Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تھا جس کا ڈر ۔ ۔ ۔ وہ شہکار ہونے کو ہے | قمرالزمان بھٹی

by September 17, 2017 کالم
تھا جس کا ڈر ۔ ۔ ۔ وہ شہکار ہونے کو ہے | قمرالزمان بھٹی

لیجے قارئین، این اے 120 کے الیکشن کا نتیجہ اس کالم کی اشاعت تک آنے کو ہوگا۔ 28 جولائی کو وزیراعظم کی نااہلی کے عدالتی فیصلے سے قبل میں نے اپنے پے در پے شائع ہونے والےتین مختلف کالموں میں کھل کر اس امر کا اظہار کر دیا تھا کہ اب میاں نواز شریف کا کٹھن دور شروع ہونے کو ہے۔ 1983 میں جنرل ضیاء الحق کے رفیق خاص اور گورنر پنجاب جنرل جیلانی کی نظر کرم سے پنجاب کے وزیر خزانہ بننے والےمیاں محمد نواز شریف اکتوبر 1999 تک بلا شرکت غیرے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بنے رہے، اس دوران 1985 میں جہاں انہیں پنجاب کی پگ وزارت اعلی کی شکل میں پہنائی گئی وہیں اسٹیبلشمنٹ کے اس ہونہار کھلاڑی نے 1988 میں بڑے ہی خوبصرت انداز میں اپنی ہی پارٹی کے معزول کیے جانے والے وزیراعظم محمد خان جونیجو کے ساتھ کمال کا ہاتھ کیا کہ پنجاب میں نگران وزیراعلی تک بن گئے۔ میاں نواز شتریف کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ 1988 کے الیکشن میں آئی جے آئی کے سربراہ ویسے تو غلام مصطفی جتوئی بنے تھے لیکن وہ بیچارے سندھ سے الیکشن ہار گئے۔ ایسے میں وفاق میں بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں تو پنجاب میں چھانگا مانگا آپریشن کے ذریعے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے میاں نواز شریف کو کھل کر یہ موقع فراہم کیا کہ وہ آزاد امیدواروں کو اکٹھا کر کے اپنی وزارت اعلی کی راہ ہمراہ کر سکیں۔ یاد رہے کہ 88ء میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن تین روز کے وقفے سے ہوئے تھے اس لئے پہلے قومی اسمبلی کے الیکشن میں پنجاب کی 105 نشتوں میں سے پیپلز پارٹی نے 52 نشتوں پر کامیابی حاصل کی مگر تین دن بعد صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں قومی اسمبلی کے الیکشن ٹرینڈ کے برعکس پیپلز پارٹی کی نشتیں بڑھنے کی بجائے کچھ کم غالباً 94 رہ گئیں اور آئی جےآئی جو مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں پر مشتمل اتحاد تھا اس کی نشیشتں زیادہ ہوگئیں لیکن سادہ اکثریت کسی کے پاس نہ تھی۔ ایسے میں آزاد امیدواروں کو توڑنے کے لئے چھانگا مانگا آپریشن کیا گیا جس کا نتیجہ نواز شریف کی وزارت اعلی کی صورت میں نکلا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت قومی اسمبلی کے الیکشن میں واضح شکست کے بعد اگلے تین روز میں اچانک جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ کے انقلابی نعرے سے لے کر چھانگا مانگا آپریشن تک سب کے پیچھے اسٹیبشلمیٹ پیش پیش تھی۔ اس تمام صورتحال کا ایک بڑا ثبوت اصغر خان کیس ہے جو ابھی تک پاکستان کی اعلی عدلیہ میں پڑا فیصلے کا منتظر ہے۔ یہ بھی اسی دور کاخاصا اور اسٹیبلشمنٹ کا نواز شریف پر خاص دستِ شفقت تھا کہ غلام مصطفی جتوئی، محمد خان جونیجو، قاضی حسین احمد اور دوسرے قد آور لیڈروں کی موجودگی میں انہیں پنجاب کے وزیراعلی کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت کے خلاف کھڑا کیا گیا، وفاق پنجاب تنازعہ ایجاد ہوا اور اسے اتنی ہوا دی گئی کہ میاں نواز شریف حقیقی اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے، پھر 1990 کے الیکشن میں کامیابی پر انہیں وزیراعظم پاکستان بھی بنوا دیا گیا۔ قصہ مختصر اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت تک نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی لاتعداد مہربانیوں کے مرہون منت رہے ہیں۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے سخت ترین دور میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا اسی لئے تو ایک سزا یافتہ وزیراعظم کو اڈیالہ جیل کی کال کوٹھری سے نکال کر سرور محل میں منتقل کر دیا گیا،  دس سال کی طے شدہ جلاوطنی کی مدت بھی کم ہو کر سات سال رہ گئی اور پھر انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے فوری بعد ہی پاکستان آنے اجازت مل گئی۔ اس کے بعد ان کی جماعت کو پنجاب میں وزارت اعلی ملی اور وفاق میں مضبوط اپوزیشن، جبکہ 2013 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر ان پر کھل کر ایسے اعتماد کیا کہ مرکز اور پنجاب میں دو تہائی اکثریت تک دی گئی مگر اس دوارن پچھلے چار سال میں میاں نواز شریف نے جس طرح بعض ایشوز پر گرفت کے چکر میں اسٹیبلشمنت کو ناراض کیاہے اس تناظر میں مجھے ڈر ہے کہ یہ شائد آخری موقع تھا جو نواز شریف نے کھو دیا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ نواز شریف نے کرپشن کی ہے اور بڑا مال پیسہ بنایا ہے کیونکہ یہ معاملہ تو اس وقت سے عوامی حلقوں میں زبان زد عام رہا ہے جب 1983 میں ان کے پنجاب کے وزیر خزانہ بنتے ہی قومیائی گئی اتفاق فونڈری کو واپس شریف خاندان کی ملکیت میں دیا گی۔ اس کے بعد قومی بینکوں سے قرضوں سے لے کر رائیونڈ محل تک اور شوگر ملوں سے لے کر دیگر کاروباری معاملات سب کچھ اسی اسٹیبلشمنٹ کی ناک کے نیچے ہوتا رہا ہے۔ اصل معاملات اس وقت خراب ہوئے جب بعض خارجہ اور داخلی امور پر خاص طور پر پاک بھارت تعلقات سمیت دہشت گردی کے مسئلے پر میاں نواز شریف کے قریبی حلقوں نے انہیں ایک طاقت ور وزیراعظم کے طور پر اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ کھچڑی اگرچہ پچھلے دو تین سال سے پک رہی تھی اور چودھری نثار علی خان نے پہلی مزاحمت کے طور پر اس بم کو لات مارنے سے بچنے کے بارہا مشورے بھی دیئے، خود میاں شہباز شریف نے بھی اس حوالے سے کئی بار معاملات سدھارنے کی کوشش کی لیکن ڈان لیکس نے اس معاملے کو منطقی ٹچ دے دیا۔

میں نے پچھلے کالمز میں دو تین باتوں کی نشاندہی کی تھی کہ ایک تو نواز شریف کو سزا ہونے جا رہی ہے اس لئے صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے میاں نواز شریف وزارت عظمی کا قلمدان چودھری نثار کو دے کر بہت کچھ بچا سکتے ہیں کئی معاملات سیدھے کیے جا سکتے ہیں دوسرا اس سے پارٹی بھی ٹوٹ پھوٹ سے بچ جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب ضمنی الیکشن سے قبل سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کیا ہے تو اس کا نقصان نون لیگ کی امیدوار کو ہو گا۔ ان حالات  میں الیکشن سے ایک روز قبل شریف فیملی میں اختلافات کی خبروں کا عوامی سطح پر سامنے آنا بھی نون لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے لئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں۔ حمزہ شہباز اور نوازشریف کی لاڈلی صاحبزادی مریم نواز کی پہلے ہی آپس میں نہیں بنتی اور ایسے میں کیپٹن صفدر کی حمزہ شہباز کے یوتھ ونگ کے کارکنوں کے ساتھ منہ ماری اور جھگڑے نے تنازعے کو خطرناک شکل دےدی ہے۔ کہا یہی جا رہا ہے کہ اس حلقے میں اگر کلثوم نواز جیتیں تو ان کی فتح کا مارجن بہت کم ہوگا، یعنی گزشتہ الیکشن میں یہ 39 ہزار تھا تو اس الیکشن میں یہ فرق چند ہزار تک محدود ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے نزدیک ایسی جیت آئندہ 2018 کے الیکشن میں نون لیگ کی ہار کا واضح پیغام ہو گی یعنی بقول شہباز شریف، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ رہی بات مسلم لیگ نون میں ٹوٹ پھوٹ کی، جس کے اشارے چودھری نثار بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں دے رہےہیں اس پر پھر کسی کالم میں تفیصل سے بات کریں گے۔ قصہ مختصر شریف فیملی کا پاکستان کی سیاست میں کردار اب ختم ہو چکا ہے اور لگتا یہی ہے کہ کچھ ہی دنوں میں مریم نواز بھی والدہ کی عیادت کو بیرون ملک یاترا کے لئے تیار ہیں۔

mm
قمرالزمان بھٹی ایک تجربہ کار صحافی ہیں اور صحافتی آزادی اور حقوق کی جنگ لڑنے کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستگی کے ساتھ لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے مسلسل تین سال رکن اور پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ سرمایہ دار طبقے، طبقاتی نظام اور ان کے نمائندوں ک خلاف کھل کر لکھتے ہیں۔
مرتبہ پڑھا گیا
169مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: