھ رکھی ہیں۔ وہاں سب ایسا ہی ہوتا ہے۔ چاردیواری کی قید سے نکلے گی تو ریما اور صائمہ سے اچھی ہیروئن بنے گی۔ انسان کی نظر اس کی منزل پر ہو تو رستے کی رکاوٹوں اور مشکلوں پر دھیان نہیں جاتا خواہ وہ رکاوٹیں کبھی اسے مقصد تک پہنچنے ہی نہ دیں۔
مجھے لوگوں کے تجربات کا تو پتا نہیں لیکن میں نے اس تمام عرصے میں دارلامان کی جتنی بھی لڑکیوں سے ملاقات کی ہے ان میں سے70 ٪ وہ تھیں جو محبت کے معاملے میں اپنے محبوب سے وفا کرنے کو گھر سے نکلی تھیں لیکن محبوب کی پسلی میں اتنی جان نہ تھی کہ ان کا بوجھ اُٹھا پاتا لہذا بیچ منجھدھار(کسی بس سٹینڈ یا کسی پارک میں) چھوڑ کے رفوچکرہو گیا۔ اب ان کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں سو کسی خضرنامعلوم کی منتظر ہیں۔ 5٪ ایسی ہیں جن کا محبوب تو پہلے والا جیسا ہے لیکن وہ خود ہار نہیں مان رہیں اور اب بھی اسی کے پاس جانا چاہتی ہیں سو ابھی تک لڑ رہی ہیں۔
20٪ ایسی ہیں جو محبوب کی حُب کا نشانہ بن بن کر تھک گئیں تو ایک دفعہ پھر دارلامان کا رُخ کیا تاکہ محبوب سے نجات حاصل کر سکیں اور اپنی زندگی کو کوئی رُخ دے سکیں۔ باقی 4٪ وہ ہیں جو اب ایک محبوب سے نجات چاہتی ہیں کیونکہ ایک اور محبت کرنے والا ان کو وہ سب کچھ دینے کا وعدہ کر رہا ہے جو پہلے نے وفا نہ کیے۔ بقایا 1٪ وہ ہیں جن کا محبوب حقیقتاَ محبوب ہے۔۔۔! میرے تجربے کے مطابق قندیل 20٪ کی کیٹگری میں آتی ہے کیونکہ وہ اُڑنا چاہتی ہے۔۔۔!!
میرا ذہن آگے کا سفر نہیں کر پا رہا تھا۔ دارالامان سے بنا سہارے کے وہ کیسے نکلی ہو گی وہ؟ نکل کے کہاں گئی ہو گی؟ کہاں کہاں رُلتی رہی ہو گی؟ مجھے رابعہ کی کہانی یاد آ رہی ہے۔ اکیلے سب ممکن ہی نہیں۔ فوزیہ عظیم سے قندیل بلوچ تک کا سفر اس نے کیونکر اور کیسے کیا؟ ایک پورا دن میں ہاتھ میں قلم اُٹھائے یہ سب اور شاید اور بہت کچھ لکھنا چاہ رہی تھی لیکن لکھ نا پائی اور دوسرے دن اچانک اک اور خبر پڑھنے کو ملی ـــ قندیل بلوچ کا قتل۔۔۔!!
دماغ مکمل ماؤف ہو چکا تھا۔ میں تو ابھی اس کے گھر چھوڑنے کا سبب سوچ رہی تھی اور وہ دُنیا ہی چھوڑ گئی تھی۔ اتنی مختصر زندگی میں اس قدر طوفان مچا گئی تھی وہ دھان پان سی لڑکی۔ اس عمر میں تو لڑکیاں کاکروچ سے ڈرتی ہیں اور اس نے اژدھوں سے بیر پال لیا تھا۔ اب ایسی صورتحل میں کہ جب اس نے جو اتنے "معزز” لوگوں کی "غیرت” کو "قتل ” کر دیا تھا تو "بنامِ غیرت قتل ” تو بنتا تھا نا۔ عیسیٰ سے پوچھا گیا کہ "زانی” ہے تو کیا سنگسار کر دیں تو وہ بولے "کرو۔۔ لیکن پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو۔” سو میرا فقط ایک ہی سوال ہے کہ گلہ دبانے والا کیا وضو سے تھا؟
ایک دفعہ پھر سے میں نے بہت سے کالم پڑھے۔ تمام لنک کھولے۔ منطر مکمل بدل چکا تھا۔ ایک دن پرانا میڈیا جو اسے اپنے پروگرام میں بلا کے چٹخارے لے رہا تھا آج اس کی موت پر بین کر رہا تھا۔ ایک دن پرانے قارئین جو اس کے بیوقوفانہ سٹیٹس انجوائے کر رہے تھے آج اس کے بےدردانہ قتل پر لفظی آنسو بہا رہے تھے۔ ایک انگریزی اخبار کو دیا گیا اس کا کچھ دن پہلے کا انٹرویو پڑھا۔ بہت سی گرہیں کھل گئیں۔ قندیل حقیقتا ان 20٪ میں سے تھی جودنیا کو آزما چکی ہے اب اکیلے آگے بڑھنا چاھتی ہے۔ پگلی یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک محبوب کی "حُب” برداشت کر لینا اتنے بہت ساروں کی بے تحاشا "محبتوں” سے بہتر تھا۔ کچھ باتیں اس نے کیں اورمجھے بہت سارے جواب ملے۔ وہ بس ہوسٹس بھی بنی، سیلز گرل بھی بنی، بی-اے بھی کیا۔ اور پھر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے نواحی گاؤں سے بھڑکنے والی چنگاری اب مکمل لو دے رہی تھی۔ قندیل بن چکی تھی وہ۔ لیکن عجیب یہ ہوا کہ بہت سی دوسری قندیلوں کے بر عکس اس کے اندر کی فوزیہ زندہ تھی۔ بےوقوف، ضدی، جلدباز فوزیہ۔۔ اس کی باتوں میں وہ فوزیہ صاف دیکھی جا سکتی تھی جو ابھی بھی محبت پر یقین رکھتی تھی اور رشتوں کو قیمتی سمجھتی تھی۔ چھ سال پہلے اپنے خواب پورے کرنے کے لئے ماں باپ کو چھوڑنے والی فوزیہ آج اپنے ماں باپ کی امید تھی۔
"وہ میری بیٹی نہیں ـــــ میرا بیٹا تھا”
اب یہ تو وہ "بیٹا” ہی جانتا تھا کہ یہ سفر کتنا کٹھن تھا۔ کاش یہ احساس اس باپ کو تب ہو جاتا جب اس کی زبردستی شادی کروائی گئی تھی یا پھر تب جب وہ اس شادی کو ختم کرنا چاہتی تھی یا پھر جب وہ مظفرگڑھ اور ملتان کے دارالامان میں رہنے پر مجبور ہوئی تھی۔ کاش تب ہی جان جاتے جب وہ محنت مزدوری کر رہی تھی، جب وہ رُل رہی تھی۔۔کاش۔۔۔۔ تو یہ قندیل نہ جلتی جس کو بجھانے کو تمام شرفاء ایکٹو ہو گئے تھے۔ پھر وہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب "سرِعام” تو نہیں ہو سکتا۔ آخر بازار کس لئے بنے ہیں۔ بھئی وہیں رہو، شرفاء کی دنیا میں تمہارا کیا کام۔ جس کو تم سے کام ہوا وہ خود تمہارے پاس آجائے گا۔ اب بھلا ہونٹوں کو گول گول کر کے شرفاء کو اکسانے کی کیا ضرورت تھی۔
لیکن فوزیہ تو کچھ اور مقصد لے کر آئی تھی۔ دولت، شہرت، نام، گلیمر۔ یہ خواب تھے اس کے۔ اکسانا،بھڑکانا تو اس نے انہی معزز لوگوں سے سیکھا تھا۔ اس کے خواب غلط نہیں تھے ان کو پورا کرنے کا طریقہ غلط تھا اور یہ طریقہ اپنانے پر اسے انہی لوگوں نے مجبور کیا تھا۔ ارے وہ تو تمہاری ہی نظروں کی تسکین کا سامان کر رہی تھی اور تم نے اسی کی جان لے لی۔ ایک کالم میں بہت درست بات پڑھی تھی "صاحب ــــ ہمارےہاں بد کردار عورت وہ ہی جو ہمارے علاوہ ہر کسی سے ہنس کے بات کرے۔۔ قندیل نے بھی یہی کیا ہو گا”
وہ جلدباز تھی اور اسی باعث بہت جلد ہر طرف دکھائی اور سنائی دینے لگی۔ لیکن ہم ٹھہرے اسلامی جمہوریہ کے "مسلّم ایمان”، ہم تو مانتے ہیں کہ عبادت بھی چھپ کے کرنی چاہیئے ورنہ ثواب کم ہو جاتا ہے۔ ہم نے تو مکمل رازداری سے "چاند دیکھنا چاہا تھا” اور وہ ہمیں ہی تارے دکھانے کے درپے تھی۔ قندیل پر قوّی ہونا اب ضروری ہو گیا تھا۔ لہذا اس چاند تاروں کے کھیل میں قندیل نے تو بجھنا ہی تھا اورـــ قندیل بجھ گئی۔۔۔
چاند دیکھنے والے اب بھی تاروں بھری راتوں میں چاند دیکھ رہے ہوں گے۔ کسی کا کچھ نہیں بگڑا۔ بگڑا ہے تو صرف ان ضعیف ماں باپ کا جنھوں نے اپنے بیٹے کو بہت دیر میں پہچانا۔ اتنی دیر سے کہ ان کا نومولود سہارا انہی کے اپنے بڑے بیٹے کی غیرت کا نشانہ بن گیا۔

Views All Time
Views All Time
1200
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مسیحا کی موت-عائشہ خانم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: