مادھو لعل ؒ کےشہر سے سندھ کنارے تک – قمر عباس اعوان

Print Friendly, PDF & Email

qamar abbas awan"ملک جی اگلے توں اگلے ہفتے والے دن چھٹی کر سکدے او دفتر توں”؟(ملک جی! اگلے ہفتے کے بعد آنے والے ہفتے کو دفتر سے چھٹی لے سکتے ہو؟) مرشدی حیدر جاوید سید کی کال ریسیو کی تو انہوں نے استفسار کیا۔ میں نے فوراََ پوچھا کہ خیریت؟ کیونکہ ابھی پچھلے ہی ہفتے تو ہم دونوں ساتھ تھے تقریباََ سارا دن۔ مرشد فرمانے لگے "میں نے ملتان جانا ہے۔اور رضوان گورمانی نے کوٹ ادو آنے کی دعوت دی ہے۔ اور ساتھ ہی تمہیں بھی لانے کا کہا ہے۔ اور میں وعدہ کر بیٹھا ہوں کہ قمر بھی میرے ساتھ ہی آئے گا”۔ میں نے کہا” مرشد!جب آپ وعدہ کر چکے ہیں تو پھر میرے پاس چھٹی کر کے آپ کے ساتھ جانے کے علاوہ تو کوئی راستہ ہی نہیں بچتا۔ اس لئے میری طرف سے ہاں ہی ہے کہ میں آپ کے ساتھ کوٹ ادو جا رہا ہوں”۔ اس سے اگلے دن فیصلہ ہواکہ بجائے اس کے کہ ہم دن میں بس سے سفر کریں جمعہ کی رات کو بذریعہ ٹرین روانہ ہونا چاہیے۔ اور میری ڈیوٹی لگا دی گئی کہ ٹرین کی ٹکٹ بک کروا لو۔ٹکٹ بک کرواتے بھی اچھا خاصا لطیفہ بن گیا۔ میں سمجھا کہ مرشد نے 25 اور 26 نومبر کی درمیانی رات کو روانہ ہونا ہے۔ پہلے تو ٹکٹ بک کروائی کہ 26 کی ٹکٹ بک کردو۔ میرا خیال تھا کہ رات 12 بجے ٹرین چلے گی اور تب تک تاریخ 26 ہو جائے گی، لیکن روانگی کا وقت 11:45دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ٹکٹ غلط بک ہو گئی ہے۔ لہذا اسے فوراََ کینسل کروا کر 25 کی ٹکٹ بک کروائی۔ رات کو جب مرشد کو بتایا کہ 25 کی ٹکٹ بک ہو گئی ہے تو مرشد فرمانے لگے میں نے تو 18 نومبر کا بتایا تھا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ مرشد مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن پھر آخر جب انہوں نے کہا کہ واقعی ٹکٹ 18 کے کروانے ہیں تو اگلے دن پھر سے نئے ٹکٹ بک کروانے اور پرانے کینسل کروانے پڑے۔ کبھی ملتان کی طرف سفر نہیں کیا تھا تو کافی خوشی تھی کہ ایک تو جنوبی پنجاب کی سیر ہو جائے گی اور دوسرا رضوان گورمانی سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔نہ صرف رضوان گورمانی سے بلکہ پروگرام کے مطابق سرائیکی کے بہترین شاعر اصغر گورمانی اور ادیب ڈاکٹر عباس برمانی صاحب سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ اب اتنے شاندار لوگوں سے ملاقات اور اس کے ساتھ ساتھ مرشد حیدر جاوید سید کے ساتھ سفر کرنے کا موقع مل رہا تھا تو میں انکار تو کرنہیں سکتا تھا۔ ابھی پروگرام بن ہی رہا تھا کہ عامر حسینی بھائی کی کال آ گئی۔ اور پوچھنے لگے کہ ہمارا کیا پروگرام ہے۔ پروگرام سن کر کہنے لگے کہ ایسا کرو ناشتہ میرے ساتھ خانیوال کرو پھر آگے چلیں گے۔ لیکن گاڑی کی ٹائمنگ کی وجہ سے بالآخر انہیں اس بات پر راضی ہونا پڑا کہ وہ رات ساڑھے تین بجے ہمیں خانیوال سٹیشن پر ٹرین میں ملیں گے اور ہم ملتان جا کر ہی ناشتہ کریں گے۔(یہ الگ بات ہے کہ ملتان کا ناشتہ ہماری قسمت میں نہ تھا)۔ 18 کی رات میں اور حیدر جاوید سید صاحب اسٹیشن وقت سے کافی پہلے پہنچ گئے۔ ٹرین چلی اور کچھ دیر بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ آرام کرنا چاہیے کہ صبح جب ہم پہنچیں تو تازہ دم ہوں۔ رائیونڈ سٹیشن کے بعد ٹرین کہاں سست ہوئی کہاں رکی ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن ہمارا آرام عامر بھائی کو ایک آنکھ نا بھایا اور ٹرین کے خانیوال پہنچنے سے 45 منٹ پہلے ہی کال کر کے جگا دیا اور فرمانے لگے کہ میں نے اسٹیشن ماسٹر سے پتہ کیا ہے ٹرین اپنے وقت پر آ رہی ہے اور 3:28 پر خانیوال پہنچ جائے گی ( عامر بھائی نیند سے اٹھا کر "تساں ساڈے نال چنگی نئیں سی کیتی”)۔ بالآخر خانیوال پہنچے اور عامر بھائی ٹرین میں آ گئے۔ آتے ہی ملنے ملانے کے بعد میں نے اور شاہ جی نے پہلی پابندی ان پر یہ لگائی کہ ہم لوگ اپنی روٹین کی زندگی سے ہٹ کر انجوائے کرنے کے لئے یہ سفر کر رہے ہیں اس لئے آپ کو ہرگز اجازت نہیں کہ کوٹ ادو پہنچ کر دانشور بن بیٹھیں۔ انہوں نے ہماری یہ بات کافی حد تک مان لی اور اس پر عمل بھی کیا۔ ان کے اس عمل کرنے پر ہمیں تو بہت لطف آیا لیکن ان کی حسِ مزاح ( جی ہاں فیس بک کے ان کے دوستوں کے لیے شائد یہ حیران کن بات ہو کہ حقیقی زندگی میں وہ بالکل بھی اتنے سنجیدہ اور "شدت پسند” نظر نہیں آتے جتنا آپ ان کو فیس بک پر دیکھتے ہیں) کا نشانہ صدیف گیلانی مسلسل اور رضوان گورمانی میچ کے دوران اوور کی تبدیلی کے وقفے کی طرح بار بار بنتے رہے(برائے مہربانی ان لطائف کو سنانے یا لکھنے پر کوئی بھی اصرار نہ کرے ورنہ نتائج کا ذمہ دار ہم بالکل بھی نہیں اگر دل زیادہ ہی مچل رہا ہو تو عامر حسینی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے)۔ ملتان پہنچ کر اب سوچتے رہے کہ صبح ساڑھے چار بجے ناشتہ کہاں کریں۔ اتنی صبح کہاں سے ملے گا ناشتہ۔ اس لئے یہی سوچا کہ ابھی جو گاڑی مل جائے اس میں کوٹ ادوکے لئےروانہ ہو جانا چاہیے۔ ڈیرہ اڈا سے چائے پی اور وہاں سے ہائی ایس میں بیٹھ کر کوٹ ادو روانہ ہو گئے۔ ویگن والے نے راستے میں ہماری سماعتوں کے ساتھ جو زیادتی کی وہ ایک الگ دردناک کہانی ہے۔ خدا خدا کر کے کوٹ ادو جاپہنچے جہاں صبح صبح رضوان گورمانی سفید لٹھے کا سوٹ اور واسکٹ پہنچ کر یوں ہمارے استقبال کے لئے صدیف کے ساتھ آیا ہوا تھا جیسے ہمیں ساتھ لے جا کر اس نے کہیں وزارت کا حلف اٹھانا ہے۔ خیر وہاں سے رضوان کے ڈیرے پر پہنچے اور جاتے ہی اسے کہا کہ بھئی باقی کام بعد میں پہلے چائے کا بندوبست کرو۔ چائے اور ناشتے سے فارغ ہو کر جو ہمارا سونے کا ارادہ تھا وہ عامر حسینی نے اپنی حسِ مزاح سے ایک بار پھر ناکام بنا دیا۔ باتیں جو شروع ہوئیں تو پتہ ہی نہ چلا کہ کب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ باتوں باتوں میں جب کبھی نیند کا غلبہ محسوس بھی ہوا تو عامر حسینی کے بروقت لطیفے نے نیند کو کوسوں دور بھگا دیا۔ تین بجے کے قریب فیصلہ ہوا کہ ہوٹل جا کر آرام کیا جائے۔ مائگرین کی شدت کی وجہ سے میں بھی نیند پوری کرنا چاہ رہا تھا۔ ہوٹل جا کر چائے کا ایک دور چلا اور پھر صدیف اور گورمانی کو شام 6 بجے آنے کی ہدایت کے ساتھ روانہ کیا۔ شام چھ بجے کے قریب دوبارہ جاگے تو طبیعت قدرے بحال ہو چکی تھی۔ فریش ہو کر کچھ دیر پھر باتوں کا دور چلا۔ طے شدہ پروگرام سے انحراف کرتے ہوئے گورمانی اور صدیف کے سوالوں کے جوابات عامر حسینی اور مرشد حیدر جاوید سید نے فلسفیانہ اور سنجیدہ بھی دیئے۔ شام کا کھانا صدیف کے گھر تھا۔ صدیف نے ڈنر کا پرتکلف بندوبست کروا رکھا تھا۔ کھانے کے بعد صدیف نے جب کہا کہ اس کے والد صاحب ہمارے ساتھ ملاقات کو تشریف لا رہے ہیں تو اچانک ہمارے ذہن میں (یہاں ہمارے سے زیادہ مراد عامر حسینی ہیں) ایک سخت گیر وڈیرے کا خاکہ ابھرا ۔ لیکن اتنی نفیس شخصیت سے ملاقات ہوئی کہ جو تھوڑا وقت ان کے ساتھ گزارا بہت مزہ آیا۔ ایک انتہائی پرخلوص، محبت کرنے والے، سیاست پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت اور نرم دل انسان (حالانکہ صدیف کے بیان کیے گئے خاکوں سے ہم سمجھے تھے کہ بہت ہی سخت گیر انسان ہیں)۔ عامر حسینی صاحب نے مزاح کا موقع یہاں بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اور صدیف کو تختہء مشق بنا کر رکھا۔ جس پر ہمیں تو جو لطف آیا سو آیا صدیف کے والد صاحب بھی محظوظ ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ کھانے کے بعد ہوٹل واپسی ہوئی۔ رات دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ پھر صبح کا پروگرام بنا کر صدیف اور گورمانی دونوں رخصت ہوئے اور ہم بھی تھکے ہونے کی وجہ سے جلد ہی نیند کی وادی میں جا پہنچے۔
(اگلے دن کی ملاقات کا احوال اگلی تحریر میں)

Views All Time
Views All Time
823
Views Today
Views Today
1
mm
mm

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: