Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندان کی چیخ

by مئی 25, 2016 اداریہ
زندان کی چیخ
Print Friendly, PDF & Email

zindan ki cheekh"قلم کار” معروف صحافی، دانشور و کالم نگار حیدر جاوید سید کی بدنام زمانہ شاہی قلعے کی جیل میں کٹے اسیری کے دنوں کی داستان کو سلسلہ وار اپنی ویب سائٹ پہ شایع کرنے جارہا ہے.
‘زندان کی چیخ ‘ ایک دلخراش داستان ہے اس زمانے کی جسے پاکستان کی سیاست کا سب سے پرآشوب اور خوفناک جبر کا زمانہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا، اس زمانے میں شاہی قلعے کی جیل محض ایک جیل نہ تهی بلکہ حیدر جاوید سید نے اسے بالکل ٹهیک ‘بوچڑ خانہ ‘ سے تعبیر کیا ہے اور اس جیل کے اندر کیا کیا ستم ڈهائے جاتے تهے اور ظلم کے کون کیسے کیسے پہاڑ توڑے جاتے تهے ان کاجاننا آج کی نوجوان نسل کے لیے اس لیے بهی ضروری ہے کہ ان دنوں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے چند رہنماوں کی پهانسیوں پہ بہت شور مچا ہوا ہے اور جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ انسانی ضمیر ایسے واقعات پہ خاموش نہیں رہا کرتے اگر مردہ نہ ہوگئے ہوں تو …. مگر جس زمانے کی داستان اسیری حیدر جاوید سید بیان کرنے لگے ہیں اس زمانے میں جماعت اسلامی کے صحافیوں ، دانشوروں اور رہنماوں کے ضمیر جنرل ضیاء الحق کی مراعات کے ڈی فریزر میں جمے پڑے تهے یا انکل سام کے جہادی ڈالروں کے بوجه تلے دبے ہوئے تهے اس لیے شاہی قلعے کے بوچڑ خانے میں حیدر جاوید سید کی چیخیں ، بیگم رانا شوکت محمود کی برهنگی اور زهنی توازن کهونے پہ ہمیں کوئی صدائے احتجاج بلند ہوتی نظر نہیں آئی اور آج تک کسی نے معافی بهی نہیں مانگی
حیدر جاوید سید جیسے صحافیوں ، دانشوروں ، سیاسی کارکنوں ،شاعروں اور ادیبوں کا کیا قصور تها کہ ان کو شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں ازیتیں سہنے کے لیے ڈال دیا گیا اور اس پرآشوب دور کو ہماری نصابی کتب ہائے تاریخ و مطالعہ پاکستان میں شاندار اسلامی دور لکها جاتا ہے
حیدر جاوید سید کی داستان اسیری سرکاری و درباری بیانیہ تاریخ کے مقابل عوامی تاریخ کا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے اور بالواسطہ یہ پیغام دینے کی بهی
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخرشب
ہمارے بعد اندهیرا نہیں اجالا ہے

Views All Time
Views All Time
1338
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اداریہ
Previous
Next

One commentcomments

  1. قلم کار آج پہلی دفعہ پڑھنے کا موقعہ ملا، پہلے تو قبلہ شاہ صاحب اسکے اجرا پرآپکو اور آپکی پوری تیم کو دلی مبارک باد جرمنی سے تما م ساتھیوں کی طرف سے قبول فرامائیں باقی تو انشااللہ اب رابطہ بھی رہے گا،مجھے امید ہے کہ قائداعظم کے پاکستان کو آججس طرح ضیاء مردود کے خیالات کے مطابق چلایا جارہا ہے اسکا پردہ چاک کرنے اور ضیاء دور میں کیا کچھ ظلم ہوتا رہا آپ کے اسقلم کار کے زریعے عوام کی ہنی نسل تک پہنچے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: