Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

قلم کار ایک جذبہ، ایک جنون

Print Friendly, PDF & Email

قلم کار کی دوسری سالگرہ ہے۔ دو سال کے اس سفر میں ہم نے بہت پھبتیاں بھی سہیں، کوسنے اور الزامات بھی اور تحسین بھی ہوئی۔ چند ایسے لوگوں کی باتیں اور الزامات بھی سامنے آئے جو اپنا کج اور بغض چھپانے کے لئے دھول اڑانے کا شوق پورا کرتے ہیں۔ قلم کار کے قیام کا مقصد بے نوا زمین زادوں کی ترجمانی تھا۔ صد شکر کے اپنی بساط مطابق یہ حق ادا کرتے آرہے ہیں۔ داخلی و خارجی امور اور بین الاقوامی سیاست اور سامراجی سازشوں کے حوالے سے اپنے فہم مطابق معروضات پیش کرنے کے ساتھ ہم نے کوشش کی کہ تصویر کے دونوں رخ پڑھنے والوں کے سامنے رکھے جائیں۔ پاکستان میں ریاستی اداروں اور لے پالک لشکروں کی جارحیت کا شکار طبقات کے گھاؤ اور دکھ پڑھنے والوں کے سامنے رکھنے پر ہمیں کوئی ملال ہرگزنہیں۔ پسند کا ظالم اور مظلوم پالنے کی بیماری لاحق تھی نہ ہے۔ قلم کار کے قیام کی ضرورت یوں پیش آئی کہ آزاد خیالی کے دعویداروں اور دائیں بازو کے ترجمانوں نے جو یکطرفہ ٹریفک چلا رکھی تھی اس سے بہت سارے حقائق لوگوں کے سامنے نہیں آپاتے تھے۔

قلم کار کے پلیٹ فارم سے دوستوں کے تعاون سے کوشش یہی کی کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے لایا جائے ۔ بجا کہ دوسرا رخ سامنے لانے پر شور بہت مچا ، بالخصوص ہمارے ذاتی عقیدوں پر حرف گیری ہوئی، طعنے ملے۔ مگر ہمارا ضمیر مطمئن ہے کہ ہم نے جو محسوس کیا وہی عرض کیا۔ کتنے کامیاب رہے اور کتنے ناکام اس کا فیصلہ قارئین کر سکتے ہیں۔ مظلوم طبقات کی ہمنوائی پر ظالموں اور ان کے سہولت کاروں کا شوروغل اور الزام تراشی بہر طور پر مانع نہیں ہوئی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ قلم کار کے قافلے میں عامر حسینی، محترمہ ام رباب، محترمہ سیدہ فرح رضوی، حمیرا جبیں بیگ جیسی علم دوست شخصیات کے علاوہ میثم زیدی، شہسوار حسین، نوردرویش، بلال بھٹی، عظمیٰ حسینی جیسے روشن فکر طالب علم اور وقاص اعوان، زہرا تنویر اور مدیحہ نقوی جیسے محبین علم بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   مجبور مرد

ملک قمر عباس اعوان کا نام دانستہ نہیں لکھ رہا۔ ایک وجہ تو وہی ہے کہ یہاں حق دار کو حق کون دیتا ہے اور دوسری یہ کہ وہ برادرِ عزیز ہے۔ اب چھوٹے بھائی کی تعریف لکھتے ہوئے چنگا بھلا بندہ جیلس ہونے لگتا ہے۔ سچ یہی ہے کہ اس قافلے کا روح رواں وہی ہے۔ سیدی صدیف گیلانی کے ہمراہ غریب خانے پر "قلم کار ” کا آئیڈیا لے کر وہی آیا تھا۔ سیدی صدیف گیلانی اپنی تعلیمی مصروفیات اور رضوان گورمانی علاقائی صحافت کے جھمیلوں کی وجہ سے اس سفر میں زیادہ دیر تک ہمسفر نہ رہ سکے مگر ان کی محبتیں اور دعائیں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔

قلم کار ایک جذبہ جنون ہے۔ ملک قمر عباس اعوان کے لئے تو گھر پھونک تماشا دیکھ کے مصداق۔ بہر طور دو سال کے سفر کے بعد ہم جہاں کھڑے ہیں یہ کوئی ہمالیہ کی بلندچوٹی پر جھنڈا لہرانے کا عمل نہیں پھر بھی جو ہوسکا وہ اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ کے بغیر عرض کیا۔ کوشش کریں گے کہ اپنے پڑھنے والوں کو مستقبل میں بھی مایوس نہ کریں۔ ہمارے جو دوست ہم پر ایک مسلک کی ہمنوائی کی پھبتی کستے ہیں اللہ انہیں توفیق دے کہ وہ اپنے مسلک کے زنداں سے باہر نکل کر تازہ ہوا اور خیالات سے معطر ہوں اور بے نوا طبقات کے لئے اگر مگر کے بغیر آواز بلند کریں۔

یہ بھی پڑھئے:   مظلوموں، مظلوموں کے درد کو سمجھو

قلم کار کی دوسری سالگرہ کے موقع پر اس قافلے میں شریک قابل احترام دوستوں ، برادران عزیز اور قابلِ فخر بہنوں کا شکرگزار ہوں۔ دو سال میں ملی کامیابیوں کی وجہ سب کی اجتماعی کوششیں ہیں۔ ناکامی یا مسائل کا واحد ذمہ دار میں ہوں۔ اور اس کے لئے دوستوں، ساتھیوں اور قارئین سے معذرت خواہ بھی ہوں۔ ان شاء اللہ ہم خلوص دل سے کوشش کریں گے کہ آئندہ بھی اپنے پڑھنے والوں کے اعتماد پر پورا اتریں۔ یہاں قلم کار کے لئے ٹیکنیکل مشاورت میں ہمیشہ پیش پیش عزیزم سید میثم زیدی کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر مدد کرتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
229
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: