گندے نالے میں راکھ بہا دو!!

Print Friendly, PDF & Email

Maaida Mahmoodوہ بہت خوبصورت تھی، پیاری، سانولی رنگت، گہری آنکھیں، جامنی ہونٹ، لمبے سیا ہ بال جو اس کی کمر سے بھی نیچے آتے تھے،
نازک کلائیوں میں من بھر چوڑیاں۔ کانوں میں تین چھید۔ ایک میں جھمکا، دوسرے میں بالی اور تیسرے میں موتی۔ لال بنارسی ساڑھی پہنے ، ناک میں نتھ ڈالے وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی۔
اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت ہاون دستہ لیے کچھ پیسنے میں مصروف تھی۔اس نے سات کیلے مسلے اور ان میں چٹکی چٹکی بھنگ ملانا شرو ع کی۔ ’’یہ تو میاں کی من چاہی تھی‘‘ مجمع میں سے ایک آوازآئی۔ ادھیڑ عمر عورت نے کشمش کے دانے ڈالے۔ مرکب کو لکشمی کے منہ میں زبردستی ٹھونسا۔ اور اب لکشمی تیار تھی اور وجے کی ارتھی بھی۔ سورج سر پرآن پہنچا تھا اور تماشا تھا کہ شرو ع ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔عورتوں کے جھرمٹ میں چل کر لکشمی شمشان تک آئی۔ شمشان گھاٹ میں چونٹیوں کی سرسراہٹ کی آواز مزید نمایاں ہو گئی۔
لکشمی کے چہرے پر کیا تھا؟ میں نے کھوجنا چاہا۔
صرف خاموشی۔
نالائق بچے کی سلیٹ کے جیسا چہرہ۔
کوئی تحریرکوئی خط، کوئی جذبات نہیں ۔
وہ وجے کی چتا پر بیٹھ گئی۔
اور چپ چاپ بیٹھی رہی ۔
بھائی نے چتا کو آگ لگائی۔
خاموشی سے جلتی رہی۔
ہوا میں شعلے بلند ہوتے رہے۔
ستی کی رسم ختم ہوئی۔
شمشان میں موجود ایک عورت نے کچھ ٹوٹا پگھلا زیور راکھ میں سے ڈھونڈا ، وجے کی ماں کو دیا۔اور لکشمی کی ماں کے حصّے میں بس لکشمی کی راکھ آئی۔ماں نے راکھ پلو میں باندھی اور چل پڑی۔کہتے ہیں کہ جوان کی راکھ کا وزن بہت ہوتا ہے۔وو کہاں پھرتی یہ بوجھ اٹھائے ، کون جاتا گنگا تک؟ راستے میں گندا نالا آیا ’’ آتما کی شانتی کا کیا ہے، سب کو مل جاتی ہے۔‘‘ ماں نے یہ سوچا اور وہیں پلو جھاڑ دیا۔
یوں شمشان کا تماشا تمام ہوا اور سب گھر لوٹے۔
’’شکر ہے، میں مسلمان ہوں، ہمارے یہاں یہ رسوم نہیں۔ الحمدللہ۔ ‘‘میں نے دل میں سوچا۔
’’رسم نہیں تو کیا ہوا، تم بھی تو لکشمی ہو‘‘ گندے نالے میں سے لکشمی کی آواز آئی۔
’’ن ۔۔ن ۔۔نہیں ۔۔میں لکشمی نہیں، تم ہو لکشمی، میں جانتی ہوں تم ہو‘‘ میں نے گھٹی ہوئی آواز میں کہنا چاہا۔
’’ہا ہا ہا‘‘ اس کی ہنسی گونجی ، ’’نہیں تم بھی لکشمی ہو تم بھی کل جلو گی ،کسی وجے کی چتا کے ساتھ ۔ جلانے والے کی مجبوری، جلنے والی کی سزا، اور وجے کو کچھ پتا بھی نہیں چلے گا۔ پتہ ہے لڑکی؟‘‘ اس کے چہرے پر آنسو بہنے لگے۔ ’’وجے کو شانتی مل گئی، اس کی رکھ گنگا میں بہہ گئی‘‘
’’اور تمہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’مجھے یہیں مل جائے گی شانتی ۔ ہا ہا ہا اور تمہیں بھی مل جائے گی جب تم جلو گی‘‘ اس نے آنسو صاف کر کے قہقہہ لگایا۔
’’میں کیوں جلنے لگی؟ میں مسلمان ہوں۔لاالہٰ الّاللہ محمّدالرسول اللہ۔دیکھو میں مسلمان ہوں ‘‘ میں نے کلمہ پڑھ کر صفائی دینی چاہی۔
’’نہیں تم عورت ہو صرف عورت ہو، سیتا ماں بھگوان ہوتے ہوئے بھی عورت ہی رہی۔ہر عورت جلتی ہے، بس جلتی رہتی ہے۔اس کو گندے نالے کہ پانی میں شانتی ملتی ہے۔سیتا ماں بھی سب کے سامنے جلی، میں بھی سب کے سامنے جلی اور تم بھی سب کے سامنے جلتی ہو‘‘۔
سڑے ہوئے گوشت کی بدبو سے میرا دل بند ہوا جا رہا تھا۔فضا میں گاڑھے خون کی سی گرمی، میں نے ہمت کر کے اس سے کہا: ’’لکشمی تم یہاں سے چلی جاؤ ناں ‘‘
’’نہیں، میں ہمیشہ سے یہیں رہتی آئی ہوں۔پہلے وہاں دفن ہوتی تھی ‘‘ اس نے گندے نالے کے ایک طرف اشارہ کیا۔ بالشت بھر گوشت کے لوتھڑوں کی ڈھیری لگی تھی۔ ’’پھر اس کوڑے دان میں پھینکی گئی ‘‘ اس نے دوسری کی طرف اشارہ کیا، غلاظت کے انبار میں سے کہیں کہیں کوئی مناسا ہاتھ جھانک رہا ہوتا۔’’ایک دن ساس نے جلا دیا، اگلے دن میاں نے گلا گھونٹ کے مارا۔ پھر میرامنہ تیزاب سے دھویا گیا، خون کی لالی لگی اور میں پھر سے ستی ہونے کے لیے دلہن بن گئی۔‘‘
میں اسی گندے نالے میں رہتی ہوں، ہم سب یہیں رہتے ہیں، یہاں ہم جیسوں کے لیے شانتی ہے، دیکھنا تم بھی یہیں آؤ گی ‘‘
اس سے بحث بیکار تھی، میں سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی، کہ پیچھے بہت رش تھا، مائیں پلو میں راکھ باندھے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔

Views All Time
Views All Time
653
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انجانا احساس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: