Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

موجودہ دور کے فتنےاور ہماری ذمہ داریاں

موجودہ دور کے فتنےاور ہماری ذمہ داریاں
Print Friendly, PDF & Email

Wadoodدینِ اسلام سلامتی اور رواداری کا مذہب ہے. تاریخ نے مسلمانوں سے بڑھ کر کسی کو وفادار نہیں پایا اور نہ ہی اسکے سامنے کوئی ایسی مِلت آئی جو مسلمانوں سے بڑھ کر رحم دل اور انصاف پسند ہو یا اِن سے زیادہ خوش خلق اور بہتر عہد کی پاسداری کرے اور پھر اسکونبھائے.
یہی وجہ ہے کہ یہ دین باقی ادیان کے مقابلے میں انسانی جان ومال اور عزت و آبرو کا تحفظ فراہم کرنے میں اپنی مثال آپ ہے. اسکو غیروں نے بھی تسلیم کیا اور اس امن و سلامتی اور باہمی اخوت و ہمدردی کو دیکھتے ہوئے اسکو قبول بھی کیا.
نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی ہمدردی اور خیر خواہی کی بنیاد پر لوگوں کو دعوتِ اسلام دی. انکی دعوت میں شدت اور سختی کا عنصر ہرگز نہ پایا جاتا تھا, آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ الرحمٰن کے حُکم اور رضا کے مطابق بطریقِ احسن, خوش اسلوبی, شائستگی اور حکمت کے تحت ارشاداتِ ربانی کی روشنی میں ” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دی اور انکے ساتھ بہتریں طریقے کے ساتھ بحث کرو ” (النحل:125) لوگوں کو دین کی دعوت دیتے تھے.
رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کے بارے میں روادرانہ جذبات کی ترجمانی ان الفاظ میں کی.. "” اے نبی! شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے "”(الشعراء. 3)-
خوش اسلوبی, محبت, نرمی, خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبے سے سر شار ہو کر دعوتِ دین پیش کرنا اسلام کا امتیازی اور نمایاں ترین وصف ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” میں تُم کو تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ سے دُور کرتا ہوں اور تُم اس میں گرتے جاتے ہو. (البخاری:6453). رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کی خیر خواہی اور محبت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اُمت کو مُستقبل میں آنے والے فتنوں اور فسادات سے آپنی حیاتِ مُبارکہ میں آگاہی فراہم کردی اور خبردار کیا اور ان سے دور رہنے کی نصحیت بھی فرمائی. ان میں سب سے خطرناک خوارج اور تکفیرکافتنہ ہے. یہ فتنہ اُمتِ محمدیہ کے لئے انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کو اندرونی طور پر بھی نقصان پہنچا رہا ہے. اسطرح یہ فتنہ دعوتِ اسلام کی راہ میں رکاوٹ اور بدنامی کا سبب بھی بن رہا ہے. چند شر پسند اور اسلام دشمن عناصر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اس غیر اسلامی طریقۂ کار سے دینِ حق کو بدنام کر رہے ہیں اور نتیجہً دینِ اسلام غیر مسلموں کے سامنے ایک خوفناک, بھیانک, سنگدلانہ اور سفاکانہ طور پر پیش کیا جا رہا ہے. اس فتنہ میں اپنے ہی مسلمانوں کا ناحق خون بہایا جارہا ہے.
اس گمراہ کن فعل کا آغاز صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں ہی شروع ہوگیا تھا اور یہ مختلف ناموں اور طریقوں سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا رہا. گزشتہ کئی دہائیوں سے سرزمین پاکستان بھی اس فتنے سے دوچار ہے اور اب تو یہ شدت اختیار کر گیا ہے. خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے بے گناہ معصوم جانوں کو نشانہ بنا کر اُڑا دیا جاتا ہے. اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو فتووں کی ذذر میں رکھ کر قتلِ مسلم کے اس گھناؤنے فعل کو سر انجام دیا جاتا ہے.
موجودہ دور میں تمام علماء اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اُمت کی رہنمائی کریں اور اسباب کی نشاندہی کریں تاکہ سارے مسلمان اس فتنے سے بچھ سکیں اور انسانی جانوں کا ضیاع نا ہو اور وہ بھی بلا وجہہ…ارشادِ باری تعالیٰ ہے..
” اور جو کسی مومن کو جان بُوجھ کر قتل کرے تو اسکی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا. "(انساْء:93). اور بات مومن تک ہی نہیں ختم,, کسی بھی ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا…
اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ ہم سب کو اس فتنے سے محفوظ رکھے اور دین اسلام کی طرف ہماری رغبت و رہنمائی فرمائے… آمین..

Views All Time
Views All Time
948
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   کل الخیر المحتجب ۔۔۔ہر خیر محجوب ہوئی ہے - مستجاب حیدر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: