قلم کار – نور درویش کا بہترین دوست

Print Friendly, PDF & Email

تین برس پہلے میں نے چند دوستوں کے کہنے پر نور درویش کے قلمی نام سے ایک آئی ڈی بنائی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نام میرا گہرا دوست بن گیا، میں جو سوچتا تھا، جو محسوس کرتا تھا اُنہیں آسان الفاظ میں اس دوست سے شئیر کرلیا کرتا تھا۔ پھر اس دوست کی وجہ سے میرے بہت اچھے اچھے دوست بن گئے، مجھے بہت محبت اور عزت ملی یہاں تک کہ نور درویش میری زندگی کا ایک اہم اور قیمتی جزو بن گیا۔ بدقسمتی سے یہ دوست ایک کم ظرف، منافق اور جھوٹے انسان کی دشمنی کی نذر ہوگیا اور میں چاہ کر بھی اسے بچا نہ پایا کہ میرے لئے بڑوں بالخصوص والدہ کا حکم بہرحال ہر چیز پر مقدم ہے۔ کاش "میرے پاس ماں ہے” جیسے جذباتی جملے لکھنے والوں کو دوسروں کی مائیں بھی نظر آتیں۔

میں کم گو انسان ہوں، نور درویش کے ذریعے بولا کرتا تھا، آج میں نور درویش کو آپ سب سے زیادہ یاد کرتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ کسی نئے نام سے لکھنا شروع کردو لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ایک بہترین دوست کا نعم البدل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ بہرحال، ضمیر کی مار بہت ظالم ہوتی ہے اور میں ہر نماز کے بعد دعا کرتا ہوں کہ مکافاتِ عمل کے ساتھ اُسے ضمیر کی مار بھی پڑے جس نے مجھ سے میرا بہترین دوست چھین لیا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ میرا دوست نور درویش ایک دن واپس آئے گا اور جھوٹ، منافقت اور غلط بیانی کا جواب اُسی انداز میں دے گا جو جواب دینے کا حق ہے۔

بہرحال، نور درویش نے جن لوگوں سے میری دوستی کروائی اُن میں ایک دوست ملک قمر عباس بھی تھا۔ دو سال پہلے ملک قمر نے مجھ سے کہا کہ اُسے بہت مایوسی ہوتی ہے جب وہ محنت سے کوئی تحریر لکھتا ہے اور اُسے شائع کرنے کیلئے کسی معروف بلاگ ویب سائٹ کو بھیجتا ہے لیکن کبھی وہ تحریر شائع نہیں ہوتی اور کبھی بہت تاخیر سے شائع ہوتی ہے۔ اس لئے وہ چاہتا ہے کہ بجائے دوسروں کی منت سماجت کرنے کے وہ خود چند دوستوں اور اساتذہ کی رہنمائی میں ایک ویب سائٹ شروع کرے جس پر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں لکھنے کیلئے پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ میں نے دل میں سوچا کہ پہلے ہی اتنی ویب سائٹس موجود ہیں، ایسے میں ملک قمر کی ویب سائٹ کیوں ضروری ہے۔ لیکن ٹھیک کچھ عرصے بعد مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ ویب سائٹ کیوں ضروری تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   سعودی حکام 400 سالہ قدیم تاریخی ثقافتی گاؤں کی مسماری سے باز رہیں

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ایک معروف لبرل ویب سائٹ نے کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ احمد لدھیانوی کا امیج بلڈنگ سے بھرپور انٹرویو شائع کیا تھا اور کچھ محققین نے اُس کے دفاع میں یزید (لع) اور امام حسینؑ کو "ہم سب” میں شامل کردیا تھا، تب یہ ملک قمر کی بنائی ہوئی ویب سائٹ ہی تھی جس نے مجھ سمیت بہت سوں کا موقف شائع کیا تھا۔ موقف تو نور درویش نے اپنی فیس بک وال پر بھی دیا تھا لیکن دیکھ لیں، نور درویش تو مجھ سے بچھڑ گیا لیکن قلم کار پر اُس کا لکھا ہوا موقف آج بھی موجود ہے۔

ملک قمر عباس نے دو سال قبل محترم حیدر جاوید سید کی رہنمائی میں قلم کار کا آغاز کیا تھا اور مجھے بھی "اعزازی” طور پر اپنی ٹیم میں شامل کرلیا تھا۔ میں مصروفیات کی وجہ سے قلم کار کا زیادہ ہاتھ تو نہیں بٹا پاتا تھا لیکن مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ قلم کار کی ٹیم نے کبھی بھی مجھ سے شکوہ نہیں کیا تھا۔ کچھ نہ کرنے کے باوجود میں اس ہنس مکھ فیملی کا حصہ تھا جہاں سب اپنی اپنی سہولت کے ساتھ، کسی قسم کی مقابلہ بازی یا پبلسٹی سٹنٹس سے بے نیاز اپنا کام کرتے رہتے تھے۔ ہاں ایک چیز کا میں شاہد ہوں کہ موصول شدہ تحاریر میں گرامر اور املاء کی غلطیاں درست کرنی ہوں یا تحریر کے متن کی جانچ پڑتال کرنی ہو، یہ تمام کام بہت عرق ریزی سے ہوتے تھے اور مجھے یقین ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس کا کریڈٹ یقینا جناب حیدر جاوید سید اور محترمہ اُمِ رباب صاحبہ کو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سردیاں گلگت بلتستان کی

آج اس وقت جب میں قلم کار کی ٹیم سے رابطے میں نہیں ہوں، مجھے وہ وقت شدت سے یاد آتا ہے جب میں آپ سب کے ساتھ گپ شپ کیا کرتا تھا اور کچھ نہ کرنے کے باوجود آپ کی ٹیم کا حصہ تھا۔

قلم کار کا آغاز ہوئے دو سال گزر چکے اور میری رائے میں یہ اپنی منفرد پہچان قائم کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ مقابلہ بازی اور نمبر گیم کی دوڑ سے دور رہ کر بے نیازی کے ساتھ اپنا کام کرتے جانا ہی قلم کار کی پہچان ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں، فکر رکھتے ہیں اور کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو آئیں، قلم کار آپ کا ہے۔

تحریر کے آغاز میں میں نےجو کچھ لکھا وہ میں کہیں اور نہیں لکھ سکتا تھا، کہاں لکھتا؟ مجھے کون جانتا ہے؟ سب نور درویش کو ہی جانتے ہیں۔ اب نور درویش تو ہے نہیں اس لئے وہاں لکھنے چلا آیا جہاں نور درویش کبھی کبھی لکھا کرتا تھا۔ نور درویش میرا بہترین دوست تھا اور قلم کار نور درویش کا بہترین دوست۔ بس اسی لئے اس دوست کو دوسری سالگرہ کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ، اُس کے سامنے کچھ حالِ دل بھی بیان کردیا۔
سالگرہ مبارک قلم کار۔

Views All Time
Views All Time
834
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: