قلم کار — خواب سے حقیقت تک کا سفر

Print Friendly, PDF & Email

qamar abbas awanقلم کار۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ایک نئے پلیٹ فارم کا خواب تھا جوہم نے دیکھا۔ ان لوگوں کے لیے جو لکھتے تو ہیں لیکن ان کو اپنی تحریروں کو شائع کروانے میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو چند اخبارات و رسائل تھے جن میں اپنی تحریر لگوا لینا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ پھر جوں جوں زمانے نے قدم تیزی سے آگے بڑھائے اخبارات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو گئی۔ لیکن اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے لکھنے والوں کے لیے مزید سہولت یہ ہو گئی کہ بلاگز کی سہولت میسر آ گئی۔ اب لکھاری اپنی تحریریں انٹرنیٹ کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے لگے۔ پھر کچھ نیوز ویب سائٹس نے جنم لیا اور وہاں پر لکھنے والوں کو اپنی تحریریں شائع کروانے کی آسانی مل گئی۔ اس وقت بہت سی ویب سائٹس چل رہی ہیں جو لوگوں کے کالم، مضامین، بلاگ، افسانے شائع کر رہی ہیں۔ لیکن اتنی زیادہ ویب سائٹس ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو گلہ رہتا ہے۔ اکثر لوگوں کی متوازن تحریریں بھی شائع نہیں ہو پاتیں۔ جس کی وجہ ویب سائٹس کے ادارتی پالیسی ہوتی ہے۔ ہمیں خود بھی ان لمحات سے گزرنا پڑا۔ تب میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ کیوں نہ ایسے تمام لکھنے واوں کے لیے ایک ویب سائٹ بنائیں جن کو اکثر پہلے سے موجود ویب سائٹ والے مختلف وجوہات کی بنا پر شائع نہیں کرتے۔ اور بہت سے نئے لکھنے والے اس رویے سے دل برداشتہ ہو کر لکھنے سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔گو کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ کیونکہ پہلے سے اتنی زیادہ ویب سائٹس کی موجودگی میں ایک نئی ویب سائٹ کا اضافہ کرنا تو آسان ہے لیکن اس کو کامیاب بنانا ایک بہت ہی مشکل کام۔ ویب سائٹ بنانے کے خیال کی ایک وجہ میرے دوست کاشف کا مجھے اپنی تحریروں کے لیے بلاگ بنانے کا مشورہ بھی تھا۔ میں نے مشورہ کرنے کے لیے نوجوان کالم نگار رضوان گورمانی کو کال کی اور اسے ساری صورتحال بتائی اور بتایا کہ ہمیں اپنی ویب سائٹ لانچ کرنی چاہیے۔ رضوان نے بھی اپنے ساتھ کی یقین دہانی کروائی۔ بلکہ پی ایف یو سی کے جنرل سیکرٹری صدیف گیلانی کو بھی تیار کہ وہ اس کام میں ہمارے ساتھ آئے۔ دوستوں کی حوصلہ افزائی کو دیکھتے ہوئے ہم نے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی تیاری کی اور معاذ بن محمود سے ویب سائٹ کے بارے میں تبادلہء خیال کیا۔ کیونکہ وہ اس فیلڈ میں اچھا خاصا علم و تجربہ رکھتے ہیں۔ ابتدائی معلومات اور ویب سائٹ کے بارے میں ابتدائی تفصیلات طے کرنے کے بعد نام سوچنا شروع کیا گیا۔ مختلف ناموں میں سے میرا سوچا گیا نام قلم کارQalamkar منتخب کر لیا گیا۔ اور یوں ویب سائٹ کے لیے ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا۔ اس کے بعد ویب سائٹ کو ڈویلپ کروانے کے لیے اورنگ زیب اعوان بھائی کی خدمات لینے کا فیصلہ ہوا۔ ان سے رابطہ کیا اور ویب سائٹ کے بارے میں معلومات دے کر انہیں بنانے کا کام سونپ دیا۔ ساتھ ہی کچھ دوستوں کو بتایا کہ ویب سائٹ بنا رہے ہیں۔ سارے دوستوں نے حوصلہ افزائی کی۔ خاص طور پرمحترمہ امِ رباب، ڈاکٹر زرینہ اشرف، نوجوان شاعرہ سحر بخاری، ذیشان حیدر نقوی، کالم نگار عبدالماجد ملک، بہت ہی پیارے اور منفرد انداز کے شاعر وسیم عباس بھائی، شاعر فرہاد ترابی بھائی، کالم نگارتوقیر ساجد ، سینئر کالم نگار سید انور محمود صاحب، پیاری بہن آمنہ احسن، عامر شہزاد، ہماری ویب سائٹ ٹیم کا حصہ عامر راہداری، تنویر احمد، مزاح نگارزاہد شجاع بٹ،معروف لکھاری انعام رانا، شاہد کاظمی،بہت ہی پیارے بھائی نجم ولی خان کالم نگار، 100 لفظوں کی کہانی کے بے تاج شہنشاہ مبشر علی زیدی بھائی، کری ایٹو رائٹر ثناء بتول، ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کے ہیڈ سینئر صحافی اور ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے منسلک محترم عامر حسینی بھائی اور ہمارے قلم کار کے ایڈیٹرسینئر صحافی اور کالم نگار جناب حیدر جاوید سید۔ اس کے علاوہ بہت سے نام ہیں جنہوں نے نہ صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ ہر ممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کروائی۔ جن کا میں بے حد شکر گزار ہوں۔ شاہد اسد اعوان کا خصوصی شکر گزار ہوں کہ ہماری ویب سائٹ کے لیے لوگو ڈیزائن کیا۔ ان کی خصوصی محبت ہے۔
بالآخر 11 مئی کی شام 3 اور 4 شعبان کی مبارک شب ویب سائٹ کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح سے پہلے ہی دوستوں کی بے شمار تحریریں ہمیں ان باکس اور ای میل کےذریعے مل چکی تھیں۔ویب سائٹ کے لانچ کے بعد دوستوں نے جس طرح ویب سائٹ پر ریسپانس دیا وہ بھی قابلِ شکر ہے۔ اور ہماری توقعات سے بڑھ کر ہے۔ جس کے لیے ہم تمام لکھنے والوں اور ان کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں اور ہماری ویب سائٹ کو دوستوں کے ساتھ شئیر کرنے والوں کے شکر گزار ہیں۔ ہم نے ایک قدم ویب سائٹ کو بنا کر اٹھا لیا ہے۔ اور اب دوستوں سے توقع ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے اور دیتے رہیں گے۔ تاکہ جس مقصد کے تحت ہم نے یہ پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے اس کے احسن طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔اور نئے لکھنے والوں کو کہیں اور جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں استقامت اور دلجمعی سے اس کام کو جاری رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

Views All Time
Views All Time
1119
Views Today
Views Today
1
mm

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   وحشت کی نئی یلغار - ڈاکٹر لال خان
mm

قمرعباس اعوان

پیشے کے لحاظ سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ دوستی کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سوشل ویب سائٹس سے کافی اچھے دوست بنائے جنہیں اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے ہیں۔ قلم کار ان کا خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نےبہت محنت کی ہے۔

2 thoughts on “قلم کار — خواب سے حقیقت تک کا سفر

  • 23/09/2016 at 5:19 شام
    Permalink

    زبردست سائٹ اللہ پاک آپ حامی و ناصر ہر

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: