سخی لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر سرخ دھمال – قمرعباس اعوان

Print Friendly, PDF & Email

جوں ہی گھرکی ہسپتال کی بلڈ ٹیسٹ لیبارٹری سے بلڈ کراس میچ کی رپورٹ لے کر باہر نکلے تو دفعتاََ میری نظر لیبارٹری کے باہر موجود انتظار گاہ میں لگے ٹی وی پر پڑی اور قدم وہیں کے وہیں رک گئے۔ ایک نیوز چینل پر سندھ میں سخی شہباز قلندر ؒ کے دربار میں دھماکے کی خبریں چل رہی تھیں۔ ذہن اچانک سے جھنجھنا اٹھا۔ پانچ دن میں ملک بھر کے مختلف علاقوں میں آٹھ حملے ہوئے۔ کراچی میں میڈیا ہاؤس کی گاڑی پر فائرنگ کر کے اسسٹنٹ کیمرہ مین کا قتل، کراچی میں ہی گھر میں گھس کر باپ بیٹے کو شیعہ ہونے کے جرم میں ٹارگٹ کلنک کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد دھماکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہے۔ وزیرستان ، بلوچستان میں حملے ہوئے پھراس کے بعد لاہور میں اندوہناک واقعہ ہوگیا جس میں دو قابلِ پولیس افسران سمیت 16 افراد شہید ہو گئے۔ ابھی اس کا غم تازہ ہی تھا کہ پشاور میں ججز کی وین پر حملہ ہو گیا۔ اور اسی دن مہمند ایجنسی میں بھی حملہ کیا گیا۔ کل بلوچستان کے ضلع آواران میں فوجی قافلے پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایک کیپٹن سمیت تین فوجی شہید ہوگئے۔ دوسری طرف ڈی آئی خان میں پولیس وین پر فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت پانچ لوگ شہید ہو گئے۔ ان سب سے زیادہ غمناک واقعہ کل رات سیہون شریف میں سخی شہباز قلندر ؒکے مزار پر دھماکہ تھا۔
جمعرات کے دن مزاروں پر معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ یہی حال سخی شہباز قلندرؒ کے مزار پر بھی تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ دربار کے اندر موجود تھے جب خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور 80 بے گناہ لوگوں کو شہیدکر دیا۔دھماکہ شام کے وقت کیا گیا جس وقت مزار کے احاطے میں دھمال ڈالی جا رہی تھی۔ اس وقت مزار پر کافی رش ہوتا ہے۔ اور اسی وقت دہشت گرد نے پھٹ کر دھمال کو سرخ لہو کی دھمال میں تبدیل کردیا۔ ہر طرف خون ہی خون پھیل گیا۔ دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ لیکن ایک ویڈیو دیکھ لینے کے بعد میری ہمت نہ ہو سکی کہ مزید کوئی ویڈیو دیکھ سکوں۔ قیامت کا منظر تھا۔ سخی لعل کے دربار پر ہونے والی دھمال سرخ لہو کی دھمال میں تبدیل ہوچکی تھی۔ ہر طرف خون ، لاشیں اور انسانی اعضاء بکھرے نظر آرہے تھے۔ کم از کم میری ہمت نہ ہوسکی کہ ویڈیو پوری دیکھ سکوں ۔
دھماکے کے فوراََ بعد سوشل میڈیا سمیت الیکٹرانک میڈیا میں دھماکہ، زخمی، لاشیں، خون، مذمت کا کھیل شروع ہو جاتاہے۔ سوشل میڈیا پر تو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے چمونوں کا ڈھیر بھی موجود ہے۔ کچھ کے نزدیک تو شہید ہونے والے 80 افراد اور زخمی ہونے والوں کو دھمال کی شکل میں کی جانے والی بدعت اور شرک کی سزا ملی اور ان کی نظر میں یہ بہت ہی اچھا ہوا۔ دوسری طرف مذمت مذمت کا بھی شور رہا۔ جس تیزی سے یہ مذمت کا لفظ اب ہماری زندگی میں در آیا ہے کہیں مورخ اسے پاکستانی تاریخ کا "قومی لفظ” نہ لکھ دے۔ ہر دھماکے اور حملے کے بعد عوام کو مذمت کا لولی پاپ دے دیا جاتا ہے۔ سیاستدان "ملک حالتِ جنگ میں ہے اور تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے” ہے کا دہائیوں پرانا مرثیہ سنا دیتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے حسبِ معمول "دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اورآخری دہشت گرد کو ختم کرنے تک جنگ جاری رہے گی ” کا وعدہ دہراتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ دہشت گرد ٹوٹی ہوئی کمروں کے ساتھ پہلے سے بھی شدید حملے کرتے ہیں اور یہاں پھر وہی مذمت اور وعدوں کا ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے۔ مجھے پچھلے سال باچا خان یونیورسٹی کے حملے کے وقت لکھی ہوئی کہانی یاد آگئی۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ دھماکہ ہونے کے بعد کوئی بھی اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ۔ سوائے دھماکہ کرنے والی کسی نہ کسی کالعدم تنظیم کے۔
بہت سی تنظیمیں جنہیں دوسرے مسلمان ملکوں میں ہونے والی جنگوں میں مظالم پر رونا آتا ہے اور نوحہ کناں ہوتے ہیں۔ کبھی کشمیر جیسی شہ رگ کے دکھ میں بلبلاتے نظر آتے ہیں اور کبھی "حلب جل رہا ہے” کے دکھ میں اپنے قلب جلاتے پھرتے ہیں وہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر چپ سادھ کر ایک مذمتی بیان دے کر سر ٹانگوں میں دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ واویلا کریں بھی تو کس بنیاد پر ؟ وہی جن کے دوسرے ممالک میں قتلِ عام کے غم میں پاگل ہو جاتے ہیں وہی تو اپنے ملک میں ان واقعات میں ملوث نکلتے ہیں۔ دوسری طرف ایک نجی ٹی وی کے نیوز اینکر کا ٹویٹ نظر سے گزرا جس میں موصوف نے سیہون شریف سے نزدیکی شہروں کا فاصلہ بتا کر فرمایا کہ انہیں بتاؤ کہ سڑکیں کتنی ضروری ہیں۔ مجھے شدید حیرت ہوئی اس سوچ پر کہ دربار تک جانے کے راستے بنانے کی فکر ہے۔ لیکن اتنی سوچ نہیں کہ اس شہر میں ہی اس معیار کے ہسپتال بنائے جائیں اور دوسری سہولیات فراہم کی جائیں کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال کے پیشِ نظر آپ کو دوسرے شہروں سے امداد کے منتظر نہ رہنا پڑے۔سڑکیں بنائیں اور سڑکیں بنانے والوں کی حمایت میں ایسے ٹویٹس بھی کریں لیکن جہاں تک سڑکیں پہنچانی ہیں وہاں بھی ایسی سہولیات مہیا کریں جن کی وجہ سے ایسی واقعات میں آپ کو سڑکیں یاد آتی ہیں۔
ملک میں پچھلے 5 دنوں میں ہونے والے پے در پے آٹھ حملوں میں اب تک 112 افراد شہید ہوچکے ہیں اور 326 افراد زخمی۔ ان دھماکوں نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر پہلے سے موجود سوالیہ نشانوںمیں مزید سوالیہ نشانوں کا اضافہ کر دیا ہے۔ دھماکے کے بعد ملک بھر کے مزاروں کو زائرین کے لئے بند کردیا گیا ہے تاوقتیکہ صورتحال پر قابو پا کر سیکیورٹی کلیئرنس نہ ہو جائے۔ سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد سکولوں کو بند کر دیا گیا۔ پھر پچھلے سال دہشت گردوں کے حملوں کی خدشات کی وجہ سے سردی میں شدت کا بہانہ بنا کر سکولوں میں تعطیلات دے دی گئیں۔ اب مزاروں پر دھماکےہونے کے بعد مزاروں کو بند کر دیا گیا ہے۔ بند کردو کا یہ ڈرامہ ایک دن پورا ملک بند کروا دے گا۔ اگر کچھ نہیں بند ہوگا تو وہ کارخانے جن میں یہ دہشت گرد تیار ہو رہے ہیں اور وہاں سے نکل کر جہاں جب دل کرے پھٹ کر بے گناہ لوگوں کو زندگی کی قید سے آزاد کردیتے ہیں۔
بہت سے سوالات ہیں۔ ہر دھماکے کے بعد بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے والا راگ بھی اب کافی پرانا ہوگیا۔ یہ پے درپے دھماکے ہمارے انٹیلی جینس اداروں پر سوالیہ نشان ہیں کہ ان کی قابلیت کیا ہے کہ ایک بندہ افغانستان سے نکلتا ہے۔ سینکڑوں کلو میٹر کا سفر طے کر کے مطلوبہ مقام تک پہنچتا ہے اور پھٹ جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد لے کر اتنا فاصلہ طے کیسے کر لیتا ہے؟ راستے میں آنے والی بے تحاشہ چیک پوسٹ پر اس کی چیکنگ کیوں نہیں ہوتی؟ سہولت کار کے بنا یہ کام ناممکن ہے۔ ان کے سہولت کاروں کو کیا کیا سہولیات دی جاتی ہیں یہ کسی سے چھپی ہوئی بات نہیں۔

Views All Time
Views All Time
886
Views Today
Views Today
1
mm

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   گداگر بچے اور ہماری بورژوا ذہنیت
mm

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: