Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

طوائف

by دسمبر 19, 2017 بلاگ
طوائف
Print Friendly, PDF & Email

ایک وقت تھا 50 ، 60 لوگ روز مجھے کال کرتے تھے ۔ 25 ، 30 لوگ پہلی بیل پر میری کال اٹینڈ کرتے تھے ۔ اس سے بھی زیادہ لوگ میری ہلکی سی مس کال پر بھی فوراً کال کر کے کہتے ۔ جی غوری صاحب

ہوٹلنگ ، مہنگے کھانے، رنگین پارٹیز ، ودیسی فلٹر واٹر ایک اشارے پر اور بنا اشارے کے ہمیشہ میسر تھا ۔
لیکن آج یہ عالم ہے کہ میں اگر 100 لوگوں کو کال کروں اس میں سے 80 لوگ یا تو کال اٹینڈ نہیں کرتے یا پھر بنا کسی مروت یا پُرانے تعلقات کا بھرم نہ رکھتے ہوں پہلی دوسری رینگ پر کال کاٹ دیتے ہیں ۔ بہت سارے تو اب وزیر مشیر ہیں جنہیں میں نے چار سال میں خود ہی فون نہیں کیا ۔ کچھ اینکرز اور بڑے تجزیہ نگار ہوگئے ہیں ۔ نام لکھوں گا تو آپ کو یقین نہیں آئے گا ۔ ایک وقت تھا یہ لوگ آپ کے بھائی کے آگے پیچھے گھومتے تھے ۔ احسان مند ہوا کرتے  کہ میں نے انھیں کال تھی ۔ آج یہ عالم ہے کہ فون اُٹھانا بھی گوارہ نہیں ۔ لیکن بیس فیصد لوگ آج بھی ایسے ہیں جو کم از کم فون ضرور اٹینڈ کرتے ہیں پھر چاہے چار سال بعد ہی کال کیوں نہ کی ہوں ۔

سچ ہے جب انسان کچھ نہیں ہوتا تو مصروف بھی نہیں ہوتا ۔ میرے جیسے لالچ ، تعلقات ، منافقت سے دور لوگ اکثر بُڑھاپے میں اپنے مکینک یا پرچون کی دکان پر کام کرنے والے بیٹے یا پوتے کو بتارہے ہوتے ہیں ۔ وہ فلاں وزیر میرا کلاس فیلو تھا، فلاں افسر ہاسٹل میں میرا روم میٹ تھا ہم چار سال ساتھ رہے ، ملک کا صدر میرے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا، وہ ایک میرا دوست آرمی میں جنرل ہے ہم نے سائیکل چلانا ساتھ سیکھی تھی ۔ ابے جو صدر یا وزیر اعظم بنا پھرتا ہے آج وہ کل تک یہاں فالتو گھومتا رہتا تھا ۔ کرکٹ کا کپتان بنا ہوا ہے کل ہمارے ساتھ اس محلے میں کھیلتا تھا ۔ ہم سب دوستوں میں سب سے بیکار لڑکا آج فلموں میں سپر اسٹار ہے ۔
پہلے تو اپنے ہی بیٹے کو ان باتوں پر یقین نہیں آئے گا ۔ کہ ابا بڑھاپے میں سٹھیاگیا ہے۔ بیڑی چمن کی پیتا ہے باتیں وزیروں جنرلوں سے جان پہچان کی کرتا ہے یقین آ بھی جائے تو سوال ہوگا
ابا جی آپ کے دوست کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور آپ یہاں بیٹھے ہیں ۔ وجہ؟
اس پر میرے جیسا باپ تو یہ جواب دے گا ۔

یہ بھی پڑھئے:   ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے-ممتاز شیریں

جھوٹ والے کہیں کہیں پہنچ گئے اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا ۔

بیٹا جو تمہیں کامیابی نظر آرہی ہے اس کی سیڑھی انسانوں سے بنتی ہے ۔ آپ کو بے حس ہونا پڑتا ہے ۔ انسانوں کو ٹشو کی طرح استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ پیچھے نہیں دیکھنا ہوتا کہ کون مرا ،کون جیا، کس کا دل ٹوٹا ۔ دوسرا ہر عروج کو زوال ہے ۔ یاد رکھنا کوئی بھی کام طوائف کے کام سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا ۔ طوائف جب تک جوان ہوتی ہے اس سے ملنے کے لیے بڑے. سے بڑے لوگ باہر لائن لگا کر کھڑے رہتے ہیں اور جیسے ہی جوانی گئی مطلب کام کی نہیں رہی عشق کے دعویدار افراد اس سے دور ہونے لگتے ہیں ۔ ایک دن ایسا آتا ہے طوائف انھیں خود فون کرکے آنے کا کہے تب بھی وہ نہیں آتے ۔۔۔ یاد رکھنا جو لوگ واقعی کامیاب اور سچ میں بڑے ہوتے ہیں وہ تنہا اور ریس میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جن لوگوں کے آس پاس تم آج عاشقوں خادموں کا ہجوم دیکھتے ہو وہ ہجوم ایک دم غائب ہوجائے گا جس وقت تم ان سے دولت طاقت شہرت چھین لو گے ۔۔۔ ایسے میں لوگوں کا خود غرض ہونا جائز ہے ۔ جب عاشق کسی لالچ میں قریب آتا ہے تو پھر معشوق کا خود غرض ہونا ٹھیک ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   جل" جیون ہے - سعد الرحمٰن ملک"

جانے کیا بات ہے وہ مجھ سے خفا بیٹھا ہے
مجھ میں ایک شخص بغاوت پر تلا بیٹھا ہے
جس پرندے کو کل پرواز سے فرصت نہ تھا
آج تنہا ہے تو دیوار پر آ بیٹھا ہے

 

Views All Time
Views All Time
499
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: