Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عورت – طاقت یا گالی؟

by دسمبر 29, 2017 حاشیے
عورت – طاقت یا گالی؟
Print Friendly, PDF & Email

بلاول عورتوں کی طرح بات کرتا ہے پہلے مرد بنے پھر بات کرے۔ سابق جنرل اور صدر پاکستان جناب پرویز مشرف کا یہ حالیہ بیان ہے۔ میں کئی بار پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ مرد اگر دوسرے مرد کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے عورت کہہ کر مخاطب کرتا ہے حالانکہ بڑے سے بڑا طاقتور مرد عورت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنرل صاحب کو ایسا بیان دینا زیب نہیں دیتا اگر وہ زیادہ نہیں تو صرف دو عورتوں کو ہی یاد فرما لیتے تو انہیں اپنے طاقتور ہونے پر شرمندگی ہوتی۔ ایک فاطمہ جناح جنہوں نے ایوب خان کی آمریت کو للکارا دوسری بے نظیر جنہوں نے پہلے ضیاءالحق اور پھر مشرف کی آمریت کے خلاف اپنی صلاحیت اور قیادت کو منوایا۔ پاکستان میں میرے خیال سے وقت آ گیا ہے کہ کسی عورت کو اگر شرم دلوانی ہو تو اسے مرد کہا جائے "عورت بن عورت کیوں مردوں کی طرح ڈرتی ہے”

تاریخ سے ثابت ہے کہ عورت سوائے لال بیگ اور چھپکلی کے اور کسی سے نہیں ڈرتی پھر چاہے وہ بندوق والے حاضر سروس جنرل ہی کیوں نہ ہوں۔ جو بات کرتے ہیں عورت کی طرح بات کرنے کی۔ سابق جنرل مشرف کو بلاول سے صرف اس لیے ڈر لگ رہا ہے کہ وہ اپنی والدہ شہید رانی بے نظیر کی طرح بولتے ہیں۔ وہ بے نظیر جس کی زندگی مشرف جیسے چھپ کر مکا لہرانے والوں کو اوقات دکھاتے گزری ہے۔ بات کرتے ہیں عورت کی۔ جتنا پاکستان میں ظلم و آمریت کے خلاف عورت لڑی ہے اتنا تو مرد بھی نہیں لڑا، فاطمہ جناح، نصرت بھٹو، بےنظیر ، کلثوم نواز، مریم نواز، ملالہ، عافیہ، عاصمہ جہانگیر اور بھی بے شمار خواتین سیاست صحافت و سوشل میڈیا میں ہیں جن کے نام سے ظالم سے ظالم مرد کانپنے لگتے ہیں۔

خدارا حقیقت کو سمجھیں عورت ہر لحاظ سے ہر میدان میں طاقتور ہے اسے کسی کی تذلیل کرنے کے لیے ہتھیار اور گالی کی طرح استعمال نہ کریں۔ کیونکہ تمہاری اوقات لال بیگ اور چھپکلی جتنی بھی نہیں جس سے عورت کو ڈر لگتا ہے کئی خواتین تو لال بیگ سے بھی نہیں ڈرتی چھپکلی مارتے بھی دیکھا ہے ۔ فرق صاف ہے ہر ڈرپوک مرد بستر پر پڑا ہے کمر درد کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہے لیکن عورت کو جان کا خطرہ نظر آنے کے باوجود وہ ملک آجاتی ہے۔ لہذا ایسے بیانات کی مذمت ہونی چاہئیے۔

Views All Time
Views All Time
128
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ستر سال کا بوڑھا پروفیسر قومی سلامتی کے لئے خطرہ تھا؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: