Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

by فروری 4, 2018 کالم
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
Print Friendly, PDF & Email

جنسی ہراسانی کا کیس جو پچھلے دو سال سے خبروں میں تھا بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ نامور ادیب پروفیسر سحر انصاری پر ساتھی لیکچرار ڈاکٹر نوین حیدر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہوا اور ان پر کراچی یونیورسٹی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے۔ سب سے پہلے تو میں شکر گزار ہوں ڈاکٹر نوین اور ان کی لیگل ٹیم قاف سے قانون کی اور ان تمام خواتین کی جنہوں نے اس کیس کو اپنے قانونی انجام تک پہنچانے تک ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہم عورتوں کو امید کی ایک کرن دی۔ ہر عورت کے پاس جنسی ہراسانی کی ایک یا دو کہانیاں ضرور ہوتی ہیں جو اس کی چند سہیلیوں تک محدود رہتی ہیں یا پھر وہ انہیں اپنے دل میں دبائے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ کچھ مجھ جیسی ہوتی ہیں جو ٹھیک وقت کے انتظار میں برسوں خاموش رہتی ہیں۔ بہت کم عورتیں یہ حوصلہ رکھتی ہیں کہ اپنے گناہ گار کو سزا دلوانے کے لئے ہر لیگل فورم پر جا کر انصاف مانگیں۔ کیوں کہ یہ سفر بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے اور اکثر عورتیں خود کو اس میں تنہا پاتی ہیں۔

خود پر ہوئے ہر جرم کو ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ عورت پر ہی ہوتی ہے۔ جنسی ہراسانی میں عورت کو اک آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ اکثر ہراسانی کے کیسز میں ثبوت نہیں ہوتے۔ کسی نے کولہوں پر ہاتھ مار دیا، کسی نے دبوچ لیا، کسی نے اپنی پتلون کی زپ کھول دی۔ کسی نے نظروں سے ننگا کیا ان سب باتوں کا پروف کوئی کہاں سے لائے؟ ایسے میں کوئی عورت ہمت کرتی ہے تو ہم اسے ہی مجرم قرار دے دیتے ہیں۔ میں اس کیس کے بارے میں 2016ء میں ہی لکھنا چاہتی تھی جب یہ منظرعام پر آیا اور ڈاکٹر نوین کی کردار کشی ہوتے دیکھی کیوں کہ میں جانتی تھی وہ الزامات غلط ہیں۔ ایک تو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں کہ وہ کس کردار کی عورت ہیں دوسرا عمر کے اس حصے میں عورت اپنے سر پر خاک کیوں ڈلوائے گی۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ سرطان جیسے موذی مرض سے لڑ رہی ہو اور زندگی کے اس موڑ پر کھڑی ہو جہاں اہم فیصلے کرنے ہوں کہ اپنی زندگی بچانے کے لیے کس قسم کی ٹریٹمنٹ لینی ہے۔ جو سازش جوانی میں ادارے میں رہ کر نہ کی وہ اچانک زندگی کے اس نازک موڑ پر کیوں کرے گی؟

یہ ساری باتیں یہاں بتانا اس لیے ضروری ہیں تا کہ لوگ یہ جان سکیں کہ جنسی ہراسانی پر انصاف مانگنے والی عورتیں کوئی فلمی ویمپ نہیں ہوتیں جو بیٹھ کر سازشیں کرتی ہیں بلکہ مختلف مسائل میں گھری عام عورتیں ہوتی ہیں اور ہم ان کی کردار کشی سے کس طرح ان کی اذیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ چونکہ ہراسانی کا الزام لگانے والی سے میرا قریبی تعلق ہے میں نے ارادہ ترک کر دیا کہ کہیں میری کہانی کو سحر انصاری کے خلاف پروپیگنڈا قرار نہ دے دیا جائے اور کسی بھی وجہ سے یہ کیس کمزور نہ ہو جائے۔ اس خوف کی وجہ مردوں کا وہ گروہ تھا جو سحر انصاری کا دفاع ایسے کر رہا تھا گویا اردو ادب کا دفاع کر رہا ہو اور ایک جارحانہ کردار کشی کی مہم میں سرگرم تھا۔ ایسے میں میری غیر جانب دارنہ تحریر کو بھی اس کی طرف سے سازش ہی سمجھا جاتا۔ لیکن آج میں غیر جانب دار نہیں رہوں گی۔ آج میں اپنی اور ان تمام عورتوں کی طرف سے لکھوں گی جن کو اس ملک کے روشن خیال مردوں نے بےحد مایوس کیا ہے۔

جب میں نے ایک صحافی کی حیثیت سے لوگوں سے سحر انصاری کے متعلق پوچھ گچھ شروع کی تب میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی سوائے اس کے کہ ایک آدھ بار پریس کلب میں دیکھا تھا۔ صحافی دوست عورتوں سے لے کر ایکٹوسٹ مرد دوستوں اور یونیورسٹی کے طالب علموں تک سب نے یہی تاثر دیا کہ ان کا کردار کچھ اسی طرح کا ہے جس طرح کا الزام لگایا گیا ہے۔ کسی ایک نے بھی ان کے متعلق کوئی مثبت بات نہ کی۔ چند ایک نے تو جس میں ایک خاتون جو ایک بڑے چینل پر اچھی پوسٹ پر فائز ہیں، بتایا کہ موصوف ان کے ساتھ بھی اسی طرح کی حرکت کرنے کی کوشش کر چکے ہیں مگر وہ پبلک میں آ کر یہ بات نہیں کریں گی۔ یہ سب سن کر لگا کہ کیس تو بہت ہی آسان ہے۔ جیسے انگریزی میں کہتے ہیں "اوپن اینڈ شٹ کیس” لیکن میں غلط تھی۔ کیس قانونی طور پر تو یقیناً آسان تھا مگر سماجی طور پر ہرگز نہیں۔

ایک بیانیہ پھیلایا جا چکا تھا کہ ذاتی مفاد میں الزام لگایا گیا ہے اور اسی کی بنیاد پر انکوائری کی رپورٹ بھی تشکیل دی جا چکی تھی۔ سحر انصاری اپنے دفاع میں بھی اسی بیان کو بار بار پیش کرتے رہے اور اس کے علاوہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ یہ بیانیہ کس نے پھیلایا اور اس کی کیا صداقت ہے نہ اس پر کوئی انکوائری ہوئی اور نہ کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔ جب کہ اس پر انکوائری کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اس بیانیے اور اس کی وجہ سے آنے والے ردعمل سے ڈاکٹر نوین کس ذہنی دباؤ سے گزریں اسے میں نے بہت قریب سے محسوس کیا ہے لیکن کچھ مردانہ رویوں نے مجھے بھی خاصا حیران کیا۔ میں نے اس کیس میں پدر شاہی کو مضبوط کرنے والے وہ مرد دیکھے جنہیں میں روشن خیال اور پدر شاہی کے خلاف جنگ میں اپنا ساتھی سمجھتی رہی۔ ایک ایک کر کے کافی بت مسمار ہوئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ طبقاتی جنگ میں ساتھ کھڑے ہونے والے مرد پدر شاہی کے خلاف جنگ میں ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔
اس کیس سے پہلے میں نے روشن خیال مردوں میں اس طرح کا بھائی چارہ نہیں دیکھا تھا۔ شاید ہمیشہ ہی موجود تھا لیکن میں ان کی روشن خیالی کے سحر میں شاید دیکھ نہ پائی تھی۔ اس کیس کے دوران میں نے ایک قافلے کو جنم لیتے دیکھا۔

یہ بھی پڑھئے:   اگست کا مہینہ اور نواز شریف پر دباؤ

جنسی ہراسانی کا مرتکب ایک بوڑھا ادیب اور اس کو بچانے والا ایک ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ، پھر اس کا دفاع کرنے والا ایک صحافی، صحافی کا دفاع کرنے والا اینکر، اس کا دفاع کرنے والا اس کا ساتھی، اس ساتھی کے وفادار سنگی بیلی۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے ایک بھائی چارے کا ایسا گروہ بن گیا جو سحر انصاری سے زیادہ ایک جھوٹ کا محافظ بن کر کھڑا ہوگیا۔ لیکن مجھے گلہ اس گروہ سے نہیں بلکہ حیرانی اور مایوسی ان روشن خیال ساتھیوں سے ہے جنہوں نے سچ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی- وہ لکھاری، صحافی، تاریخ دان ، ٹیچرز ادیب کامریڈز جن کو پڑھتے، سنتے، عزت کرتے بچپن گزارا ان کو خاموش تماشائی پایا۔ مذمت تو دور کی بات ہمددری کے چند بول بھی ان کی زباں سے نہ سنے۔ ان میں سے کچھ مردوں کے ساتھ اکثر پریس کلب کے باہر محکوم قوموں کے لیے نعرے لگائے ہیں۔ لیکن عورت کی محکومیت ان روشن خیال مردوں کا مسئلہ نہیں۔ انقلاب آ جائے گا تو عورت خود آزاد ہو جائے گی۔ ان کے رویوں سے اندازہ ہوا کہ پدر شاہی کے خلاف جنگ عورتوں کو اکیلے ہی لڑنی ہے۔ روشن خیال مرد صرف ہمیں آزادی اور برابری کا پاٹ پڑھا سکتے ہیں اس کے حصول میں ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ عورت کی تاریخ لکھنا تو آسان ہے مگر ساتھی عورت کے ساتھ جنسی ہراسانی کے مقدمے میں ساتھ کھڑا ہونا مشکل۔

اکثر سوچتی ہوں کہ روشن خیال مردوں کی وہ کیا مجبوری ہے جو انہیں اس طرح کے کیسز میں خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کی خاموشی کو کیا نام دیا جاۓ؟ یہ کون سی والی خاموشی تھی جس کے لیے انہوں نے روشن خیال سوچ کو ہی داؤ پر لگا دیا؟ شرمندگی والی؟ بزدلی والی یا پدر شاہی کا دفاع کرنے والی خاموشی؟

لیکن ایک ایسی خاموشی بھی ہے جو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اور جس پر ان کی معافی جائز نہیں۔ ہراسانی ہوتے دیکھ کر خاموش رہنے والی خاموشی۔ یہ بات تو طے ہے کہ اکثر مردوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کے دوست یا کولیگ ہراسانی کرتے ہیں مگر وہ خاموش رہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ برسوں سحر انصاری عورتوں کو ہراساں کرتا رہا اور اس کے دوستوں اور ساتھی ادیب اور دانشوروں کو اس کا علم نہیں ہو سکا۔ جب کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ وہ تو "ٹھرکی”ہے۔

سوچتی ہوں کیوں کبھی ان کے دوستوں کو خیال نہ آیا کہ اسے روکیں؟ یا ٹوکیں؟ کیا سوچ کر وہ سب خاموشی سے دیکھتے رہے؟ کس چیز کا انتظار کر رہے تھے؟ اگر اسے وقت پر روک دیا گیا ہوتا تو کتنی عورتیں ذہنی اذیت سے بچ گئی ہوتیں۔ اگر روشن خیال مرد یہ ذمہ داری بھی نہیں لے سکتے تو ان کا سماج میں کیا کردار رہ جاتا ہے؟

سحر انصاری کا دفاع اور غیر منطقی دلائل
سحر انصاری کا دفاع بائیں بازو کے کچھ دانش ور کسی ضدی بچے کی طرح کر رہے ہیں- نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے- جب وجہ پوچھو تو کچھ غیر منطقی قسم کے دلائل پیش کرتے ہیں۔

1 : وہ فیض احمد فیض کے دوست تھے۔

2 : اردو ادب میں ان کی کافی خدمات ہیں۔

3 : وہ بزرگ ہیں۔

عرصہ دراز تک عورتوں کو اسی قسم کی بلیک میلنگ کے تحت چپ کروایا جاتا رہا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی روایات کے نام پر، کبھی ملکی مفاد میں اب اردو ادب کی دہائی۔ مگر اب ہم کسی کی عمر یا ادب میں خدمات کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھائیں گے۔ ہراساں کیا ہے تو سزا بھی بھگتو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کا دفاع کرنے والوں میں سے ایک دانش ور بھی ان کے کردار کی گواہی دینے محتسب اعلی کے سامنے پیش نہ ہوا۔ نہ سحر انصاری اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لئےکوئی ثبوت پیش کر سکے ۔ جب کہ ڈاکٹر نوین نے کئی ثبوت بھی دیئے اور ان کی گواہی دینے معتبر خواتین جن میں ڈاکٹر عذرا طلعت سید بھی شامل تھیں گئیں۔ پھر بھی روشن خیال مرد ہیں کہ آج بھی سحر انصاری کا دفاع کئے جا رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ چند مرد دانش ور نہیں بلکہ خود کو بائیں بازو کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ جہاں وہ فیصلہ کریں گے کہ عورت پر ہونے والا کون سا جرم بڑا ہے اور کون سا چھوٹا۔ اور کس کو سزا ملنی چاہئیے اور کس کو معاف کر دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   ہند و پاک کی سیاست ماقبل تقسیم سیاست کی باز گشت ہے - آخری حصّہ | عامر حسینی

جنسی ہراسانی اور مردانہ سوچ :
عورتوں پر تشدد کی لسٹ میں جنسی ہراسانی سب سے آخر میں آتی ہے۔ مرد اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریپ سے پہلے کا مرحلہ ہراسانی ہے اور جنسی ہراسانی بھی عورت کو اسی طرح متاثر کرتی ہے جس طرح ریپ اور دوسرے تشدد کے واقعات اور برسوں تک اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کوئی آپ کی مرضی کے بغیر چھوئے، اس کا احساس آپ کو کتنی ذلت کے احساسات سے گزارتا ہے یہ یا تو ایک عورت سمجھ سکتی یا پھر وہ مرد جو خود اس کا شکار رہا ہو۔ اکثر مرد جو بچپن میں اس طرح کے واقعات سے گزرتے ہیں بڑے ہو کر یا تو خود ریپسٹ بن جاتے ہیں یا شدت پسند انسان۔ لیکن اس کے برعکس عورت خاموش رہ کر گھٹتی رہتی ہے اور دونوں ہی صورتوں میں نقصان سماج کا ہوتا ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ سماج کا پڑھا لکھا مرد بھی ہراسانی کو قابل قبول جرم سمجھتا ہے۔ جیسے کہ چھوٹی سی چوری پر کسی مجرم کو کیا کچہری لے جانا صرف ڈانٹ ڈپٹ کافی ہے۔ اس لئے جب عورتیں ہراسانی کے لیے قانونی راستہ اپناتی ہیں تو اکثر مرد اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں کیوں کہ ہراسانی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔

چند ایک خیرخواہوں نے ڈاکٹر نوین کو بھی یہی مشورہ دیا کہ کن چکروں میں پڑ گئی ہو۔ چھوڑو یہ سب اور کام کرو۔ مجھے خوشی ہے انہوں نے ان کی بات نہیں سنی اور اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہیں۔ ورنہ آج ہمارے پاس کامیابی کی کوئی کہانی نہ ہوتی۔ اور نہ ہی کراچی میں مختلف جامعات میں جنسی ہراسانی پر بات ہو رہی ہوتی۔ اس کیس سے جو ملک میں مباحثہ شروع ہوا ہے وہ ہماری بچیوں کے تحفظ کے لیے بہت اہم ہے۔ کچھ مرد تو آج بھی ہراسانی کو مردانہ حق سمجھتے ہیں۔ وہ حق جو سالہا سال سے پدر شاہی نے ان کودے رکھا ہے اور جس کا انہوں نے بغیر کسی احتساب کے استعمال کیا۔ یہ سوچ خصوصاً پرانی نسل کے مردوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ سحر انصاری کے بیانات جو پریس میں آئے ہیں اس سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ عورت کو ان کی مرضی کے خلاف پکڑنا، نازیبا گفتگو کرنا یا غیر موزوں وقت پر کال کرنے کو اپنا حق یا اپنا پریولیج سمجھتے ہیں۔

یہ بات کس طرح ان مردوں کے شعور سے نکالی جائے کہ یہ ان کا حق نہیں بلکہ جرم ہے۔ نئی نسل کے روشن خیال مرد شاید اس فرق کو سمجھتے ہیں اسی لیے انہوں نے اس کیس میں روشن خیالی کی آڑ میں چھپے جنسی ہراسانی کے مرتکب سحر انصاری اور انہیں بچانے والی مافیا کے بچانے ڈاکٹر نوین کا ساتھ دیا اور ہر قدم پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ساری امیدیں اب اسی نسل سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر نوین نے جنسی ہراسانی کے خلاف اس جنگ میں کیا کچھ کھویا، انہیں کیا کیا سہنا پڑا ، یہ تو ان کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا مگر یہ جنگ یقیناََ آسان نہیں تھی اور اسے مشکل بنانے والے اس کے اپنے ساتھی اساتذہ اور بائیں بازو کے روشن خیال مرد تھے۔

Views All Time
Views All Time
272
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: